Main Sliderبلاگ

ہر دل کی آواز: پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد

دین سے محبت ہر مسلمان پر لازم ہے۔ مذہب میں توحيد اور رسالت پر ایمان جیسے کئی معاملات ایسے ہیں جن پر بغیر سوچ بچار اور بحث مباحثہ کیے بغیر سر خم کرنا ضروری ہے اور ہلکا سا شک وشبہ اور چوں چراں دین سے اخراج کا سبب بن سکتا ہے۔ اسلام ہمیں رواداری، مساوات اور امن کا درس دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا دین کامل ہے جو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق کا بھی دفاع کرتا ہے اور عدم تشدد کی تلقین کرتا ہے۔

مذہب سے محبت کے بعد وطن سے محبت کی باری آتی ہے اور اسلام میں وطن سے محبت کو بھی خصوصی حیثیت دی گئی ہے۔ وطن سے محبت کے ساتھ ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری بھی ہر شہری پر لازم ہے اور یہ کسی بھی معاشرے کی شہرت اور ساکھ کا تعین کرتی ہے۔

وطن کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار مسلح افواج ہوتی ہيں۔ پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ ہمارے بہادر سپوتوں کے جذبہ حب الوطنی، پیشہ ورانہ مہارت اور لازوال قربانیوں کی وجہ سے ہمارے وطن عزیزکی طرف کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں۔

ہمارے آرام و سکون کے لیے اپنی نیندیں قربان کرنے والے بہادر سپاہی بلاشبہ قابل فخر ہيں۔ ہماری طویل ترین اور دشوار گزار نظریاتی سرحدوں کی بلا خوف وخطر حفاظت کرنے والے بری، بحری اور فضائی افواج کے جوان ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔

ہماری عسکری انٹیلیجنس ایجنسی کا شمار بھی دنیا کی بہترین ایجنسیوں میں ہوتا ہے اور یہ ہمارے دشمنوں کی آنکھوں میں بری طری کھٹکتی ہے۔

ہمارے بیرونی اور نظریاتی بارڈرز کی حفاظت کے ساتھ ساتھ پاک فوج نے اندرونی محاذوں پر بھی قابل قدر خدمات سر انجام دی ہيں۔ پاک فوج کی کاوشوں اورقربانیوں کی بدولت دہشت گردی، انتہا پرستی اور شدت پسندی کا قلع قمع ہو رہا ہے اور حالات تیزی سے بہتری کی طرف جارہے ہيں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے اور متاثرین کی مدد کرنے میں پاک فوج ہمیشہ سے پیش پیش رہی ہے۔ صحت، تعلیم، شاہرات بنانے اور دیگر شعبہ جات میں بھی پاک فوج کی گراں قدر خدمات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

قومی اثاثوں کی حفاظت ، امن و امان۔ مردم شماری اور انتخابات وغیرہ پاک فوج کی شموليت اور بے لوث مدد کے بغیر ناممکن ہے۔

بلا شبہ کرپشن اور دہشت گردی کے شکنجے میں جکڑے وطن عزیز میں امید کی واحد کرن پاک فوج ہی ہے۔ ترقی یافتہ اور مضبوط ممالک کو ديکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ دراصل ان کی افواج کو آکسیجن ان کی عوام سے ملتی ہے۔

ان ممالک کے لوگ اور حکمران اپنی اپنی افواج کی بھرپور اخلاقی حمایت کرتے ہیں۔ ویسے بھی حب الوطنی کے ترازو میں اگر ہر کسی کو تولا جائے تو فوج کا پلڑہ ہی بھاری ہوتا ہے۔

قارئین! وطن عزیز کو امن کا گہوارا، خوشحال اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لیے ہمیں اپنے بنیادی مسائل کی طرف سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

محترم قارئین، ذندہ قوميں ہميشہ اپنی غلطيوں کی نشان دہی، ان کا اعتراف اور سدباب کرتی ہيں۔ ياد رکھيے ملک اورمعاشرے کو ناسور کی طرح چاٹنے والی بيماريوں کی نشان دہی اور ان کا سدباب ہی ہماری کاميابی کی کنجی ہے۔ بنیادی مسائل کی طرف توجہ دے کر ہی کامیابیوں اور کامرانیوں کو سمیٹا جا سکتا ہے۔

اگر ہم اپنے مسائل کی طرف دیکھيں تو معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پرستی نے ہمارے ملک کی اکانومی اور ترقی کو شدید نقصان پہنچايا ہے۔

بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ميں رکاوٹ کا سبب بننے والی ان بیماريوں کا مکمل سدباب بے حد ضروری ہے۔ اس ميں کوئی شک نہيں کہ ہماری مسلح افواج کی لازوال قربانيوں کی وجہ سے آج کے حالات بہت بہتر ہيں مگرمزيد اقدامات کی گنجائش موجود ہے۔

اس کے علاوہ کرپشن کا ناسورہماری جڑوں کو کھوکھلا کررہا ہے۔ کتنی بڑی ستم ظريفی ہے کہ کرپشن کی بيماری ہماری نس نس ميں سرايت کر چکی ہے۔ اسی طرح سفارش و اقرباپروری نے بھی ہماری ساکھ کو شديد نقصان پہنچايا ہے۔ حق اور ميرٹ کی پامالی بھی ہماری ترقی ميں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

قارئین! يکساں اور فوری انصاف کامياب قوموں کی پہچان ہوا کرتا ہے۔ ہمارے دين کی تعليمات اور کامياب معاشروں کی اسٹڈيز بھی ہميں اپنا نظام عدل بہتر کرنے کا سبق ديتی ہيں۔ امير، غريب اور چھوٹے، بڑے کا فرق روا رکھے بغير فوری انصاف قوموں کی ترقی کا ضامن ہوا کرتا ہے۔ اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مہنگائی کی شرح ميں ہوشربا اضافے نے عوام کا جينا محال کر ديا ہے۔ غريب کے ليے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ امیر اور غريب ميں بڑھتے ہوئے فرق نے غريب کےاندر شديد مايوسی پيدا کر دی ہے۔ غريب کی قوت خريد کو مد نظر رکھ کے قیمتوں کا تعين اور کمی بيشیی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بے روزگاری عروج پر ہے۔ حقدار کو اپنا حق نہيں ملتا۔ پڑھے لکھے بےچارے مارے مارے پھرتےہيں جبکہ جاہل اور ان پڑھ حکومت کرتے ہيں۔ سی پيک اور معاشی ترقی کے نام نہاد دعوؤں کے ثمرات بھی ابھی تک پڑھے لکھے، غريب اور ضرورت مند طبقے تک نہيں پہنچے۔

 

لوڈشيڈنگ ميں واضح کمی دکھنے ميں آ رہی ہے مگر تمام تر دعوؤں اور اعلانات کے باوجود تاحال اس کا مکمل خاتمہ نہيں ہو سکا۔ قومی ترقی کے پہیے کو چلانے کے لیے لوڈشيڈنگ کا مکمل خاتمہ بھی اشد ضروری ہے۔ ڈیمز کی تعداد ميں اضافہ ناگزیر ہے اور ساتھ توانائی کے متبادل اور سستے ذرائع پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔

بنيادی سہوليات اور انفراسٹرکچر مثلاً سڑکیں، پانی، ، صحت و تعليم کی سہولتيں، ٹیکس کے نظام کی بہتری کے بغير بھی ترقی کا تصور محال ہے۔ عوام سے حاصل کيا گیا ٹیکس کا پیسہ خواص کی عیاشیوں پر خرچ کرنے کے بجائے عوام کو سہولیات فراہم کرنے پر لگنا اور لگتے ہوئے دکھائی دینا چاہیے۔

ارض وطن کو ان تمام مسائل سے نجات دلوا کر حقیقی معنوں میں ایک اسلامی اور فلاحی مملکت بنانے کی ضرورت ہے۔

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close