Main Sliderسفر نامے

نیلہ واہن … سبز پانیوں کا محل

کیا آپ نے کبھی نیلہ واہن کے سبز پانیوں کا دلکش نظارہ دیکھا ہے؟ اگر نہیں تو آپ کی آنکھیں اُن حسین خوابوں سے محروم ہیں جو یہ پانی قطرہ قطرہ آپ کی آنکھوں میں اُتار دیتا ہے۔ آپ کا دل اُس خوشبو سے محروم ہے جوان پانیوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے آپ کے دل میں اُترتی چلی جاتی ہے اور پھر یہ خوشبوآپ کی ذات کا حصہ بن جاتی ہے۔

نیلہ واہن کیا ہے۔ نیلہ واہن سبز پانیوں کا ایک محل ہے۔ جہاں پاؤں رکھتے ہی آپ ایک ایسے نخلستان میں داخل ہو جاتے ہیں جس کی دلکشی عمر بھرکے لیے آپ کو شاد کر دیتی ہے۔ بہت دنوں سے خواہش تھی کہ کسی ایسی جگہ پر چند لمحے گُزارے جائیں جو وقتی طور پر ہی سہی مگر اس تھکاوٹ کو ختم کر دے جو مادیت پرست معاشرے میں خواہشات کے پیچھے بھاگ بھاگ کر میرے اندر اُتر چُکی ہے۔

اس خواہش کی تکمیل کے لیے آل پاکستان ر ائٹرز ویلفئیرایسویشن کے وفد کے ساتھ مجھے بھی دلکش پہاڑی راستوں کے ساتھ کچھ لمحات گزارنے کا اتفاق ہوا اور یہ بلاشبہ میری زندگی کے یادگارترین لمحات تھے۔ ہفتے کا سورج اپنے ساتھ وہ مبارک ساعتیں لے ہی آیا تھاجب ہماری پہاڑوں کے ساتھ مُلاقات طے تھی۔

یہ بھی پڑھیں: مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری

زبیر احمد انصاری صاحب کی زیرسرپرستی آل پاکستان رائٹرزویلفیرایسویشن کے وفد کے تمام ارکان ہی نہایت محبت کرنے والے اور پُرخلوص لوگ ہیں۔ اُمید تھی کہ یہ ایک یادگار سفر ثابت ہو گا اور ایسا ہی ہوا۔ علی الصبح لاہور سے ہماراقافلہ روانہ ہوا۔ اپنے ساتھ حسین خوابوں کی گھڑیاں باندھے ہم پہاڑوں کو تسخیر کرنے نکل پڑے تھے ۔ہمارا پہلا پڑائو کھیوڑہ کا حیرت کدہ تھا۔

کھیوڑہ مائنز کو میں نے جب بھی دیکھا مجھے یوں لگا کہ جیسے میں کسی حیرت کدہ میں اُتر آئی ہوں۔ نمک سے بنی مسجد، مینار اور نجانے کیا کیا محض نمک سے بنا رکھا ہے۔ پنجاب کے ضلع جہلم میں واقع کھیوڑہ مائنز کا دُنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان ہے۔ کان کے اندر آپ جتنا آگے جائیں گے درجہ حرارت کم ہوتا چلا جائے گا۔

یہاں پر موجود گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ اس کان کی 19منزلیں ہیں جن میں سے 11منزلیں نیچے ہیں اور 8منزلیں اُوپر ہیں ۔اس کے علاوہ یہاں دمے کے مریضوں کے لیے ہسپتال بھی موجود ہے جہاں اُن کا بہترین طریقہ سے علاج کیا جاتا ہے۔

کان کے اندر دیکھنے کی اور بھی بہت سی چیزیں ہیں مگر ہماری منزل کہیں اور تھی ہمیں تو نیلہ واہن کے پہاڑ آوازیں دئے رہے تھے ہمیں تو اُن آوازوں کے پیچھے جانا تھا۔ کھیوڑہ میں ہم نے ناشتہ کیا۔ تصاویر بنوائیں اور اپنے اگلے پڑاؤ کی طرف چل پڑے۔ کھیوڑہ سے کلرکہار تک کا تقریباً دو سے اڑھائی گھنٹے کا راستہ ہے۔

نیلہ واہن کی جھیل کلرکہار سے زیادہ دور نہیں ہے۔ کلرکہار سے محض پندرہ سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر نیلہ واہن کا مقام آتا ہے۔ یہاں سے جھیل تک جانے کے لیے ہمیں پتھروں بھرے ایک ایسے راستے سے گزرنا تھا جس پر چلنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ مگر ہم سب نے ارادہ کیا تھا کہ ہم ان پہاڑوں کو شکست دیں گے اور پانیوں کے محل تک ضرور پہنچیں گے۔

پڑھنا نہ بھولیں: تیرے قرب کی خوشبو

ابھی ہم تھوڑا آگے چلے ہی تھے کہ ایک چھوٹا سا مزار آیا جہاں ہم سب نے دعا مانگی کہ ہمارا سفر خیریت سے گُزرے اور چلنا شروع کر دیا۔ جیسے جیسے ہم آگے بڑھ رہے تھے راستہ مزید مُشکل ہوتا جا رہا تھا۔ نیلہ واہن کے پانیوں میں اُترنے سے پہلے ہم نے کچھ وقت یہاں موجود ایک سوئمنگ پول میں گُزارا۔

ہمارے کچھ ممبرز نے آگے جانے سے انکار کر دیا کیونکہ یہاں موجود کچھ مقامی لوگوں نے ہمیں مشورہ دیا تھا کہ ہم آگے نہ جائیں، آگے راستہ بہت خطرناک ہے اور واپسی تک ہمیں شام ہو جائے گی، شام کو یہاں موجود جانور بھی ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ہم سب نے اصرار کیا کہ سب کو مل کر جانا چاہیے مگر ہمارے یہ دوست بضد تھے کہ وہ نیچے نہیں جائیں گے سو اُنہیں وہیں چھوڑ کر ہم آگے کی طرف چل دیئے۔ ابھی تھوڑا ہی چلے تھے کہ ایک مقامی آدمی نے ہمارا حوصلہ بڑھایا اور راستہ کے متعلق ہمارے سارے منفی تصورات مٹا دیئے اور ہمیں نیلہ واہن کے پانیوں تک پہنچایا۔

زندگی میں بھی ایسے ہی بہت سے لوگ ہمیں آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔ ایسے میں ہمیں مایوس نہیں ہونا بلکہ آگے بڑھتے رہنا ہے۔ رب ہمارے لیے رہنما خود ہی بھیج دے گا۔ ہم بھی اپنے رہنما کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ ہی گئے۔ چلتے چلتے میں نے ایک نظر سنگلاخ پہاڑوں کی طرف ڈالی جو ہم سب کے حوصلوں پر حیران تھے جنہوں نے پتھریلے راستوں اور کانٹے دار جھاڑیوں کو اپنے قدموں تلے روند دیا تھا اور بالآخر سبز پانیوں کے محل میں قدم رکھ دیا تھا۔

یہ منظر اتنا خوبصورت تھا کہ ہم اس مُشکل راستے کو بھول گئے اور خود کو ان پانیوں کے حوالے کر دیا۔ پانیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے ہوئے ہم وقتی طور پر اپنی پریشانیوں کو بھول گئے تھے۔ یہاں ہم نے چائے بھی پی اور پانیوں کے درمیاں بیٹھ کر چائے پینا بلاشبہ میری زندگی کا ایک یادگار تجربہ تھا۔ بہت دیر تک ہم نیلہ واہن کے پانیوں کی خوشبو کو اپنے اندر اُتارتے رہے مگر شام کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے اور ہمیں واپس بھی جانا تھا سو سبز پانیوں پر ایک الوداعی نظر ڈال کر ہم سب نے واپسی کے لیے قدم بڑھا دیئے۔

ضرور پڑھیں: بھائی جان! ہماری دال روٹی کا مسئلہ ہے

اُترائی کی نسبت نیلواں کی چڑھائی زیادہ تھکا دینے والا مرحلہ تھا۔ آپ اگر ان راستوں کی طرف جائیں تو اپنے ساتھ پانی کی ایک بوتل ضرور رکھیں۔ اس کے علاوہ جوتوں میں جوگرز کا استعمال ایسے راستوں کے لیے نہایت مناسب ہے۔

ہمارے تین ممبرز کے جوتے ان راستوں پر اُکھڑ گئے اور ان خستہ حال جوتوں کے ساتھ اُنہوں نے واپسی کا سفر کیسے طے کیا یہ ایک الگ کہانی ہے بہرحال گرتے پڑتے ہم اُوپر پہنچ ہی گئے۔یہاں میں اپنی ایک ٹیم ممبر مہوش کا زکر کرنا چاہوں گی چڑھائی کے دوران بہت زیادہ سانس پھولنے کے باوجود اُس نے نہایت بہادری سے ہنستے مُسکراتے ہوئے سارا راستہ طے کیا جس سے ہم سب کو بہت حوصلہ ملا۔

نیلہ واہن سے واپسی پر ہم نے کلرکہار میں رات کا کھانا کھایا۔ رات کے وقت کلرکہار کی روشنی کا رنگ ہی الگ تھا۔ کھانے کے بعد ہم نے لاہور واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ رات گئے تک ہم لاہور پہنچے۔ ایک یادگار سفر اپنے اختتام کو پہنچا مگر نیلہ واہن کے رنگوں بھرے خواب اب ہمارے ساتھ ساتھ ہیں۔

یہاں میں اپنی دوست عمارہ کنول کو ایک بات ضرور کہنا چاہوں گی کہ وہ اکثر کہتی ہے کہ میں اُسے نیلہ واہن کے رنگ دکھانے لے گئی تھی مگر حقیقت میں اُسے نیلہ واہن کے پہاڑوں نے آواز دی تھی اور اُسے سبز پانیوں کی پُکار پر لبیک کہنا ہی تھا۔

اگر آپ ایڈونچر کے شوقین ہیں تو نیلہ واہن ضرور جائیں اور سبز پانیوں کے اس محل کی خوبصورتی کو تسخیر کریں۔ یقین کریں آپ کو مایوسی نہیں ہو گی!

نیلہ واہن کی ویب سائٹ وزٹ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close