Main Sliderبلاگ

عالمی معاشی نظام اور اسکے جال 

آئی ایم ایف عالمی معاشی نظام کے جال کی دوسری بڑی رسی تھا جسکا مقصد غریب ممالک کو قرض دیکر انکے روزانہ کے اخراجات اور بلوں کی ادائیگی کیلئے معاشی مشورے دینا تھا لیکن جب 80 کی دہائی میں فرانس نے اپنے سونے کی واپسی کا مطالبہ کیا تو پھر حالات کو دیکھتے ہوئے اس بنک کو ایک ایسا ٹاسک دیا گیا جس کی مدد سے یہ بنک تیسری دنیا کے ممالک پر گزشتہ 40 سال سے اپنا راج قائم کئے ہوئے ہے وہ ٹاسک یہ تھا کہ دنیا کے تمام ممالک کی کرنسی ویلیو کا تعیین بھی یہی بنک کرے گا۔

 لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ پٹرول اور سونا پیدا کرنے والے ممالک سعودی عرب و چین کی کرنسی لو ہے جبکہ سوئزرلینڈ جہاں گھاس بھی نہیں اگتا اس کی کرنسی کا لیول بہت اوپر ہے اس بنک نے ایسا نظام تجویز کیا ہوا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح پچھلے زمانے میں دیہاتوں کے لوگ محنت کرتے تھے اور شہروں کے لوگ کھاتے تھے بالکل اسی طرح افریقہ ایشیاء ومشرق وسطیٰ کے ملک محنت کرکے اپنا پیسہ ان بنکوں کی تجوریاں برتے ہیں اور نتیجتا یہ بنک ان ملکوں کو دو چیزیں فراہم کرتے ہیں 1 قرضے ( جو کبھی بھی اترتے)2  لائف سٹائل ( جسکے حصول کیلئیے قرض لئے جاتے ہیں یہ لت نشے سے زیادہ خطرناک ہے اپ اس کی سنگینی کا اندازہ یوں لگا سکتے ہیں کہ آپ اپنی 15 سال قبل کی شاپنگ لسٹ نکال کر دیکھیں اور پھر آج کی شاپنگ لسٹ دیکھیں آپ آج بہت ساری چیزوں کو خریدنا ضروری سمجھتے ہیں جنکی کوئی ضرورت نہیں تھی جیسے شیمپو اور مشروبات وغیرہ)

نتیجتاً وہ ممالک کمزور سے کمزور ہو تے جارہے ہیں آپ پاکستان کی مثال ملاحظہ فرمائیں کہ پاکستان نے 1997 میں ڈیڑھ ارب کاقرض مانگا جو کہ 36 کڑی شرائط لگا کر 1999 میں صرف ایک ملین دیا گیا اور دنیا جانتی ہے کہ اس قرض کے بعد پاکستان جیسے زرعی پیداوار والے ملک میں لوگوں کو روٹی کے حصول کیلئے گھنٹوں قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا تھا اور آج حالت یہ ہے کہ پاکستان چاہ کربھی قرضہ لئے بغیر نہیں چل پارہا اور کبھی کبھی یہ ایسی شرائط بھی لگاتے ہیں کہ جن شرائط کی وجہ سے ان مقروض ممالک کی خارجہ پالیسی تباہ ہو جاتی ہے جسکی مثال مصر میں موجود ہے کہ 1970 میں انوارالسادات نے قرض لیا جو کہ وہ ادا نہ کرسکا تو سب سے پہلے انوارالسادات سے اسرائیل کا دورہ کروایا گیا اور پھر نہر سویز جوکہ دنیا کی سب سے بڑی تجارتی نہر ہے کو مفت ہمیشہ کیلئے اسرائیل کی تجارت کیلئے کھلوایا گیا اور کبھی کبھی یہ بنک قرض دیکر حکومتوں کو بھی گراتا ہے تاکہ ان کے پسند کی حکومت قائم ہو سکے جیسے 70 کی دہائی میں میکسیکو اور یوگو سلاویہ کو دئیے گئے۔

 جہاں قوم پرستوں کی حکومتیں تھیں پھر ان سے ایسی پالیسیاں بنوائی گئیں کہ ان گھن چکروں میں پھنس کر اپنے مخصوص قوم پرست ویزن سے ہٹ جائیں جسکی وجہ سے عوام کا اعتماد اٹھے گا اور حکومت گر جائے گی یہ تمام حقائق وہ ہیں جو روز روشن کی طرح واضح ہے لیکن اس سب کے باوجود لوگ ان بنکوں کے جالوں میں کیسے پھنستے جارہے ہیں؟؟؟؟ اور کیوں قرض لیتے ہیں؟؟؟؟ کیوں اپنی املاک اور قوم کو گروی رکھ دیتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close