Main Sliderناول

محبتوں کا شہر

(دوسری قسط)

رات ڈنر کرتے چوہدری اور صندل دونوں نے اچھا خاصا کھانا کھایا تو زہرہ بیگم دونوں کے رویے پر کڑھ کر رہ گئی۔ وہ چاہتی تھیں وہ دونوں شکایت کریں اور وہ اپنا لیکچر شروع کرے۔

مگر اس کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ ڈنر سے فارغ ہو کر صندل دونوں کو شب بخیر بول کر اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ چوہدری بودا سا منہ بنا کررہ گیا۔ وہ جانتا تھا کمرے میں جاتے ہی اس کی بیوی شروع ہو جائے گی اور پھر وہی ہوا۔ زہرہ جب کمرے میں آئی تو چوہدری بیڈ پر موجود نہ تھا۔ وہ اپنا لیپ ٹاپ کھولے، کیلکولیٹر سامنے رکھے نہ جانے کون سے حساب کتاب کر رہا تھا۔ زہرہ بیگم پاس آ کر بولیں۔

"چوہدری صاحب! آپ نے صندل کو منع کر دیا ناں؟”۔

"کس بات سے؟” جانتے بوجھتے انجان بن کر چوہدری نے کہا تو وہ غصے سے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے بولی۔

"مری جانے سے، اور کون سی بات تھی بھلا؟”۔ چوہدری اس کے اس رویے کیلئے پہلے سے ہی تیار تھا۔ سو، لیپ ٹاپ دوبارہ کھولتے ہوئے بولا۔

"نہیں۔ میں نے اسے اجازت دے دی ہے۔ اورہاں وہ کچھ دن کالج سے بھی لیٹ آئے گی۔ سو تم روز تھانہ نہ کھول کر بیٹھ جانا”۔ چوہدری نے بات مکمل کی تو زہرہ بیگم نے اس کی گھومنے والی کرسی کو جھٹکا دے کر اپنی طرف موڑ لیا۔

"میں آپ سے کہہ رہی ہوں اسے روکیں اور آپ مجھ پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ یاد رکھیں ایک دن پھچتائیں گے”۔ چوہدری زہرہ بیگم کی اس بات پر غصے میں آ گیا۔

"کیا اول فول بک رہی ہو؟”۔

"میری باتیں تو ہمیشہ اول فول ہی رہیں گی۔ میں کہتی ہوں لڑکی کو زیادہ سر نہ چڑھائیں۔ ایک تو اس کی عمر نکلی جا رہی ہے اور اوپر سے آپ نے اسے کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور اب وہ کالج سے بھی دیر سے آئے گی”۔

"تم فکر نہ کرو۔ وہ تمہاری بیٹی نہیں ہے۔ اگر کوئی بات کرے گا تو میری کرے گا تمہاری نہیں”۔ اس بات پر زہرہ بیگم کا پارہ ساتویں آسمان پر چڑھ گیا۔

"واہ چوہدری صاحب! کیا بات کی ہے۔ آپ ہی کی شہہ پر وہ لڑکی اب مجھے خاطر میں نہیں لاتی۔ پہلے میں کچھ کہتی تھی تو سر جھکا کر خاموش ہو جاتی تھی مگر اب منہ بنا کر کمرے میں چلی جاتی ہے۔ میری کسی بات کا جواب تک دینا پسند نہیں کرتی”۔

 زہرہ بیگم بولنے پہ آئی تو بولتی چلی گئی۔ چوہدری جانتا تھا کہ اس وقت بحث کرنا فضول ہے سو اس نے کہا۔

"لائٹ بند کرو اور سو جاؤ۔ مجھے کام کرنے دو” مگر زہرہ بیگم پہ تو جھگڑا کرنے کا بھوت سوار ہو چکا تھا۔

"ایسے کیسے سو جاؤں؟ جوان لڑکی گھر پر بیٹھی ہے اور آپ کو پیسہ کمانے سے فرصت نہیں۔ کل کلاں کوئی بات ہو گئی تو آپ دفتر تو چلے جائیں گے اور لوگوں کی باتیں سننے کو میں رہ جاؤں گی”۔ زہرہ بیگم کی باتوں سے اب چوہدری کو بھی غصہ آگیا۔ اس نے خود کو نارمل رکھنے کی بہت کوشش کی مگر بالآخر بول پڑا۔

"میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں وہ تمہاری بیٹی نہیں ہے اور ویسے کیا بات ہو گی؟ آج یہ بات واضع کرو۔ تمہاری یہ بد گمانیاں تو اس کے پیدائش کے وقت سے ہیں”۔

"چوہدری صاحب! اب آپ زیادتی کر رہے ہیں۔ آپ کے ۷۰سالہ والد صاحب ۲۵ سال کی ناچنے والی بیاہ لائے تو اس وقت میں نے اورکیا بات کرنی تھی بھلا؟”۔

"شکر ادا کرو وہ جوان لڑکی بیاہ کر لائے تھے۔ کوئی بوڑھی عورت ہوتی توآج اس گھر میں الو بول رہے ہوتے بلکہ میرے جینے کا مقصد ہی ختم ہو چکا ہو جاتا”۔ اب کی بار چوہدری کی آواز بھی اونچی ہو گئی مگر زہرہ پر ان کے غصے کا ذرا برابر بھی اثر نہ ہوا۔ اب کی بار اس نے بات ہی پلٹ دی۔

"ہاں اب مجھے طعنے دیں کہ میں بانجھ ہوں۔ میری وجہ سے یہ گھر خالی ہے”۔ چوہدری کو اندازہ ہو گیا تھا کہ زہرہ نے آج خاموش نہیں ہونا۔ "لگتا ہے مجھے ہی یہاں سے جانا پڑے گا”۔ وہ اپنا سامان اٹھا کر کمرے سے باہرچلا گیا۔

صندل کالج میں لیکچر کے بعد سٹاف روم میں بیٹھی تھی کی سیکنڈ ایئر کے سٹوڈنٹ زونیرنے کمرے میں آنے کی اجازت مانگی۔

"یس۔کم ان”۔ صندل نے کاغذات سے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ اندر آگیا۔ "جی بولیں۔کیسے آنا ہوا؟”۔ صندل نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ "میڈم! میں بھی ٹور کے ساتھ جانا چاہتا ہوں”۔ زونیر نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔

 "بیٹا! آپ اپنے پچھلے سال کی پراگریس جانتے ہیں نا؟”۔

 "یس میڈم”۔ وہ نظریں جھکا کر بولا۔

 "آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کی دو سبجیکٹس میں سپلی ہے”۔

 "یس میڈم”۔ "آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کے والد نے کالج آ کر کتنا ہنگامہ کیا تھا؟”۔ "یس میڈم”۔

 "اوہو! کیا یس میڈم یس میڈم کر رہے ہو” صندل نے اکتاہٹ سے کہا تو وہ بولا۔ "میڈم! دسمبر ٹیسٹ میں میرے ہر سبجیکٹ میں اےپلس گریڈ ہے اور میں نے تو فرسٹ ایئر کے سپلی سبجیکٹس کا بھی امتحان دیا تھا۔ ان میں بھی اے پلس لیا ہے۔

"اچھا یہ تو میں جانتی ہوں مگر پھر بھی بہت مشکل ہے۔ آ پ کے پاپا بھی آپ کو اجازت نہیں دیں گے”۔

"میڈم! پاپا پاکستان میں نہیں ہیں۔ ماما کو میں راضی کر لوں گا۔ آپ سر وسیم اور سر زبیر سے بات کر لیں پلیز”۔ اس نے معصوم سا منہ بنا کر صندل کی منت کی۔

” بیٹا یہ بہت مشکل ہے۔ اچھا آپ ایسا کریں ایک درخواست لکھیں اور اپنی امی سے دستخط کروا کر سر وسیم کو دیں۔ اگر وہ نہ مانے تو میں آپ کی سفارش کردوں گی”۔ صندل نے پنسل ہاتھ میں گھماتے ہوئےکہا تو وہ خوشی اور مایوسی کی ملی جلی کیفیت لئےواپس چلا گیا۔

رات ڈنر کرتے وقت زونیر خاموش رہا۔ جب اس کی امی نے پوچھا تو "کچھ نہیں” کہہ کر خاموش ہوگیا۔

"بیٹا! آخر کیا بات ہے؟ کچھ بولو گے تو پتا چلے گا نا”۔ اس کی امی نے چڑتے ہوئےپوچھا۔

"ماما! آپ اور پاپا میرا قصور بتا دیں۔ ٹھیک ہے میری سپلی آئی ہے مگر یہ ایسا گناہ تو نہیں جس کی معافی نہ مل سکے”۔ اس نے چمچ پلیٹ میں پٹختے ہوئےکہا۔

"بی ہیو یور سیلف”۔ اس کی امی کو غصہ آ گیا۔

"ماما! پورا ایک سال ہو گیا مجھے سخت محنت کرتے۔ دسمبر ٹیسٹ میں میرے ساتھ جن سٹوڈنٹس کی سپلی تھی ان میں سے کسی نے بھی امتحان نہیں دیا۔ صرف میں  نےاور میں نے ٹاپ کیا ہے۔ اس کے باوجود؟؟”۔

"ہاں کیا کہنا چاہ رہے ہو؟ کرکٹ کلب دوبارہ سے جانے کی اجازت دے دی۔ بائیک بھی دے دی اور اب کیا چاہئے تمہیں؟”۔

"ماما! آج میں نے میڈم صندل سے بات کی تھی ٹور کے جانے کی اور۔۔۔۔” "کیا کہا؟ ٹور؟؟”۔

"جی ٹور۔ سیکنڈ ایئر کے سٹوڈنٹس جا رہے ہیں۔ میں نے اجازت مانگی تو میڈم نے پاپا کے کالج ہنگامے والی بات دہرا دی”۔ "ٹھیک ہے بیٹا! تمہارے پاپا نے غلط کہا تھا مگراب جب تک ایگزام نہیں ہو جاتا تم ان سے مزید کسی نرمی کی توقع نہ رکھنا”۔ اس کی امی نے گویا اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔

"ٹھیک ہے۔ نہیں جاتا مگر اس کی بعد آپ مجھ سے بھی کسی قسم کی اچھائی کی امید مت رکھئے گا”۔ وہ کرسی پر سے اٹھتے ہوئے بولا تو اس کی ماں جیسے سکتے میں چلی گئی۔ رات انہوں نے شوہر سے بات کی تو وہ بھی راضی نہ ہوئے۔ پھر انہوں نے زونیر کے رویے کے بارے میں بتایا تو وہ اور بھی زیادہ غصے میں آ گئے۔

"میں خون پی جاؤں گا اس بد تمیز کا”

"احتشام پلیز! کول ڈاؤن۔۔۔اتنی سختی اچھی نہیں ہے۔ میں صبح اسے سمجھاؤں گی۔آپ سے اس لئے بات کر دی آپ کہیں گے میں اس کی باتوں پر پردہ ڈالتی ہوں”۔

"تو نہ بتاتی مجھے۔ بھیج دیتی میری اجازت کے بغیر اسے”

شوہر کی بات سنکر شمائلہ کو بھی غصہ آ گیا۔ "میں نے آپ سے مشورہ کرنے کیلئے بات کی تھی اور آپ مجھے ہی سنا رہے ہیں۔ ٹھیک ہے اب جو مناسب سمجھوں گی وہی کروں گی۔ میں بھی اس کی ماں ہوں کوئی دشمن نہیں ہوں”۔ اتنا کہہ کر انہوں نے فون بند کر دیا۔

صبح زونیر کا موڈ حسب توقع آف ہی تھا۔ ناشتے کی میز پروہ بیٹھ تو گیا مگر اس نے کچھ نہ کھایا اور اٹھ کر کالج چلا گیا۔ کالج سے واپسی پر شمائلہ نے اسے ٹور کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ اجازت ملنے پروہ بے اختیار ہو کر ماں کے گلے لگ گیا۔

"اوہ تھینک یو سومچ ماما”۔

 "ٹھیک ہے بیٹا مگر یاد رکھنا میں نے تمہارے پاپا کی مرضی کے بغیر اجازت دی ہے۔ اب پڑھائی میں کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیئے” انہوں نے اس کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے کہا۔

"ماما میں آپ فکر نہ کریں۔میں نے امتحان کی پوری تیاری کر لی ہے”۔

"اوکے۔ٹھیک ہے”۔

صندل اپنے کالج کے کاموں میں مصروف ہے۔ کالج کے بعد شاپنگ، ٹور کے سارے انتظامات، ہوٹل کی بکنگ، اخراجات کا تخمینہ، سٹوڈنٹس سے پیسے وصول کرنا اور ایسے ہی بہت سے کام۔ جبکہ زہرہ کواس کی ایک ایک بات پہ اعتراض معمول کی بات تھی۔ اس دن بھی چوہدری کسی وجہ سے پریشان تھا مگر زہرہ کا موضوعِ گفتگو صرف صندل ہی تھا۔ وہ صندل کی شادی اپنے بےوقوف بھائی سے کروانا چاہ رہی تھی مگر اس میں اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ چوہدری سے اس سلسلے میں بات کر سکے۔ اسے لیے وہ ہر وقت کوئی نہ کوئی عیب نکالنے کی کوشش میں رہتی تھی کو چوہدری کسی طرح ناراض ہو اور غصہ میں آ کر صندل کی شادی شناور سے کر دے۔ مگر وہ اب تک کامیاب نہ ہو سکی تھی۔

اس دن بھی وہ کافی پریشان تھا اور اوپر سے اسے بیوی کی باتیں بہت بری لگ رہی تھیں۔

"چوہدری صاحب! لڑکی کا کچھ اتا پتا بھی ہے؟”

"اوہو۔۔۔اب کیا کر دیا اُس نے؟”۔ وہ بے زار ہو کر بولا۔

"پانچ بجنے کوہیں اور ابھی تک نہیں آئی واپس”۔

"کیوں میرا دماغ خراب کر رہی ہو؟ ایک دفعہ بتایا تو تھا اُس نے کہ کچھ دن دیر سے آئے گی۔ ایک تو میں پہلے ہی پریشان ہوں اور اس پہ تم میرا دماغ چاٹ رہی ہو”

"آپ کیوں ابھی پریشان ہیں؟ اس وقت ہونا جب وہ کوئی گل کھلائے گی”

چوہدری اتنا پریشان تھا کہ اس نے سنا ہی نہیں زہرہ کیا کہہ رہی ہے۔ اسی اثنا میں اس کا فون بجتا ہے۔ وہ بےچینی سے فون کان سے لگاتا ہے۔

"ہیلو”

دوسری طرف سے نہ جانے اُسے کیا خبرملی کہ اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ "تھینک یو مینجر صاحب! آپ کو بھی مبارک ہو۔ مگر یہ تو بتائیں کہ اُس لڑکے خضر حیات کا کیا ہوا؟”۔

دوسری طرف سے مینجر نے خبر سنائی۔ "سر! اس کا چوتھا نمبر ہے۔ اگر ہم ٹینڈر چھوڑ بھی دیں تو اسے نہیں ملے گا”۔

"پھر بھی یہ اُسی کا ہے۔ میں نے اس سے وعدہ کیا تھا”۔

"مگر کیسے؟” مینجر نے اسفسار کیا تو چوہدری نے کہا۔ "یہ ہم صبح آفس میں ڈسکس کریں گے”۔ اتنا کہہ کر اس نے فون بند کیا اورصوفے پہ بیٹھتے ہوئے گویا ہوا۔ "ہاں جی اب بولو کیا مسٔلہ ہے؟”۔

"السلام علیکم بھیا” صندل بیرونی دروازے سے داخل ہوتی ہے۔

"ارے میرا بیٹا آ گیا۔ آج کچھ زیادہ ہی دیر نہیں کر دی؟” چوہدری نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔

"جی بھیا! آج شاپنگ کے لئے گئی تھی اس لیےدیر ہو گئی”

"اچھا۔کب جانا ہے؟”

"بھیا! سوموار کو بس آتی ہے اور ہم  منگل کو یہاں سے روانہ ہوں گے”

"اچھا اس کا مطلب ہےابھی چار دن بعد جانا ہے”

"جی بھیا!” ساتھ ہے صندل زہرہ بیگم کے موڈ کا اندازہ کر رہی تھی جوہمیشہ کی طرح خراب تھا۔ لہذا اس نے چپ چاپ شاپنگ بیگ اٹھائے اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔

پہلی قسط: محبتوں کا شہر

(جاری ہے)

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close