Main Sliderبلاگ

سیاحت کو فروغ دیں

ہماری ستم ظریفی ہے کہ ہمارے پيارے ملک کو آزادی حاصل کيے ہوئے لگ بھگ سات دہائیاں بيت گئيں اور ھم سے بعد آذاد ہونےوالے ممالک ہم سے کہيں آگےنکل گئے جبکہ ہم ترقی کے سفر میں بہت پيچھے رہ گئے۔ نہ ہی ہم ملک کو حقیقی معنوں میں جمہوری اور نہ ہی ایک فلاحی ریاست بنا سکے۔

استحصالی نظام بھی جوں کا توں ہی ہے۔ خواص وسائل سے لطف اندوز جبکہ عوام مسائل سے دوچار ہے۔

محترم قارئین، ذندہ قوميں ہميشہ اپنی غلطيوں کی نشان دہی،ان کا اعتراف اور سدباب کرتی ہيں۔ ياد رکھيے ملک اورمعاشرے کوناسورکیطرح چاٹننے والی بيماريوں کی نشان دہی اور ان کا سدباب ہی ہماری کاميابی کی کنجی ہے۔

بنیادی مسائل، ان کے حل اور آمدن کے نئے اور جدید ذرائع کی طرف توجہ دے کر ہی کامیابیوں اور کامرانیوں کو سمیٹا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی ایک سہل اور قابل عمل ذریعہ سیاحت کا شعبہ بھی ہے۔

قدرت نے کرہ ارض کو بے انتہا خوبصورتی سے نوازا ہے۔ جگہ جگہ پر پاۓ جانے والے پرکشش مناظر دیکھنے والی آنکھ کو سحرزدہ کر دیتے ہیں۔ سیاحت اورقدرتی مناظر کے متوالے ہر وقت قدرت کی رنیگینیوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ سیاحت باقاعدہ ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

دنیا کے کئی ممالک کا بنیادی ذریعہ آمدن سیاحت ہے۔ سوئيٹزرلینڈ، آئس لینڈ، برطانیہ، ماریشیئس جیسے کئی ممالک قدرت کے عطا کردہ مناظر کی بدولت لاکھوں ڈالرز کما رہے ہیں۔

دنیا کے خوبصورت ممالک کا موازنہ وطن عزیز سے کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ قدرت نے ہمیں بھی بے شمار محسورکن مناظر اور رعنائیوں سے نواز رکھا ہے مگر یہ مقام افسوس ہے کہ ہم ان قدرتی نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ حالانکہ ناران کاغان، مالم جبہ، شمالی علاقہ جات اور نیلم ویلی وغیرہ جیسے ان گنت خوبصورت علاقے دیکھنے والی آنکھ کو سحرزدہ کر دیتے ہيں۔

سیاحت جیسے منافع بخش شعبے پر توجہ دے کر خودکفالت اور خوشحالی کا سفر باآسانی طے کیا جا سکتا تھا۔ میرے آج کے کالم کا بنیادی مقصد بھی سیاحت کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور ان کے سدباب کے لیے تجاويز مرتب کرنا ہے۔

سیاحت کو فروغ اور سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے کرپشن کا خاتمہ اولین شرط ہے۔ سفری اور ہوٹلز کی بکنگ سے لے کر تمام دیگر مراحل میں آن لائن نظام رائج کر کے کچھ حد تک کرپشن پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

شکایات کے لیے آن لائن اور کمپلینٹ بکس کا نظام بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاحوں کے لیے سادہ،آسان اور پیچیدگيوں سے پاک نظام کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ قیمتوں پر کنٹرول اور سیاحوں کی رہنمائی کا فعال نظام ہونا چاہيے۔

دھشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے سخت اور ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پانی، بجلی، سڑکیں، ہسپتال اوربنیادی انفراسٹرکچر کو بہتر کر کے سیاحوں کو راغب کیا جا سکتا ہے۔

پیراگلائڈنگ،آئس ہاکی، سکیٹنگ، کوہ پیمائی جیسے مقابلے منعقد کروا کے سیاحوں کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ ہمارے بیرون ملک سفارت خانوں کےذریعے مختلف ممالک ميں کانفرنسوں اور نمائشوں کا انعقاد بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

قارئین، ملکی ترقی اور خوشحالی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے سیاحت کی طرف توجہ دینا بے حد ضروری ہے اور یہ شعبہ ارباب اختیار کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close