Main Sliderبلاگ

برادری ازم کا مضبوط حصار

مہذب، فلاحی اور ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں ہر انسان کو برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ انصاف سب کے لیے یکساں ہے۔ برادری اور ذات پات کا فرق روا نہیں رکھا جاتا۔ بڑے چھوٹے اور امیر غریب میں کوئی فرق روا نہيں رکھا جاتا۔ بچوں، عورتوں اور بزرگوں کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔ انسانيت کو رنگ، نسل، مذہب اور برادری پر فوقیت دی جاتی ہے۔

ہمارا پیارا دین اسلام بھی ہمیں ایسا ہی درس دیتا ہے۔ انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے۔ عورتوں، بچوں، مردوں اور بزرگوں کے بارے ميں واضح اور مفصل احکامات موجود ہیں۔ کسی عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر فوقیت دیئے بغير انسانیت کو فوقیت دی گئی ہے۔ انصاف کے ترازو میں سب کو برابر تولنے کے واضح احکامات موجود ہیں۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ آزادی حاصل کیے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم ذات پات اور اونچ نیچ کے مصنوعی خول سے باہر نہیں نکل سکے۔ تعلیم، صحت یا کوئی بھی شعبہ اٹھا کر دیکھ لیں ہر جگہ امیر غریب اور چھوٹے بڑے کے درمیان واضح فصیل دکھائی دیتی ہے۔ صاحب حیثیت علاج اور تعلیم کی بہترین سہولتوں سے مستفید ہو رہا ہے جبکہ غریب کے لیے فقط طفل تسلیاں، وعدے وعید اور روشن مستقبل کی آس اور امیدیں ہیں۔ بڑے لوگ قومی خزانہ پر نقب لگا کر اور قتل کر کے بھی جیل میں اے اور بی کلاس کے مزے لوٹتے ہیں جبکہ بیچارا غریب معمولی جرم کر کے بھی عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔

وطن عزیز میں انسان اور انسانیت کے بے وقعت ہونے کا احساس شدید سے شدید تر ہو جاتاہے۔ رنگ، نسل، برادری، مذہب اور مالی حیثیت کو انسانیت پر فوقیت دی جاتی ہے۔ اخبارات کے صفحات انسان اور انسانیت کی تذلیل کے واقعات سے بھرے ہوتے ہیں۔ انصاف بھی سب کے لیے برابر نہیں۔

کہنے کو تو ہم ہندوستان سے آزادی حاصل کر چکے ہیں مگر عملی طور پر ابھی تک ذات پات اور برادریوں ميں بٹے ہوئے ہیں۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم چودھری، راجہ، اعوان، سدھن وغیرہ کے خول سے باہر نہیں نکل سکے۔ شہروں کی نسبت دیہاتوں میں اسکا عکس نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

ہمارے معاشرہ میں برادری ازم کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ ان کے خود ساختہ حصار کو توڑنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے گاؤں اور دیہاتوں ميں تعصب اور برادری ازم کا گھٹن زدہ ماحول پایا جاتا ہے۔

برادری کی بنیاد پر ظلم وستم اور ذیادتی کے لاتعداد واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ بااثر اور اکثریت برادری کے ہاتھوں مختاراں مائی کے گینگ ریپ جیسے کئی واقعات ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہيں۔

ہمارا برادری ازم کا نظام اتنا طاقتور ہے کہ مجال جو کسی اکثریتی برادری کے علاقہ سے کوئی اقلیتی برادری والا الیکشن جیت پائے۔ اہل اور قابل ہونے کے باوجود نوکری حاصل کرنے کے لیے آپ کا اکثریتی برادری سے ہی ہونا لازم ہے۔ اور اگر آپ اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں تو جان لیں کہ میرٹ اور تمام قواعد و ضوابط بنے ہی اپ کے لیے ہیں۔ برادری سے باہر شادی بیاہ کا تصور کرنا بھی گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اغیار کی برائیوں سے تو فوراّ متاثر ہو جاتے ہیں مگر ان کی خوبیوں اور اچھائیوں پر آنکھیں موند لیتے ہیں۔ ہم نہ تو ترقی یافتہ ممالک اور نہ ہی دین اسلام کے معاشرتی نظام کو اپنا سکے۔

قارئین، حسب نسب اور برادری ازم کے حصار سے نکل کر ہی ترقی یافتہ اور فلاحی مملکت کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ انسان اور انسانیت کو مقدم رکھے بغیر ایک جدید، مہذب اور فلاحی ریاست کا تصور بھی محال ہے اور اس کے بارے میں سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close