Main Sliderبلاگ

زندگی سے موت تک کا سفر

سفر زیست اتنا آساں بھی نہیں، موت سے پہلے موت آجاتی ہے جب انسان کچھ کرنے کی خواہش میں بھی کچھ نہ کر پائے، جان سے بڑھ کر عزیز کو جان کنی میں دیکھنا، اپنی مقدس سرزمیں پر غداروں کو وقت کا حاکم دیکھنا، حق کے علمبرداروں کو ظلم و جبر کی کوٹھریوں میں قید دیکھنا، شہ رگ کشمیر کو طالوتوں کے ہاتھوں سبوتاژ ہوتے دیکھنا، بارکنا حولہ کے مصداق سرزمین ارض مقدسہ فلسطین کو۔

وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الۡمَسۡکَنَۃُ کے مصداق یہودیوں کو حکمرانی کرتے دیکھنا، ان کیفیات کے مجموعے کے نام ” بے بسی ” ہے جاٸزہ لیا جائے کہ اس بے بسی کو ہم پر کس نے مسلط کیا تو شعور اس کا ایک ہی جواب دیتا ہے وہ ہے”خواہش” ہماری خواہشات کے بے لگام گھوڑے جنہیں ہم نے چراگاہ میں چرنے کے لیے بغیر کسی حدود و قیود کے چھوڑا ہوا ہے۔

پھر چاہے وقت کے موجودہ حکمران ہوں یا سابقہ یا ہمیشہ سے حکمرانوں کی نااہلی کا رونا روتی عوام سب نے اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات کو ترجیح دی، پھر جب انسان ان خواہشات کے بھنور میں گرتا ہے تو اس کے شعور کے کسی ایک کونے میں ندإ رحمانی گردش کرتی ہے۔

اَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰی (۲٤ النجم)

ترجمہ:

کیا آدمی کو مل جائے گا جو کچھ وہ خیال باندھے

ما کل ما یتمنی المرٕ یدرکہ

تجری الریاح بما لا تشتھی السفن

(شاعر)

ترجمہ:

ہر وہ چیز جس کی انسان خواہش کرے ضروری نہیں کہ اسے مل جائے ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہواٸیں کشتیوں کہ مخالف سمت چلتی ہیں،  اور جب انسان ان خواہشات کے جنگل میں گھومتا ہے تو اس کا نفس اس سیرگاہ کا اتنا عادی ہوجاتا ہے کہ رب کے فرمان کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔

غَرَّتۡکُمُ الۡاَمَانِیُّ حَتّٰی جَآءَ اَمۡرُ اللّٰہِ وَ غَرَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۱۴ الحدید ﴾

ترجمہ:

اور جھوٹی طمع نے تمھیں فریب دیا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور تمہیں اللہ کے حکم پر اس بڑے فریبی نے مغرور رکھا۔ اور جب اسے حقیقت کا ادراک ہوتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ آج تک پانی پر خواہشات کا محل تعمیر کررہا تھا جن چیزوں کے پیچھے کامیابی کی خاطر بھاگ رہا تھا وہ تو محض نظر کا دھوکہ تھی کامیابی کی صدإ حی علی الصلاة حی علی الفلاح خود اسے اپنے قریب بلارہی تھی، ہاٸے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا تب رب کریم کا اعلان اسکی سماعتوں میں گونجتا ہے جو انسان کے سوچ کے ارتعاش کے لیے کافی ہے۔

اَلۡمَالُ وَ الۡبَنُوۡنَ زِیۡنَۃُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ الۡبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیۡرٌ عِنۡدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ اَمَلًا ﴿۴۶ الکہف ﴾

ترجمہ:

مال اور بیٹے یہ جیتی دنیا کا سنگھار ہے اور باقی رہنے والی اچھی باتیں ان کا ثواب تمہارے رب کے یہاں بہتر اور وہ امید میں سب سے بھلی۔ نیک اعمال باقی رہنے والے اعمال کی امید کا دیا اب بھی برقرر ہے صدقہ جاریہ جو دنیا قبر آخرت ہر جگہ باعث رحمت برکت و نجات ہیں جن پر عمل پیرا ہونا نہایت آسان ہے اگر ہمیں آخرت کی زندگی کا سکون چاہیے تو خواہشات کے جنگل سے نکل کر دوسروں کے لیے جینا سیکھنا ہوگا اسی سے ایک پرامن اسلامی معاشرے کا قیام ممکن ہے۔

اپنی زندگی میں صدقات کی فروانی کی عادت ڈالنی ہوگی پھر صدقہ چاہے مال کا ہو یا اعضإ کا ذیل میں چند باتیں کہ جن پر عمل کرکے ہم دنیا و آخرت کو سنوار سکتے ہیں۔

عَنْ أَبِي مُوْسَی الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ. قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: فَيَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ. قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: فَيُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ. قَالُوْا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: فَلْيَأْمُرْ بِالْخَيْرِ. أَوْ قَالَ: بِالْمَعْرُوفِ. قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: فَيُمْسِکُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الأدب، باب کل معروف صدقة،  الرقم ومسلم في الصحيح، کتاب الزکاة، باب بيان أن اسم الصدقة يقع علی کل من المعروف، الرقم

:ترجمہ

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے لیے صدقہ ضروری ہے۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ اگر کوئی شخص اِس کی اِستطاعت نہ رکھے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھوں سے کام کرے، جس سے اپنی ذات کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ لوگوں نے عرض کیا: اگر اس کی طاقت بھی نہ ہو یا ایسا نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرورت مند اور محتاج کی مدد کرے، لوگ عرض گزار ہوئے: اگر ایسا نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چاہیے کہ خیر کا حکم کرے یا فرمایا کہ نیکی کا حکم دے۔ لوگوں نے پھر عرض کیا: اگر یہ بھی نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ برائی سے رکا رہے کیونکہ یہی اس کے لیے صدقہ ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ اپنے اندر عاجزی پیدا کریں درگزر کو عام کریں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، عَنْ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اﷲُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌِﷲِ إِلَّا رَفَعَهُ اﷲُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالدَّارِمِيُّ.

:ترجمہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ مال میں کچھ بھی کمی نہیں کرتا، بندے کے معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ اس کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ ہی بلند فرماتا ہے۔ کمزورں محتاجوں مسکینوں کی جہاں تک ہوسکے مدد کریں خودنمای کے فریب سے بچتے ہوے

أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَطْعَمَ مُؤْمِنًا عَلٰی جُوْعٍ أَطْعَمَهُ اﷲُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَقٰی مُؤْمِنًا عَلٰی ظَمَإٍ سَقَاهُ اﷲُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الرَّحِيْقِ الْمَخْتُوْمِ، وَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ کَسَا مُؤْمِنًا عَلٰی عُرْيٍ، کَسَاهُ اﷲُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّةِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاؤدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

:ترجمہ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مومن کسی دوسرے مومن کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن جنت کے پھل کھانے کے لئے دے گا۔ جو مومن کسی دوسرے مومن کو پیاس کی حالت میں پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے مہر لگائی ہوئی شرابِ طہور پلائے گا، اور جو مومن کسی برہنہ مومن کو لباس پہنائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کا سبز لباس پہنائے گا۔

اھدنا الصراط المسقیم کے سفر میں ایک سڑک جو کم و بییش سنسان نظر آتی ہے وہ حسن اخلاق کی نرم گفتار سے کام لیں خندہ پیشانی سے ہر ایک سے ملیں۔ حضور ﷺ کا فرمان عالیشان ہے

مَا مِنْ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ وَإِنَّ صَاحِبَ حُسْنِ الْخُلُقِ لَيَبْلُغُ بِهِ دَرَجَةَ صَاحِبِ الصَّوْمِ وَالصَّلَاة رواه الترمذي

:ترجمہ

میزان میں رکھی جانے والی چیزوں میں سے اخلاق حسنہ  (اچھے اخلاق ) سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہے، اور اخلاقِ حسنہ کا حامل اس کی بدولت روزہ دار اور نمازی کے درجہ تک پہنچ جائے گا۔

ان کلمات کو ورد بنالیں

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

“”كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ وبحمدہ ‏‏‏‏‏‏سُبْحَانَ اللَّهِ العظیمِ”

(رواه البخاري: [6406

دو کلمےایسے ہیں جو زبان پر

ہلکے، ترازو میں بہت بھاری اور رحمان کو بہت پیارے ہیں وہ ہیں «سبحان الله وبحمدہ،‏‏‏‏ سبحان الله العظیم»۔“

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إِنَّ اللَّهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا ؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَا يَا رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَفَلَكَ عُذْرٌ ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَا يَا رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً فَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَخْرُجُ بِطَاقَةٌ فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ احْضُرْ وَزْنَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كَفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي كَفَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللَّهِ شَيْءٌ..

(رواه أحمد: [6699]، والترمذي: [2639])

”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا اور اس کے سامنے (اس کے گناہوں کے) ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے، ہر دفتر حد نگاہ تک ہو گا، پھر اللہ عزوجل پوچھے گا: کیا تو اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا تم پر میرے محافظ کاتبوں نے ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا

نہیں اے میرے رب! پھر اللہ کہے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟

تو وہ کہے گا

نہیں، اے میرے رب! اللہ کہے گا ( کوئی بات نہیں ) تیری ایک نیکی میرے پاس ہے.

آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم ( و زیادتی ) نہ ہو گی، پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں لکھا ہو گا

اللہ فرمائے گا

جاؤ اپنے اعمال کے وزن کے موقع پر ( کانٹے پر ) موجود رہو،

وہ کہے گا

اے میرے رب! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: تمہارے ساتھ زیادتی نہ ہو گی۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا

پھر وہ تمام دفتر ( رجسٹر ) ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں، پھر وہ سارے دفتر اٹھ جائیں گے، اور پرچہ بھاری ہوگا۔ .

اور سچی بات یہ ہے کہ  اللہ کے نام کے ساتھ ( یعنی اس کے مقابلہ میں  جب کوئی چیز تولی جائے گی، تو وہ چیز اس سے بھاری ثابت نہیں ہو سکتی۔

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اخلاص کے ساتھ توحید کا اقرار گناہوں کیلئے کفارہ بن جاتا ہے اور اسی طرح اس بات کا بھی علم ہوا کہ روز قیامت اعمال کیلئے میزان مقرر کیا جائے گا جس پر لوگوں کے اعمال کا وزن ہوگا۔

حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کی کوشش کریں تو دنیا و آخرت دونوں کی بھلاٸیاں حاصل ہونگی اور یہی نیک اعمال ہیں جو قبر کی وحشتوں میں ساتھ ہونگے انہی کے حصول کی خواہش رکھنی چاہیے کبھی ہم اپنی ذات کے داٸروں سے باہر نکلیں تو احساس ہو الا کل شٸ ما خلا اللہ الباطل

فَلِلّٰہِ الۡاٰخِرَۃُ وَ الۡاُوۡلٰی ﴿۲۵ النجم

ترجمہ

آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ ہی ہے

اللہ عزوجل ہمیں عمل کی توفیق عطا فرماے آمین۔

انزل عبدالستار

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close