Main Sliderناول

محبتوں کا شہر

(پہلی قسط)

ہالینڈسے گارمنٹس کے اور خاص طور پر لیدر پراڈکٹ کے ایک بہت بڑے آرڈر کے لیے چودھری مہر علی نے بھی قسمت آزمائی کا سوچا۔ جب وہ اپنا پروپوزل جمع کروانے کے لیے بلڈنگ کے اندر داخل ہوا تو اس تو اس کا سامنا خضر حیات سے ہو گیا۔

خضر اپنا پروپوزل جمع کروا کر واپس آ رہا تھا۔ چودھری کو دیکھتے ہی اسے غصہ آ گیا اس نے چودھری کی عمر کا بھی لحاظ نہ کیا اور اپنی فطری بدتمیزی کا خوب مظاہرہ کیا "چوہدری! بہتر ہے ابھی سے پیچھے ہٹ جاؤ، اس عمر میں ٹینڈر ہارنے کا غم برداشت نہیں کر سکو گے”۔

مگر چودھری ایک متحمل مزاج آدمی تھا۔ اس نے بھی بھرپور تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنی شان و شوکت کو بھی برقرار رکھا۔ "برخوردار! میرا تم سے وعدہ ہے اگر یہ آرڈر مجھے مل گیا تو میں تمہیں تحفے میں دے دوں گا اور اگر نہ ملا تو بھی میں چودھری مہرعلی ہوں، اس آرڈر سے ملنے والا منافع میری زمینوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کی ایک ماہ کی خوراک بھی پوری نہیں کر سکتا، اللہ حافظ”۔

اتنا کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔

چودھری کے یہ الفاظ سن کر خضراپنا سر کھجاتا خود سے گویا ہوا "یار خضر آج چودھری کچھ ذیادہ ہی بے عزتی نہیں کر گیا، چلو کوئی بات نہیں بزرگ آدمی ہے”۔

وہ جیسے خود کو تسلی دیتا ہوا وہاں سے باہر نکل آیا، مگر وہ زیادہ دیر خود کو تسلی نہ دے سکا کیونکہ سیڑھیاں اترتے ہی اسے شیخ نواز کی گاڑی نظر آ گئی۔ وہ بھی وہاں اسی کام سے آیا تھا اسے دیکھ کر خضر کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا کیونکہ خضر کے پاس تو صرف ایک چھوٹی سی گارمنٹس کی فیکٹری تھی جبکہ چودھری مہر علی اور شیخ نواز گارمنٹس کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل میں بھی اپنا الگ ہی مقام رکھتے تھے۔ شیخ نواز کے ساتھ اس کا نالائق بیٹا بھی تھا۔

جب شیخ نے پارکنگ میں چودھری کی گاڑی دیکھی تو بیٹے کو زرا سیٹ ہو کر چلنے کا کہا۔ بیٹے نے بھی ملازم سے فائلیں لے لیں اور بڑی فرمانبرداری سے باپ کے پیچھے چلنے لگا۔ راستے میں ان کی ملاقات بھی چودھری سے ہو گئی۔

شیخ نواز نے بڑی گرم جوشی سے چودھری سے ہاتھ ملایا۔ ” ارے مہر علی! واٹ آ پلیزینٹ سرپرائیز!”۔

جواب میں چودھری نے بھی گرم جو شی کا مظاہرہ کیا۔ "کیا بات ہے یار آج کل نظر ہی نہیں آتے ہو بہت مصروف ہو گئے ہو”۔

شیخ نے بیٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا "یہ میرا بیٹا ہے اور مصروف بھی اس کی وجہ سے ہوا ہوں”۔

چودھری اس کی بات پر حیران ہوتے ہوئے بولا "یہ کیا بات ہوئی؟ جب بیٹے جوان ہو جائیں تو بندہ فارغ ہو جاتا ہے، تم الٹا مصروف ہو گئے ہو”۔

چودھری کی بات پر شیخ کھسیانی سی ہنسی ہنستے ہوئے بولا "یار کیا کروں۔۔ فارغ ہونے کی ہی تیاری ہے سارا بزنس اس کے حوالے کر رہا ہوں تا کہ خود آرام کر سکوں”۔

شیخ کی بات سن کر چودھری مسکرایا "یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ اچھا ٹھیک ہے یار تم بھی جاؤ کاغذ ات جمع کراؤ بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ مجھے بھی کام ہے میں چلتا ہوں”۔

اتنا کہہ کر وہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا جبکہ شیخ نے غصے سے بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا "جس شخص کی تجھ جیسی نالائق اولاد ہو اسے آرام کہاں نصیب ہوتا ہے”۔

اتنا کہہ کر وہ اندر کی طرف بڑھا تو اس کے بیٹے نے زور سے تمام فائلیں ملازم کے ہاتھوں پر پٹخ دیں۔

"السلام علیکم آپا!”

"ارے تم؟” زہرہ بیگم نے مڑ کر دیکھا تو شناور ان کے سامنے کھڑا تھا۔ "آ جاؤ بیٹھو۔ پرسوں بلایا تھا آج شکل دکھائی ہے تو نے”۔

زہرہ نے بھائی سے گلہ کیا تو وہ بندروں کی طرح اونچے اونچے قدم اٹھاتا اچھل کر صوفے پر آ بیٹھا۔

"ارے آپا میں کوئی فارغ تھوڑی ہوں، پوری پانچ گاڑیاں ہیں اور ذرا سا خیال نہ رکھو تو ڈرائیور خراب کر دیتے ہیں”۔

اس کی اس حرکت پر زہرہ کو غصہ آ گیا "تم انسانوں کی طرح برتاؤ نہیں کر سکتے؟ تمہاری انہی عادتوں کی وجہ سے چودھری تم سے چڑتا ہے”۔

بہن کی بات سن کر وہ منہ بسورتا ہوا بولا "آپا چودھری صاحب کو تو میں اچھا ہی نہیں لگتا ویسے اس میں بھی قصور تمھارا ہی ہے۔

"ہیں؟؟ میرا کیا قصور ہے؟” وہ حیران ہوتے ہوئے بولی تو وہ سامنے ٹوکری سے سیب اٹھا کر کھاتے ہوے بولا۔ "تم ہی تو ہر وقت اس کی بہن کو ڈانٹتی رہتی ہو تو چودھری اس کا بدلا مجھ سے لیتا ہے”۔

یہ بات سن کر وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی جبکہ شناور کا دھیان فروٹ کی ٹوکری کی طرف ہی رہا۔ چند منٹوں میں اس نے پوری ٹوکری خالی کر کے بے ڈھنگے سے انداز سے ڈکار لی تو زہرہ ایک لمبی آہ بھر کر رہ گئی۔ اسی دوران اس نے وال کلاک کی طرف دیکھا تو پونے چار بج رہے تھے۔ "آپا اتنا ٹائم ہو گیا وہ نہیں آئی”۔ اس نے شرماتے ہوئے کہا تو زہرہ بیگم اسے سمجھانے والے انداز میں گویا ہوئیں "ارے پاگل! تو میری بات پر دھیان کیوں نہیں دیتا۔ صندل اور یہ ساری جائیداد ایسے ہی نہیں مل جائیں گے۔ اگر خدا نخواستہ صندل کی شادی کسی اور سے ہو گئی تو تیرے میرے ہاتھ کچھ نہیں آنا۔ تو کیوں نہیں سمجھتا؟ میں بے اولاد ہوں۔ چودھری سب کچھ اسی کو دے دے گا”۔

زہرہ نے بات مکمل کی تو شناور نے لاپرواہی سے ہونہہ کہا اور بولا "ہاں تو اسی کو دے گا ناں! قبر میں تو نہیں لے کر جائے گا سب کچھ”۔

شناور کی بات سن کر زہرہ کا پارہ ساتویں آسمان پر چڑھ گیا۔ وہ دانت کچکچاتے ہوئے بولی "پھر وہی بکواس۔۔ ہزار مرتبہ سمجھایا کچھ تمیزسیکھ لو”۔

"آپا کیا کروں اب؟ مجھے سمجھ نہیں آتی میں تمیز کیسے کروں۔ اب بہنوئی صاحب کو میں نے کھبی ان کے منہ پر گالی دی ہے خود بتاؤ؟” شناور نے بات ختم کرتے ہی پورا کیلا منہ میں ٹھونس لیا-

اتنے میں باہر گاڑی کے ہارن کی آواز آئی تو زہرہ بیگم محتاط ہوتے ہوئے بولی "ٹانگیں نیچے کرو صندل آ گئی ہے اور کھانا ان کے سامنے تمیز سے کھانا” شناور صوفے سے ٹانگیں نیچے کرتے ہوئے بولا "آپا جب سے آیا ہوں خالی پیٹ تمھاری نصیحتیں ہی سن رہا ہوں۔ اب کھانا کھانے کی کون سی تمیز ہوتی ہے؟”۔

شناور کی خالی پیٹ والی بات سن کر زہرہ نے آنکھیں پھاڑ کر پھلوں کے چھلکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا "یہ سب میں نے کھایا یے؟”۔

"آپا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ رہ کر انگریز ہی بن گئی ہو۔ کم کھانا، وہ بھی چھریوں کے ساتھ، مجھ سے نہیں ہوتا یہ سب”۔ اسی دوران زہرہ نے ٹیبل سے پھلوں کے چھلکے اٹھا کر اسے صاف کر دیا۔

"السلام علیکم” چودھری کی آواز سن کر زہرہ چونک گئی۔ "ارے آپ؟”۔

وہ حیران ہو کربولی توچودھری شناور کو دیکھ کر بول پڑا” اوہو جناب سالا صاحب بھی تشریف فرما ہیں”۔ وہ بیٹھتے ہوئے بولا۔ "کیا بات ہے دونوں بہن بھائی نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ خیر تو ہے؟”۔

"چودھری صاحب میں سمجھی تھی کہ صندل آئی ہے”۔ زہرہ کی بات سن کر چودھری نے فورِا وال کلاک کی طرف دیکھا۔ چار بجنے کو تھے۔ جبکہ وہ ہمیشہ 3:30 پر گھرآ جاتی تھی۔ انہوں نے موبائل جیب سے نکالا۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی بٹن دباتے، باہر سے ہارن کی آواز آ گئی۔ آواز سن کر چودھری کے چہرے پر رونق آ گئی۔ انہوں نے موبائل میز پر رکھ دیا۔ تھوڑی دیر میں صندل لاؤنج میں داخل ہوئی تو سب کو اپنا منتظر پایا۔ وہ زہرہ کی فطرت سے اچھی طرح واقف تھی حسب معمول اس کا موڈ آف ہی تھا۔ اس نے بھائی کو دیکھتے ہی سلام کیا۔  "السلام علیکم بھیا”۔

"وعلیکم سلام میرا بیٹا! آؤ یہاں بیٹھو”۔ اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ مسکرا کر بھائی کے پہلو میں آ بیٹھی۔ چودھری نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا "کیا بات ہے آج لیٹ ہو گئی۔ ٹریفک کا مسئلہ تھا یا کوئی اور وجہ؟”۔

صندل بھابھی کی موجودگی میں بات نہیں کرنا چاہ رہی تھی مگر پھر ہمت کر کے بولی۔ "بھیا! وہ انڈیا سے دوستی بس کے ذریعے کالج کا ایک ٹرپ یہاں سیر کرنے آ رہا ہے۔ ان کے ساتھ ہمارا کالج بھی ناردرن ایریا جائے گا تو پرنسپل نے میرا بھی انتخاب کیا ہے۔ میں بھی جاؤں گی”۔

صندل نے بات مکمل کی تو اس سے پہلے کے چودھری بولتا، زہرہ بول پڑی۔ "کیا؟ تم جاؤ گی ان کافروں کے ساتھ گھومنے؟ کوئی ضرورت نہیں ہے”۔ بھابی کی بات سن کر وہ پریشان ہو گئی۔ "کیوں بھابی؟ ایسا کیا ہے؟”

"دیکھو صندل اچھا نہیں لگتا۔ خیراچھا تو تمھارا نوکری کرنا بھی نہیں لگتا۔ میں پوچھتی ہوں آخر کس چیزکی کمی ہے اس گھر میں؟”۔

"بھابی ضروری تو نہیں کہ نوکری ضرورت کے لیےکی جائے” "ہاں تو اور کس لیے کی جاتی ہے؟”۔ صندل کی بات سن کر زہرہ طیش میں آئی توچودھری نے مداخلت کردی۔ ” ارے بیٹا! رہنے دو۔ اس جاہل کو ان باتوں کی سمجھ نہیں”۔

زہرہ جو پہلے ہی غصہ میں تھی، چودھری کی بات سن کر چیخ پڑی۔ "کیا کہا؟؟ میں جاہل ہوں؟”

"نہیں نہیں۔ تم نے تو پی-ایچ – ڈی کر رکھی ہے”

چودھری کی اس بات پر شناور زور سے ہنس پڑا۔ زہرہ اس کی طرف متوجہ ہوئی تو دونوں بہن بھائی نے وہاں سے بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھی۔

خضر پہلے چودھری اور پھر شیخ کو دیکھ کر کافی مایوس ہو چکا تھا۔ جب وہ گھر پہنچا تو کرم خان اس کا لٹکا ہوا چہرہ دیکھ کر سمجھ گیا کہ ضرور کوئی بڑی بات ہے۔ اس نے پہلے اسے پانی لا کردیا پھرآرام سے پوچھا۔ "بیٹا کوئی پریشانی ہے؟”۔ خضر نے سرصوفے کی پشت سے ٹکا دیا اورایک سرد آہ بھرتے ہوئے بولا۔ "بابا! لگتا ہے اس فیکٹری کو فروخت کرنا پڑے گا”۔  وہ مایوس لہجے میں بولا تو کرم خان کا دل دہل کر رہ گیا۔ "کیوں بیٹا! ایسا کیا ہوا ہے؟َ”۔

"بابا! چودھری مہرعلی اورشیخ نواز نے بھی ٹینڈر جمع کروایا ہے”

"تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ میرا بیٹا بہت ذہین ہے۔ وہ دونوں مل کر بھی تھمارا مقابلہ نہیں کر سکتے”۔  کرم خان نے پراعتماد لہجے میں کہا تو خضر بے اختیار مسکرا کررہ گیا۔ "بابا آپ کا بیٹا ذہین تو ہے مگرغریب بھی تو ہے”۔ خضر کی بات سن کرکرم خان چونک گیا۔ "کیوں؟ کوئی رشوت یا سفارش چلے گی؟”

"نہیں۔ ایسا نہیں ہے”۔ خضر نے بابا کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ "تو پھر کیوں کہا کہ تم غریب ہو”۔  کرم خان کی اس بات پر خضر اسے سمجھاتے ہوئے گویا ہوا۔ "بابا! ان دونوں کے پاس صرف گارمنٹس کی فیکٹریاں ہی نہیں ہیں، ٹیکسٹائل ملوں کی بھی پوری چین ہے۔ ان کے برعکس مجھے کپڑا مارکیٹ سے خریدنا پڑتا ہےاور اس سے ریٹ پر فرق پڑے گا” خضر نے بات مکمل کی تو وہ زبردستی چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے بولا۔

"فکرنہ کرو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو اللہ سو اوردروازے کھول دیتا ہے۔ تم اٹھو جاکرفریش ہوجاؤ میں کھانا لگاتا ہوں۔

صندل کو یقین ہو چلا تھا کہ بھابی اسے جانے نہیں دے گی۔ اس نے کمرے میں جاتے ہی بیگ بیڈ پرپٹخ دیا۔ ایک طرف بھوک سے اس کا برا حال تھا اوراب وہ کالج میں بھی شرمندہ ہونے کی تیاری کر رہی تھی۔ وہ کمرے میں ٹہلتے ہوئے منصوبے بنانے لگی کبھی ایک بات کبھی دوسری۔ اسی طرح ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا۔ اسے چین کسی صورت نہ آیا۔ اسی پریشانی میں وہ کھڑکی تک گئی تو بھائی اسے لان میں بیٹھا چائے پیتا نظر آیا جبکہ زہرہ وہاں موجود نہیں تھی۔ اس نے موقع غنیمت جانا اور کمرے سے باہر نکل آئی۔ راستے میں بھی وہ دعا کرتی رہی کہ بھابی سے سامنا نہ ہو جائے۔ آخر وہ بھائی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ وہاں پہنچتے ہی وہ منہ بنا کر بیٹھ گئی۔ "کیا ہوا میری بیٹی کچھ ناراض لگ رہی ہے”۔ چودھری نےاس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا تو وہ منہ بسورتے ہوئے بولی۔ "بھوک لگی ہے”۔

"اوہ میرا بیٹا!! میں اپنے بیٹے کو خود اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر پلاتا ہوں”۔ چودھری نے سکول کے بچوں کی طرح ایک ایک لفظ دبا دبا کرادا کیا تو وہ بے اختیار مسکرا دی۔ "واہ جی۔ میری بیٹی تو مسکراتے ہوئے بہت اچھی لگتی ہے”۔ اس نے چائے صندل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تو اس نے مسکراتے ہوئے کپ لے لیا۔ ” لوبیٹا بسکٹ کچھ تو بھوک کم ہو”۔ چودھری نے بسکٹ اٹھتے ہوئے کہا تو اس نے بھی چپ چاپ لے لیا۔ چائے کے دوران وہ بہن کے چہرے کا بغور جائزہ لیتا رہا وہ جانتا تھا کہ وہ کالج کے ٹرپ کے ساتھ جانا چاہتی ہے مگر اس نے انجان بنتے ہوئے کہا "کچھ کہنا ہے؟”۔

صندل نے کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا "بھیا! آپ مجھے اجازت نہیں دیں گے”۔ اس نے بے چارگی سے کہا تو چودھری زیرلب مسکرا کربولا۔ ” کیسی اجازت؟”

"کالج ٹرپ کے ساتھ جانے کی۔ بھیا اب آپ مجھے جان بوجھ کر تنگ کر رہے ہیں۔ پلیز! صرف بارہ دن کی توبات ہے””

"کیا؟؟ بارہ دن؟”۔ صندل کے ان الفاظ پر وہ چونک گیا۔ "مگر بیٹا! ٹرپ تو ایک یا دو دن کا ہوتا ہےاور آپ بارہ دن کی بات کر رہی ہو”۔ اس نے پریشان ہوتے ہوئے کہا تو صندل اٹھ کر اس کے پاس زمین پر آ کر بیٹھی۔ "بھیا آپ کس دور کی بات کر رہے ہیں۔ لاہور سے جھیل سیف ملوک اور پھر چائینہ بارڈر تک بائے روڈ جانے میں کتنے دن لگیں گے؟ اور وہ جو انڈیا سے آ رہے ہیں کیا وہ دو دن بعد واپس چلے جائیں گے؟”۔

چودھری صندل کے ان سوالات پر خاموش ہو گیا۔ بھائی کو چپ دیکھ کر وہ بھی کچھ مایوس سی ہونے لگی۔ "وہ لوگ ناردرن ایریا کے بعد گوادر پورٹ بھی جائیں گے”۔

وہ لان کے گھاس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی تو چودھری اور بھی حواس باختہ ہو گیا۔

"کیا؟؟ تم گوادر پورٹ بھی جاؤ گی؟” پریشانی اس کے چہرے پر در آئی تھی۔

"اوہ نہیں بھیا! وہاں تو ان کے ساتھ کوئی اورکالج جائے گا”۔ اس نے چہرہ اٹھا کر بھائی کی طرف دیکھتے ہوے کہا تو اس نے سکون کا سانس لیتے ہوئے سر کرسی کی پشت پر ٹکا تے ہوئے کہا۔ "شکر ہے”۔

چودھری کے یہ الفاظ سنتے ہی صندل کے چہرے پر رونق آ گئی وہ مسکراتے ہوئے اٹھی اور بھائی کے گلے میں بانہیں ڈالتے یوئے بولی۔ "تھینک یو بھیا”۔

"کس بات کے لیے”۔ چودھری نے اس کے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔

اجازت دینے پر۔”

"میں نے کب دی اجازت؟” تو اس نے ہنس کر کہا۔ ” ابھی تو آپ نے شکر ادا کیا کہ میں صرف ناردرن ایریا جاؤں گی گوادر پورٹ نہیں”۔

"ٹھیک ہے بیٹا! مگر احتیاط لازم ہے”۔  چودھری نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ "اوہو بھیا! اب میں بڑی ہو گئی ہوں۔ بچی نہیں رہی”۔

صندل کے ان الفاظ پر چودھری گہری سانس لیتے ہوئے بولا "بیٹا، بیٹیاں جب بڑی ہو جاتی ہیں تو اور بھی نازک ہو جاتی ہیں ماں باپ کی فکریں بڑھ جاتی ہیں”۔

"بھیا! اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ اچھا اب میں کچھ دن کالج سے لیٹ آیا کروں گی آپ بھابی کو بتا دیں پلیز روز مجھ سے کہانی نہیں سنائی جاتی”۔ صندل کی اس بات پر چودھری بے چارگی سے بولا۔ "اف!! میری بیٹی یہ چاہتی ہے کہ وہ کہانی نہ سنائے اور اس کا بھائی روز لمبی سی کہانی سنے چودھری کے ان الفاظ پر دونوں زور سے قہقہہ لگا کر ہنس دیئے۔

مزید ناول: تیرے قرب کی خوشبو

(جاری ہے)

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close