بلاگ

1947 سے 2019 تک

برصغیر میں 1940 کا آغاز ہوا تو مسلم لیگ اور کانگریس کے راستے الگ الگ ہو چکے تھے اور دوسری عالمی جنگ بھی شروع ہوچکی تھی قوی امکان تھا کہ جنگ کے خاتمہ پر برصغیر کو آزادی مل جائے گی اس نازک موڑ پر مسلمانوں کی قیادت کی اجتماعی بصیرت نے یہ فیصلہ کیا کہ اس موقع پر اپنے لئیے ایک الگ ریاست کے قیام کا اعلان کردیا جائے لہذا 3 فروری 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کا دھلی میں اجلاس طلب کر لیا گیا۔

 جس میں یہ طے کیا گیا کہ باقاعدہ ایک الگ مملکت کے قیام کا اعلان کرنے کیلئے لاھور کے منٹو پارک کو منتخب کیا جائے اور جلسہ کی تاریخ 22’23اور 24 مارچ طے کرکے جلسے کے انتظامات کیلئیے ایک کمیٹی سر شاہنواز ممدوٹ کی سربراہی میں تشکیل دے دی گئی اسی کمیٹی نے اس جلسہ کیلئے 20 ہزار روپے فنڈ بھی جمع کیا جن میں سے 11 ھزار خرچ ہوگیا اور باقی جماعتی فنڈ میں جمع کروادیا گیا اس کمیٹی نے جلسہ گاہ کی تیاری میں دن رات کام کیا اور 12 دن کے بعد منٹوپارک مسلم لیگ کے دفتر کا منظر پیش کررہا تھا۔

 جس میں 60.000 لوگوں کی گنجائش تھی اور سفید خیمہ بستی بھی بنائی گئی جوکہ 200 غیر ملکی مندوبین کیلئے تھے 22 مارچ جمعہ کے بعد پروگرام شروع ہونا تھا لیکن پنڈال صبح دس بجے فل ہونے کی وجہ سے پروگرام جلد شروع کرنا پڑھا قائد اعظم 21 مارچ کو لاہور اسٹیشن پر جلسہ میں شرکت کیلئے پہنچے تو سکندر حیات نے پھولوں کا ہار پہنانا چاہا تو قائد نے یہ کہ کر ہار پہننے سے انکار کر دیا کہ لاہور میں اتنے مسلمان شہید ہوچکے میں کیسے ہار پہن سکتا ہوں؟؟؟

 22 تاریخ کو جلسے کی پہلی نشست میں قائد اعظم کسی مصروفیت کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے تو صدارت شاہنواز ممڈوٹ نے کی اور 23 مارچ کو قائد اعظم اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ شریک ہوئے اور شاہنواز استقبالیہ خطبہ پیش کیا اور پھر قائد اعظم کو خطاب کیلئے دعوت دی گئی تو قائد نے دوقومی نظریہ پر ڈیڑھ گھنٹہ فی البدیہہ گفتگو کی جسمیں آپ نے مولانا اشرف علی تھانوی کا 1928 اور علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد میں دوقومی نظریہ کے حوالے سے پیش کیا گیا نظریہ پیش کیا کہ ہندو اور مسلم صرف دو مذھب نہیں بلکہ دو تہذیبوں کاٹکراؤ ہے جس کی وجہ سے دونوں اقوام کا کھانا پینا لباس کردار انداز گفت وشنید اور خوشی و غم کی تقریبات جدا جدا ہیں لہذا مسلمان اقلیت نہیں بلکہ ایک الگ قوم ہیں جو اپنی الگ تہزیب و ثقافت رکھتے ہیں لہذا انکو اپنی مھزب زندگی گزارنے کیلئے الگ خطہ کی ضرورت ہے.

اسی وجہ سے شمال مغرب ہندوستان میں مسلم اکثریت کے علاقوں کو پاکستان کے نام سے الگ ملک فراہم کیا جائے تاکہ مسلمان آزادی کی زندگی گزار سکیں اسی بات کو بعد میں مولوی اے کے فضل حق نے قرار داد لاہور کے نام سے پیش کیا جسکو ہندو اخبارات نے مذاقا قراداد پاکستان کا نام دیا لیکن قدرت نے مسلم قیادت کے خلوص اور عوام کے جزبے کی لاج رکھتے ہوئے صرف تین سال کے بعد ان کا یہ مذاق ان کے منہ پر دے مارا اور بالآخر 14 اگست 1947 27 رمضان المبارک کی مقدس رات میں پاکستان دنیا کا واحد ایسا ملک بن کر ابھرا جو کسی قوم نسل رنگ یا زبان کے اکٹھ سے نہیں بلکہ لاالہ الااللہ کے اجتماع سے وجود میں آنے والا اس روئے زمین پر پہلا ٹکڑا تھااور جو زمین کا ٹکڑا لاالہ الااللہ کی بنیاد پر وجود میں آئے وہ محظ ملک یا وطن نہیں بلکہ مسجد کی حیثیت رکھتا ہے لہذا مسلمان جان تو دے سکتا ہے لیکن مسجد پر آنچ آنے نہیں دیتا یہی وجہ ہیکہ 65 ’71اور اب 2019 میں مسلمانان پاکستان نے دشمن کو تگنی کا ناچ نچایا۔

ہندوستان نے جبورا کاغزی طور پر تو پاکستان کو تسلیم تو کر لیا لیکن دل سے وہ کبھی بھی پاکستان کو ایک سیکنڈ کیلئے برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں تھا اور نہ ہی ہے لہذا اسی وجہ سے آج کے دن تک ہندوستان پاکستان کی طرف گھات لگا کر بیٹھا ہوا ہے لیکن افواج پاکستان اور عوام پاکستان اس کے راستے میں رکاوٹ تھے ہیں اور رہیں گے انشاء اللہ۔

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close