بلاگ

اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی

"جیسا کہ آپ سب جانتی ہیں کہ اقبال ڈے آراہا ہے- اس سلسلے میں ہر سال کی طرح اس سال بھی پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے تو آپ می سے جو بھی حصہ لینا چاہے وہ میرے باس آکر اپنے نام لکھوا لے۔”

پروگرام انچارج میم اریبہ نے کلاس میں آکر اعلان کیا تھا۔ "میم کیا کیا ہوگا پروگرام میں.؟” پہلی قطار میں بیٹھی فائزہ نے سوال کیا۔ "وہی جو ہر سال ہوتا ہے ٹیبلو، بیت بازی اور معلوماتی سوالات کا مقابلہ ہوگا اور اقبال کی نظمیں اور تقریر بھی ہوگی۔”

"میم میں تقریر کروں گی!” اس نے ہاتھ اوپر کر کے ذرا جوش سے کہا تھا۔ ساری طالبات نے مڑ مڑ کر تیسری قطار میں بیٹھی اس لڑکی کو دیکھا تھا.سب کو اپنی طرف دیکھتا پاکر وہ  کندھے اچکا کر نرمی سے مسکرائی.

"جی ٹھیک! میں آپ کا نام لکھ لیتی ہوں جا کر اپنا نام بتائیے پلیز!” میم اریبہ نے اس سے پوچھا۔ "جاویدہ نور” اس نے اپنا نام بتایا میم اریبہ سر کو خم دیکر کلاس سے باہر نکل گئیں وہ ڈگری کالج میں بی اے پارٹ ون کی طالبہ تھی.سبجیکٹ تو اس کا اکنامکس تھا مگر اسے اردو سے بھی کچھ حد تک لگاؤ تھا.مذہبی اور انقلابی شاعری اسے بہت متاثر کرتی تھی.مگر اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں ایسی شاعری اور نثر بہت کم ہی ملتی ہے جو مذہبی انقلاب پر منحصر ہو.اس لیے اقبال اور حالی کو پڑھنا اور سمجھنا اس ملک کی نئ نسل کو مشکل لگتا ہے.اسکے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا.وہ کبھی کبھی سوچتی تھی ک علامہ اقبال نے ایسے لوگوں کے لیے یہ سب کیوں لکھا جو نہ اسے پڑھتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں.

اور ان لوگوں کے لیے ملک بنانے کی تجویز پیش کی.جنھیں اس ملک سے کوئی سروکار ہی نہیں. اکتوبر کے آخی دن چل رہے تھے اور نومبر آنے والا تھا-لیکن موسم کافی حد تک خشک اور گرم تھا-وہ کالج کی لائبریری میں ایک شیلف کے سامنے کھڑی کتاب تلاش کر رہی تھی.وہ اکثر لائبریری سے اسلامک ہسٹری  اور شاعری کی کتابیں اِشو کرواتی تھی.اگر کچھ موجود ہوتیں تو…!

ایک دم اسکی نظر پہلی قطار میں رکھی کتاب "بانگِ درا” پر گئی.اس نے وہ کتاب اٹھالی. وہ بانگ درا اشو کرواکر لے آئی تھی. رات کو اس نے پڑھنے کے لیے وہ کتاب کھولی کچھ صفحات پلٹتی رہی اور پھر رک گئی.

"سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا”اس صفحے پر ہندی ترانہ لکھا تھا.ذہن میں پھر سے سارے سوالات جاگ اٹھے تھے.”اقبال کو ہندوستان سے محبت تھی تو انہوں نے پاکستان بنانے کی تجویز کیوں دی”اس نے سوچا تھا.جواب اس کے پاس نہیں تھا.اس نے گھڑی دیکھی.کافی وقت ہوگیا تھا.صبح اسے کالج جانا تھا اس نے کتاب میز پر رکھ دی اور سونے کے لیے بستر پر لیٹ گئی.

اگلی صبح وہ کالج گئی تو آخری پیریڈ ٹیچر کی غیر حاضری کے باعث فری تھا.اس نے بانگ درا لی اور کلاس سے نکل آئی. وہ باکستان سٹڈیز کی ٹیچر کو ڈھونڈ رہی تھی.

"میم میں اندر آسکتی ہوں-"ٹیچر اس کو ایک خالی کلاس روم میں بیٹھی نظر آئیں.اس نے دروازے پر دستک دے کر اجازت چاہی. "جی..!آئیے-"میم اپنے سامنے کاغذات پھیلائے کام میں مصروف تھیں.ایک نظر اٹھاکر اس اسٹوڈنٹ کو دیکھا اور اجازت دے دی.

"میم کچھ ڈسکس کرنا ہے آپ سے-کیا آپ کے پاس کچھ وقت ہوگا…؟؟”اس نے کلاس میں داخل ہو کر پوچھا تھا. میم نے ایک نگاہ اپنے سامنے رکھے کاغذات پر ڈالی. "جی جی..بلکل بیٹھیے-"پھر اپنے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کر کے کہا. "تھینکیو میم-"کہتے ہوئے وہ کرسی کھینچ کر بیٹھی اور بات کا آغاز کیا.

"میم!میں اقبال کی بانگ شاعری پڑھ رہی تھی-ان کی کتاب میں ایک نظم ہے”    "سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا” اس نے توقف کیا.میم نے سر کو خم دیا.اس نی بات جاری رکھی "میم جسے ہندوستان سارے جہان سے پیارا تھا اس نے پاکستان بنانے کی تجویز کیوں دی..؟” "مسلمانوں کے لیے-مسلمان ہندوستان میں غلامی کی زندگی گزار رہے تھے-ہم پڑھ چکے ہیں-"ہمیشہ سے رٹا رٹایا جواب میم نے اسے دیا.

"لیکن میم!اقبال بھی مسلمان تھے-اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ غلامانہ زندگی گزارنے والا اپنی غلامی کی جگہ کو عزیز رکھتا ہو-قیدی کو اپنے قید خانے سے کب محبت ہوتی ہے..؟”وہ اس جواب پر مطمئن نہیں تھی. "شروع میں ایسا نہیں تھا-مطلب سب ٹھیک تھا.ہندو مسلم ایک ساتھ تھے-لیکن پھر کچھ مسائل پیدا ہوگئے-اور اس وجہ سے الگ ملک کا مطالبہ کیا گیا-"میم نے اسے ایک بار پھر مطمئن کرنا چاہا.

"لیکن میم! ایک طویل عرصہ ایک ساتھ رہنے کے بعد یہ احساس کیوں ہوا..؟”اس نے پھر سوال کیا. "میرے خیال سے یہ نظم آپ کے کورس میں شامل نہیں!”میم نے لمبی سانس خارج کی.ہاتھ باہم پھنسا کر اس کے سوال کے بدلے سوال کیا. "نہیں میم!” اس نے محتاط لہجے میں جواب دیا.

"ہمم!تو بیتر یہ ہوگا کہ آپ اپنی پڑھائی پر توجہ دیں-اور جو کچھ سلیبس میں پڑھایا جا رہا ہے اس پر کانسنٹریٹ کریں..!آل رائٹ.!” میم نے گویا حکم صادر کیا. "یس میم”سر جھکا کر کہا اور اٹھ کر چلی گئی.

رات کو وہ کتاب لے کر بیٹھی.آج اس کے سامنے وہ صفحہ تھا جس پر لکھا تھا.. چین و عرب  ہمارا  ہندوستان  ہمارا  مسلم ہیں وطن ہے سارا جہاں ہمارا اس نے کتاب لی اور کمرے میں ٹہلنے لگی.”سوال ہے ذہن میں-جواب کوئی نہیں دیتا!یہ ملک کیوں بنا!کیا مقصد تھا! سارے جہاں سے اچھا ہندوستان کہنے والوں نے ہمارے لیے ایک الگ ملک کیوں چاہا !کوئی جواب نہیں دیتا-"اس نے سوچا تھا.

بیڈ پر بیٹھکر اس نے سر دیوار سے ٹکا دیا اور آنکھیں موند لیں. "تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو کتاب خواں ہے  مگر  صاحب کتاب نہیں”آواز کانوں سے ٹکرائی تو اس نے آنکھیں کھولیں.گردن موڑ کر دیکھا.اور ایک دم سیدھی ہوئی.آنکھیں حیرت سے مزید کھولیں..”اقبال” اس کے لبوں سے نکلا..

وہ اسکے  سامنے والے صوفے پر بیٹھے تھے. وہ سنبھلی،تاثرات بدلے’حیرت کی جگہ شرمندگی نے لے لی.”اس میں میرا نہیں، اس ملک کے تعلیمی نظام کا قصور ہے-” اس نے ان کے شعر کا جواب دیا تھا.اقبال اس کی بات پر مسکرائے.

"بہت آسان لگتا ہے آپ کو حساس لوگوں کو اپنے اشاروں پر چلانا-نتیجہ کیا ہوگا کبھی سوچا آپ نے-"وہ سنجیدگی سے کہ رہی تھی.”کبھی ہندوستان ہمارا،کبھی سارا جہان ہمارا،کبھی پاکستان-کیا سوچ کر آپ نے اس ملک کا تصور پیش کیا تھا-"

"تم محدود سوچ کے مالک نکلے-نہ ہندوستان سے آگے سوچ سکتے ہو نہ پاکستان سے-"علامہ اقبال نے جواب دیا تھا. "آپ ہی کہتے ہیں کہ سب انسان ایک ہیں پھر آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہے-"اضطراب ابھی تک موجود تھا.

"میں روحانی جمہوریت چاہتا ہوں-"جواب اتنے ہی اطمینان سے آیا تھا. "معلوم ہے آپ کو!جس بچے کے لب پہ یہ دعا ہوتی ہے کہ زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری-اس کی صبح کیسے ہوتی ہے-ہوتی بھی ہے یا نہیں…!اس نے ایک اور سوال کیا تھا.

"زندگی کا شعلہ کسی سے مانگا نہیں جاسکتا-اسے اپنی روح میں روشن کرنا ہوتا ہے-"علامہ اقبال نے بھی جواب دیا تھا. "تو پھر جس راستے پر ہم قدم رکھتے ہیں آپ ہی کی سوچ سامنے کیوں آجاتی ہے-"آواز میں ذرا سختی در آئی تھی. "میں نے اپنی چیزیں ان کے لیے نہیں لکھیں جو میرے ساتھ ہیں-تمہارے زمانے کے لیے لکھی ہیں-"

سمجھانے والے انداز میں جواب دیا گیا تھا. "تو پھر بتائیں کیا چاہتے ہیں آپ ہم سے..؟”اس کا لہجہ سوالیہ تھا. "پھر  چراغِ لالہ  سے روشن ہوئے کوہ و دمنمجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغِ چمناپنے  من  میں  ڈوب  کر  پاجا  سراغِ زندگی تو  اگر  میرا  نہیں  بنتا  نہ  بن ، اپنا  تو  بن” اقبال نے بتا دیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں. وہ پر سوچ انداز میں دیکھ رہی تھی.

"آپ کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا کے لیے مثال بننا چاہیے-مگر ہمارے اپنے مسائل ختم نہیں ہوتے-اس کی کیا وجہ ہے کچھ بتائیں گے آپ..؟؟سوالات ابھی بھی تھے.لیکن ان کا رخ بدلا تھا. "خود کو پہلے اپنی نظر سے دیکھو پھر دوسروں کی نظر سے اور پھر خدا کی نظر سے..!تمہیں جواب مل جائے گا-"علامہ نے جواب دیا. "ہم دنیا کے لیے کیا مثال بنیں گے.؟ہم تو دنیا میں اپنا وجود بھی نہیں منواسکے.!”وہ مایوسی سے بولی.

"جانتی ہو کون سی چیز ہر برائی کی اصل وجہ ہے..؟خوف.!”زور دے کر کہا.”خوف کو اپنے دل سے نکال دو حقیقت بن جاؤ گے-” علامہ اقبال نے گویا اپنے سوال کا جواب بھی خود ہی بتا دیا. "کیا آپ کو یقین ہے…؟” اس نے غمزدہ لہجے میں پوچھا. "غم.!”شہادت کی انگلی اٹھا کر تمبیہہ کی .”غم سے دور رہو کہ غم ایمان کی کمزوری کی علامت ہے-اور جوانی میں انسان کو بوڑھا کر دیتا ہے-"

"تو پھر آپ ہی بتا دیں کیس طرح حقیقت بنا جائے..؟اپنے وجود کو تسلیم کروایا جائے..؟اس مقصد کو حاصل کیا جائے جس کے لیے بھیجا گیا ہے ہمیں..؟؟اس کو تسلی اب تک نہیں ہوئی تھی. "عشق کو اپنی تلوار بنالو اور عقل کو اپنی ڈھال-پھر باطل کے لیے آگ کی تاثیر ہوگی اس میں جو نعرہ تکبیر تم بلند کرو گے اور تمام دنیا تمہاری زیرِ خلافت ہوگی-

کی  محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں”

ان کے پاس تسلی بخش جواب تھا.وہ علامہ اقبال تھے. "محمدؐ سے وفا نبھانے کا انداز بھی انوکھا ہے آپ کے خواب کی تعبیر میں حاصل کردہ اس ملک میں بسنے والے میرے دور کے لوگوں کا-"اسے یاد آیا تھا

توہینِ رسالتؐ کے واقعات رونما ہونے پر ملک کے حالات کیا ہوتے ہیں..؟”راستے بند کر دیے جاتے ہیں،تعلیم و تدریس کا عمل رک جاتا ہے،روزانہ کی بنیسد پر روزی کمانے والا فاقہ کشی اختیار کرنے میں عافیت سمجھتا ہے،دنیا منں امامت کا منصب رکھنے والی قوم اخلاقیات کی اعلیٰ مثالیں قائم کرتی ہے-جلاؤ گھراؤ’مار ڈھار اپنے ہی لوگوں کے ساتھ عشقِ رسولؐ کے نام پر کیا جاتا ہے-"اس نے گویا علامہ کو  تمام حالات سے آگاہ کیا.

"ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

شمشیر  ہی  کیا  نعرہ  تکبیر  بھی  فتنہ”

رعب دار انداز میں علامہ مخاتب ہوئے.”اِس دور کے مسلمان آج پھر اُس جگہ کھڑے ہیں جہاں سے اُس دور کے مسلمانوں نے شروعات کی تھی۔طویل سفر کی شروعات۔امت مسلمہ بنی اسرائیل کی روش اختیار کر چکی ہے – جو فرعون کے تسلط سے آزادی کے بعد پھر کسی نئے بت کی تمنا کرنے لگ جاتی ہے-"علامہ کی بات ختم ہوئی تو اٹھ کر کھڑکی کے سامنے کھڑی ہوگئی

"تو پھر کیسے سمجھیں گے یہ لوگ کی یہ بنی اسرائیل نہیں-اور نہ ہی کوئی موسیٰ آئے گا انھیں فرعون کے تسلط سے چھڑانے,نہ کوئی محمد بن قاسم آے گا اسلام کا جھنڈا اس سرزمین میں بلند کرنے, نہ کوئی محمود غزنوی آئے گا سومنات گرانے, اور نہ ہی کوئی اقبال آئے گا انھیں خوبِ غفلت سے جگانے۔!”وہ باہر عمارات کو دیکھتے ہوئے جوش سے کہ رہی تھی.”وہ لوگ اپنا کام کر چکے۔!اب ہمیں خود جاگنا پڑے گا-اس خواب کو پورا کرنا ہوگا جو آپ نے دیکھا تھا اس قوم کے لیے..!”اس کی آواز جوش کے سبب اونچی ہوگئ.وہ چاہتی تھی سب ایک دم ٹھیک ہوجائے.

"تم جو چاہتی ہو وہ ایک دن کا کام نہیں ہے-"وہ سمجھانے والے انداز میں گویا ہوئے.”ہر نسل اس خواب کو تھوڑا تھوڑا کر کے آگے بڑھائے گی اور پھر ایک دن یہ زمین ایسی جنت بن جائے گی کہ جسے آسمان بھی جھک کر دیکھنے پر مجبور ہو جائے گا-"وہ پر امید نظر آرہے تھے. "انسان پر بہت بھروسہ ہے آپ کو…!”اس نے ابرو اٹھا کر طنزیہ لہجے میں پوچھا.

"خدا پر بھروسہ ہے..!جس نے انسان کو بنایا.!”نہایت شفقت آمیز لہجے میں علامہ نے کہنا شروع کیا.”ہم خدا سے بچھڑ گئے ہیں اور وہ ہماری جستجو میں ہے-ہماری طرح وہ بھی عشق میں مبتلا ہو اور آرزو میں گرفتار ہے-کبھی لالے کی پنکھڑیوں پر اپنا پیغام لکھ کر بھیجتا ہے تو کبھی پرندوں کے سینوں میں اتر کر ان کے گیت کے ساتھ ہم تک پہنچتا ہے-"انتہائی نرمی سے وہ کہ رہے تھےلیکن الفاظ میں اثر تھا .”ہمارے فراق میں اس نے جو آہ بھری ہے وہ اندر ،باہر ،اوپر ،نیچے ہر طرف پھیلی ہوئی ہے-انسانوں کو دیکھنے کے لیے اس نے یہ سارا ہنگامہ پیدا کیا ہے”علامہ کہ رہے تھے اور وہ الفاظ کے سحر میں کھوئی ہوئی کھڑکی سے واپس بیڈ کی جانب بڑھ رہی تھی کہ اچانک اس کا پاؤں بیڈ کے کونے سے ٹکرایا اور لڑکھڑا گئی.

ڈر کر اس نے انکھیں کھول لیں. اِدھر اُدھر دیکھاوہ بیڈ پر پاؤںں لمبے کیے اور کنارے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی.علامہ اقبال کہیں نہیں تھے.اس نے گھڑی دیکھی.پانچھ بج رہے تھے.”تو وہ سب خواب تھا-علامہ اقبال میرے خواب میں آئے تھے-!”اس نے سوچا.”کیسا عجیب خواب تھا..!بامقصد خواب..!”خود اپنے الفاظ کی درستگی کی..!

وہ ایک دم اٹھی.سٹڈی ٹیبل کی طرف آئی.کرسی کھینچ کر بیٹھی. کاغذ اور قلم اٹھا لیا.تھوڑی دیر اسے دیکھا اور پھر لکھنا شروع کیا. جو سیکھا تھا-وہ سب کو سکھانا تھا.اپنے حصے کا کام کرنا تھا-

آج 9 نومبر تھا اور اقبال ڈے کے حوالے سے کالج میں  پروگرام تھا.کچھ دن پہلے جب پروگرام انچارج میم اریبہ ان کی کلاس میں اس حوالے سے انفارم کرنے آیئں تھیں تو اس نے اپنا نام ان کے پاس لکھوایا تھا کہ وہ تقریر کرے گی.پروگرام شروع ہوا تو تقریری مقابلہ سب سے آخر میں تھا.اس نے میم سے کہ دیا تھا کہ وہ ساری پارٹیسپینٹس کے بعد  سب سے آخر میں تقریر کرے گی. سب سے آخر میں اپنی باری پر وہ سٹیج پر آئی اور اس نے تقریر شروع کی.:

"میں ایک ایسی قوم کو دیکھ رہی ہوں جو کہتے ہیں کی انھیں خدا پر یقین ہے لیکن انھیں اپنے آپ پر یقین نہیں.!جنہیں اپنے آپ پر یقین نہ ہو وہ خدا پر یقین کیسے کر سکتے ہیں…؟وہ یم سے الگ نہیں ہم اس سے الگ نہیں..”وہ مجمے کی طرف دیکھ رہی تھی.”سوچ کی کوئی حد نہیں ہوتی-اس کا کوئی مقام نہیں ہوتا-سوائے دل اور دماغ کے-"اس نے پہلے دل پر اور پھر کنپٹی پر انگلی سے دستک دی.”پاکستان کو صرف ایک ملک سمجھیں تو وہ صرف نقشے پر ہے-اسے اپنی سوچ بنا لیں تو وہ دل میں ہے-جس دل میں خوف نہ ہو وہ دل پاکستان ہے.جس میں نفرت نہ ہو وہ دل پاکستان ہے-جس میں سچ ہو،پیار ہو،امن کی خواہش ہو وہ دل ہاکستان ہے-"دل پر ہاتھ رکھ لر اس نے کہا تھا.

"ہم نے پاکستان اس لیے نہیں بنایا تھا کہ ہمیں پاکستان کی ضرورت تھی..!ہم نے پاکستااس لیے بنایا تھا کہ دنیا کو ہماری ضرورت تھی-"پورے ہال میں خاموشی تھی.سب اعتماد سے تقریر کرتی ہوئی لڑکی کو دیکھ رہے تھے.”ہمیں آزاد ہوئے اکھتر (71) برس ہو گئے ہیں-اکھتر سال میں تو بچہ بھی بوڑھا ہوجاتا ہے-ہم کب بڑے ہونگے..؟کب یہ سمجھیں گے کہ ہمیں بھی یہاں سوچنے سمجھنے کی ذمہ داری ہے-ساری دنیا کے بارے میں سوچنا ہے اور پھر اپنی زندگی سے شروکرنا ہے-مجھے بھی،آپ کو بھی..آج سے…”

آخری الفاظ نرمی سے ادا کر کہ وہ خاموش ہوگئی.

کچھ دیر یہی سکوت  چھایا رہا.اور پھر تالیوں کی زوردار  گونج نے اس خاموشی کو توڑا تھا..اس نے دیکھا سب اپنی کرسیوں پر سے کھڑے ہوگئے.ان کھڑے ہونے والوں میں مہمان خصوصی بھی شامل  تھے.تالیاں مسلسل بج رہی تھیں.اور یہ شور بتا رہا تھا کہ جیت کس کی ہوئی ہے..!

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close