Main Sliderبلاگ

ضرورت کس امر کی ہے؟

کرسٹ چرچ میں مسلمانوں پر حملے کے بعد  نیوزی لینڈ میں غیر مسلم اقوام کی طرف سے جس اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا وہ تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھنے کے قابل ہے۔  پھر چاہے وہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی مسلمانوں کی دلجوی کے مختلف انداز یا پھر نیوزی لینڈ کی عوام کے مسلمانوں کے لیے کیے گئے حفاظتی اقدامات کبھی  وزیر اعظم، پولیس والی خواتین اور عام غیر مسلم عورتیں دوپٹہ اوڑھتی ھیں کبھی احادیث کے حوالے دیئے جاتے ہیں۔

 سرکاری اجلاس قران کریم کی تلاوت سے شروع کئے جاتے ہیں اور کبھی سرکاری سطح پر اذان دی جاتی ہے۔ کبھی یہ لوگ مساجد کے باہر جمع ہو کر خاموشی اختیار کر کے اور پھول دے کر مسلمانوں سے یکہجتی اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔  مذاہب کا احترام، باہمی ہم آہنگی، بھائی چارہ، برداشت، اور ذہنوں کی وسعت ایک ایسا عمل ہے جو افراد، سوچ، رنگ و نسل اور مذاہب کو قوم میں بدل دیتی ہے۔ اسلام تو وہ پر امن دین ہے جہاں مسکرانا مسکرا کر دیکھنا بھی باعث ثواب ہے جہاں ایک جان کو مارنا تو درکنار راستے سے پتھر ہٹانے پر یا اذیت دہ چیز ہٹانے پر بھی اجر ہے۔

 اسلام فوبیا سے ڈر کر لوگ آج مسلمانوں کو دہشگرد کہہ رہے ہیں حالانکہ اس دین مبین کی تاریخ میں ہم نے وہ واقعہ بھی پڑھا کہ جب مکہ فتح ہوا  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس انداز سے مکۃ المکرمہ میں داخل ہوے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر اقدس عاجزی سے جھکا ہوا ہے ایک صحابی رسول فرماتے ہیں آج بوٹیاں اڑانے کا دن ہے ( یعنی آج بدلہ لینے کا دن ہے )

لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں آج رحم کرنے کا دن ہےاور تاریخ کاایک سنہری باب رقم ہوتاہے جہاں کفار مکہ اپنا عبرت ناک انجام سوچ رہے ہوتے ہیں وہیں رحمۃ للعالمین فرماتے ہیں۔  جاو  آج تم سب آزاد ہو یہ ہے اسلام جو لوگوں کوتحفظ فراہم کرتاہے جس کے پیروکار وہ  پرامن لوگ ہیں ہیں کہ جس دہشت گرد نے سفاکانہ طریقےسے گولیاں برسائیں شہید  نعیم راشد کی زوجہ نے اسے بھی معاف کرکے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی وہ مریم جس نے اس حملےمیں اپنے والد اور بھای کو بظاہر کھودیا اس کی بھی یہی خواہش ہے کہ اس  سفاک دہشتگرد تک قرآن کریم کا ترجمہ پہنچایا جاے تاکہ وہ حقیقی اسلام کو جانے کیونکہ اسلام امن کا داعی ہے جو مساوات اخوت  صلہ رحمی عفو و درگزر کا حکم دیتا ہے جہاں ریاست ایک ماں کی طرح تحفظ فراہم کرتی ہے لیکن اگر ہم اپنے ملک کا جائزہ لیں تو کیا ہم اسلام کے مطابق اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کررہے ہیں جہاں غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کو تحفظ دیا گیا اسی جمعۃ المبارک کے دن اسلامی ریاست میں عالم دین پر جمعہ کی نماز کے لیے جاتے ہوے حملہ کیا گیا جس میں محافظ پولیس اہلکار شہید ہوگیا کیا شہید پولیس اہلکار فاروق کے سات بچے جن میں سے تین نابینا ہیں کیا ریاست ان کے دکھ کو محسوس کرتے ہوے انہیں ان کے حقوق ادا کرے گی۔

وقت ہے اپنے آپ کے احتساب کا ہم انفرادی طور پر اپنا جائزہ لیں  کہ کیا ہم ہم سے وابستہ لوگوں کے حقوق ان کی خوشیوں کا خیال رکھتے ہیں ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر عمل کے بعد  وقت آے گا جب ہم  وہ مسلمان ہونگے کہ جس کےجسم کے  بعض حصے پر درد ہو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ بہر حال نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم و نیوزی لینڈ کی عوام لائق تعریف ہیں اللہ اس حسن سلوک کا انہیں انعام عطا فرماے ان کا دل اسلام کی طرف مائل کردے آمین۔

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الناس معادن كمعادن الذهب والفضة، خيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام إذا فقِهوا» (رواه البخاري: [3383]، ومسلم: [2638] واللفظ له).

جو شخص یہود، نصرانی ، ھندو یا بدھ مت ہوتے ہوئے کردار ءمیں ، اخلاق میں اچھا ہے وہ مسلم ہو کر بھی اچھا رہے گا بلکہ اور نکھر جائے گا کیونکہ لوگ معادن ( سونا، چاندی ، پیتل ، لوہا) کی طرح ہوتے ہیں۔۔

اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close