Main Sliderبلاگ

غریب اور امیر میں بڑھتی دوریاں

وطن عزیز کی اخلاقی، معاشی اور اقتصادی تنزلی کی ایک اہم وجہ میرٹ کی پامالی بھی ہے۔ اقربا پروری، سفارش اور رشوت کا دور دورہ ہے۔ پڑھے لکھے اور قابل لوگ ڈگریاں تھامے مارے مارے پھرتے ہیں جبکہ نااہل اور سفارشی افراد ہر جگہ براجمان ہیں۔

ہمارے موجودہ نظام نے غریب، ضروتمند، محنتی اور اہل فراد کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ قانون اور قاعدے بنے ہی عام لوگوں کے لیے ہیں جبکہ خواص کے لیے راستے نکال لیے جاتے ہيں۔

ستم ظریفی کی انتہا دیکھئے کہ میڈیا، قانون اور عوام کی نظروں سے بچ بچا کر سائنسی بنیادوں پر بھی میرٹ کی پامالی کی جاتی ہے۔ بظاہر بڑے صاف اور شفاف طریقہ کار سے شارٹ لسٹنگ، ٹیسٹ اور انٹرویوز کا عمل کیا جاتا ہے۔

مگر آخر ميں ذیادہ ترانتخاب اقربا پروری، سفارش یا رشوت کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔ بڑے بڑے مقابلے اور ٹیسٹگ سروسز کے امتحانات بھی شک وشبہہ سے بالاتر نہیں اور ان میں ہونے والی بے قاعدگیاں آئے روز اخبارات اور میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہيں۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ آذادی حاصل کیے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم ذات پات اور اونچ نیچ کے مصنوعی خول سے باہر نہیں نکل سکے۔ تعلیم، صحت یا کوئ بھی شعبہ اٹھا کر دیکھ لیں ہر جگہ امیر غریب اور چھوٹےبڑے کے درمیان واضح فصیل دکھائی دیتی ہے۔

صاحب حیثیت علاج اور تعلیم کی بہترین سہولتوں سے مستفید ہو رہا ہے جبکہ غریب کے لیے فقط طفل تسلیاں، وعدے وعید اور روشن مستقبل کی آس اور امیدیں ہیں۔ بڑے لوگ قومی خزانے پر نقب لگا کر اورقتل کرکے بھی جیل میں اے اور بی کلاس کے مزے لوٹتے ہیں جبکہ بیچارا غریب معمولی جرم کر کے بھی عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے کیا خوب کہا کہ؛

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

ترقی یافتہ، مہذب اور فلاحی ممالک کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں ہر انسان کو برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ انصاف سب کے لیے یکساں ہے۔ بڑے چھوٹے اور امیر غریب میں کوئ فرق روا نہيں رکھا جاتا۔

بچوں، عورتوں اور بزرگوں کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔ انسانيت کو رنگ، نسل، مذہب اور برادری پر فوقیت دی جاتی ہے۔ تبدیلی سرکار برطانیہ کی جمہوریت سے بڑی متاثر رہی ہے مگر وہاں کے صرف صحت کے نظام کو ہی دیکھ لے تو بڑی بات ہے۔

برطانيہ کا نیشنل ہیلتھ سروس کا نظام وہاں کے ہر شہری کو بلا تفریق صحت کی بہترین سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ وہاں امیر اور غریب کے بچے ایک ہی سکول ميں پڑھتے ہیں۔ امیر غریب سب قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔

ہمارا پیارا دین اسلام بھی ہمیں ایسا ہی درس دیتا ہے۔ انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے۔ عورتوں، بچوں، مردوں اور بزرگوں کے بارے ميں واضح اور مفصل احکامات موجود ہیں۔ کسی عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر فوقیت دیئے بغير انسانیت کو فوقیت دی گئی ہے۔ انصاف کے ترازو میں سب کو برابر تولنے کے واضح احکامات موجود ہیں۔

وطن عزیز کی طرف دیکھیں یہاں انسان اور انسانیت کے بے وقعت ہونے کا احساس شدید سے شدید تر ہو جاتاہے۔ رنگ، نسل، برادری، مذہب اور مالی حیثیت کو انسانیت پر فوقیت دی جاتی ہے۔ اخبارات کے صفحات انسان اور انسانیت کی تذلیل کے واقعات سے بھرے ہوتے ہیں۔ انصاف بھی سب کے لیے برابر نہیں۔

اشرافیہ کا طبقہ ٹیکس چوری اور کرپشن کرنے کے باوجود تمام سہولیات سے فیضیاب ہو رہا ہے جبکہ غریب بیچارا اپنی خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس کٹوا کر بھی آس، امید اور بے بسی کی تصویر بنا رہتا ہے۔

بڑے محلات اور عالی شان گھر چوری کی بجلی یا بلات کی عدم ادائیگی کے باوجود رات میں بھی دن کا سماں پیش کرتے ہیں جبکہ عوام اضافی بل بھرنے کے باوجود بھی موم بتیوں اور لالٹینوں کے بل بوتے پر راتيں گزار رہا ہے۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اغیار کی برائیوں سے تو فوراّ متاثر ہو جاتے ہیں مگر ان کی خوبیوں اور اچھائیوں پر آنکھیں موند لیتے ہیں۔ ہم نہ تو ترقی یافتہ ممالک اور نہ ہی دین اسلام کے معاشرتی نظام کو اپنا سکے۔

ہماری اشرافیہ اور حکمرانوں کا طبقہ خواہ اپنے محلات کے اندر ہو یا باہر ہر حال میں بیچاری غریب، مجبور اور بے بس عوام کے لیے باعث عذاب و مشکلات ہی ثابت ہوا ہے۔

بدقسمتی سے عوام کے خون کو نچوڑ کر حاصل کیے گئے ٹیکس کا پیسہ عوام کو بنیادی سہولتيں فراہم کرنے کے بجائے اشرافیہ اور حکمرانوں کے شاہانہ رہن سہن، پروٹوکول اور عیاشیوں کی نذر ہوجاتا ہے۔ یہ طبقہ جب اپنے محلات سے باہر نکلتا ہے تو پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں کی پھرتیاں دیکھنے والی ہوتی ہيں۔

وی آئی پی روٹ کے نام پر گھنٹوں سڑکیں اوردکانیں بند کروا دی جاتی ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں سر آنکھوں پر بٹھائے جانے والے لوگوں کو شاہی سواری کے گزرنے کے راستہ سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔

پھر کوئ مریض بروقت ہسپتال، طالب علم سکول اور مزدور کارخانے پہنچے یا نہ پہنچ پائے ان کی بلا سے۔ حد ہے کہ طویل انتظار کی وجہ سے کئی جانیں چلی جاتی ہيں اور تو اور کئ دفع ذچگیاں بھی رکشوں اور ایمبولینسوں میں ہو جاتی ہیں۔

شاہانہ پروٹوکول میں شامل گاڑیوں کی تعداد بھی دیدنی ہوتی ہے اور پولیس کی ذیادہ تر نفری بھی عوام کے جان و مال کی حفاظت کے بجائے شاہانہ پروٹوکول کی ڈیوٹی پر مامور رہتی ہے۔ ہماری ستم ظریفی ہے پروٹوکول کی زبانی کلامی مخالفت کرنے والے سیاستدان بھی پروٹوکول کے مزے لیتے دکھائ دیتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں لاکھ برائیاں سہی مگر یہ بات ماننی پڑے گی کہ وہاں غير ضروری اور بلاجواز پروٹوکول نہیں ہوتا اور کسی بڑے سے بڑے حکمران یا افسر کی وجہ سے نظام زندگی اور معمولات پر فرق نہيں پڑتا۔

سگنل کھلے رہتے ہیں اور امیر و غریب قانون پر یکساں عمل کرتے ہيں۔ وہاں کے حکمرانوں کی عاجزی و انکساری کے واقعات آئے روز اخبارات اور میڈیا کی زینت بنے رہتے ہيں۔ ہماری اشرافیہ اغیار کی برائیاں اپنانے میں تو پیش پیش رہتی ہے مگر انکی اچھائیوں سے چشم پوشی کر لیتی ہے۔

قارئین، سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں غریب کا خون سستا اور امیر کا ارزاں ہے۔ غریب کے اس احساس کی وجہ سے جنم لينے والی ممکنہ نفرت کا سدباب کرنا بے حد ضروری ہے۔

کيوں نہیں ایسے اقدامات کیے جاتے کہ غریـب اور امیر کے جان، مال، عزت و آبرو کو مساوی تحفظ ملے اور وی آئ پی(ویری ایمپورٹنٹ پرسن) پروٹوکول کی جگہ پی(پرسن) پروٹوکول یعنی امیر غریب کو برابر اور سب سے بڑھ کر انسانیت کو پروٹوکول حاصل ہو۔

ساتھ ہی عوام کا بھی یہ فرض ہے کہ عوامی نمائندے منتحب کرتے وقت امیدوار کی عوام دوستی اور پروٹوکول سے نفرت جیسے ریکارڈ اور ماضی کو بھی ذہن نشین رکھيں۔

امیر اور غریب کے درمیان روز بروز برھتے ہوئے فاصلوں اور نفرت، غصے و حقارت جیسے جذبات کو سنجیدہ اقدامات سے کم کرنے کی ضرورت ہے۔

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close