Main Sliderفیچر

مثبت و منفی سازشی نظریات اور ہمارا سماجی و سیاسی کلچر

ریاستوں کے سیاسی معاملات میں ایک اہم نظریہ، سیاست کا "سازشی نظریہ” ہے، جسے سیاست کی غیر تصدیق شدہ کہانی یا عرف عام میں کانسپریسی تھیوری بھی کہا جاتا ہے۔ اسے اس وقت پنپنے کا موقع میسر آتا ہے جب معمول سے ہٹ کر واقعات وقوع پزیر ہوں۔

ایسے واقعات کے فوری محرکات بظاہر بہت سادہ اور عام فہم ہوتے ہیں لیکن کچھ وقت گزر چکنے کے بعد ان محرکات و عوامل کے تانتے کسی دوسری ہی کہانی سے جڑنے لگتے ہیں۔ یہ عوامل چند مفروضات سے جنم لیتے ہیں۔ جس سے انسانی سوچ اپنی سادہ اور عام فہم نہج سے نکل کر قدرے مشکل اور پیچیدہ روش کو اپنانے لگتی ہے۔ اس طرح اسے یکسر متضاد و منفرد امکانات پر سوچنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔

مفروضات کو عموماًاستدلال و فکری تجزیات کی بنا پر پرکھتے ہوئے ان سے متعلق ٹھوس شواہد اکٹھے کئے جانا ضروری ہوتا ہے تاکہ کہانی کا درست یا فاسد ہونا ثابت کیا جا سکے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ایسی تھیوریاں جواکثر افواہوں میں جنم لیتی ہیں ان کی جانچ پڑتال کیئے بنا ہی انہیں عوام الناس میں پھیلایا اور قابل یقین بنا دیا جاتا ہے۔

یہ کہانیاں کسی ایک اہم واقعے کا کچھ مدت بعد منظر عام پر آنے والا ایسا وضاحتی بیان بھی ہو سکتی ہیں، جس سے درحقیقت عوامی نظریہ سازی یا فکری عمل کو ایک مخصوص نہج پر استوار کر دینا مطلوب ہوتا ہے۔ تاکہ افراد معاشرہ کے مزاحمتی ردعمل کو روکتے ہوئے مخصوص ریاستی مفادات کو پروان چڑھایا جا سکے۔ ان کے ذریعے کسی واقعے سے متعلق اک تلخ حقیقت اور گہرے سچ کو دباتے ہوئے، عوام کے لیے قدرے کسی بھیانک اور دل دہلا دینے والے لیکن دلچسپ جھوٹ کو قابل قبول بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

بعض حالات میں اس نظریئے کو پھیلانے میں افواہ سازوں کے منفی اور ناقابل تلافی عزائم بھی پس پردہ اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ جنہیں سمجھنا خاصا دشوار ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ مفروضات کچھ اس قدر مضبوط بنیادوں پر استوار کیے جاتے ہیں کہ جنہیں جھٹلانا آسان نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان جنگ کے 17 سال۔۔۔

انہیں سمجھنے کے لیے مشہور سیاسی مفکر مائیکل بارکن کے اس خیال سے بھی مدد لی جا سکتی ہے کہ "کانسپریسی تھیوریز کا تعلق دراصل اس خیال پر ہوتا ہے کہ کائنات کی بنیاد تین اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ نمبر ایک کہ کچھ بھی حادثاتی طور پر نہیں ہوتا۔ دوم کچھ بھی اس طرح نہیں جس طرح نظر آتا ہے اور تیسرا یہ کہ ہر شے کا ایک دوسرے سے تعلق ہے”۔

ان کہانیوں کی ڈینئیل پائپس جیسا امریکی سکالر دو ٹوک الفاظ میں وضاحت یوں کرتا ہے "سازشی تھیوری ایک ایسی سازش کو کہا جاتا ہے جو دراصل کبھی ہوئی ہی نہ ہو” ایک اور امریکی پروفیسر نے اپنی کتاب امریکن کانسپریسی تھیوریزمیں لکھا ہے ” کانسپریسی تھیوریاں دراصل ناکام لوگ بناتے ہیں۔ انتخابات میں ہارجانے والے یا دولت و اثر ورسوخ کھو دینے والے لوگ اپنے نقصان کے مداوے کے لیے ایسا کرتے ہیں”۔

امریکہ میں سی آئی اے کا ادارہ اسے ایک سپر پاور کی حیثیت سے زندہ رکھنے کے لیے ایسی سازشیں تیار کرتا ہی رہتا ہے۔ امریکی عوام میں اکثریت ان تھیوریوں کو مانتی ہے۔ خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ کئی کانسپریسی تھیوریوں کو سچ مانتے ہیں۔

دنیا میں رونماہونے والے کئی واقعات اپنے پیچھے مضبوط کانسپریسی کہانیاں چھوڑ گئے۔ آج بھی دنیا کے اکثریتی ممالک میں عوام کا ایسا ماننا ہے کہ عراق پر حملہ پس پردہ اس کے تیل پر قبضے کی خاطر کیا گیا۔ نائن الیون کے واقعات، مسلمانوں پر جارحانہ ہاتھ ڈالنے کے لیے کرائے گئے۔ اور پاکستان میں اسامہ بن لادن پر حملہ بھی ایجنسیوں کا رچایا ڈرامہ تھا۔

ان کہانیوں کے منفی اور مثبت دونوں طرح کے ہی اثرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ کہانیاں سچ بھی ثابت ہو سکتی ہیں اور جھوٹ بھی۔ لیکن اگر یہ جھوٹ بھی ہوں تو بھی اکثر ثبوت کی عدم دستیابی کے باعث درست ہی مانی جاتی ہیں کیونکہ یہ اس قدر اثر پذیر ہوتی ہیں کہ معاشرے کا دانشور طبقہ بھی ان کے زیر اثر آئے بنا نہیں رہ سکتا۔

پڑھنا نہ بھولیں: توانائی بحران کے اسباب کیا ہیں؟

اس کی ایک وجہ پر اثر پروپیگنڈہ بھی ہے جو انتہائی مضبوطی سے ایک تسلسل کے ساتھ پیش کیا جارہا ہوتا ہے اور دوسری وجہ اس خاص واقعے کی پیش کردہ وہ توجیہہ ہوتی ہے جو ایک پاپولر یا مشہور نظریئے سے ہٹ کر پیش کی جاتی ہے۔

اکثریتی سوچ و فکر سے ہٹ کر پیش کیے جانے والے عوامل اکثر دلچسپی و توجہ کا باعث بنتے ہیں۔ گو کہ ان کہانیوں کا خمیر اکثر جھوٹ کے وجود سے اٹھتا ہے لیکن اس کے تصوراتی خیال کی پیش کش کچھ اس کمال کی ہوتی ہے کہ واقعات و خیالات کا تسلسل اس کے ممکنہ اسباب کو خود بخود اخذ کرتے ہوئے اسے امر بنا دیتا ہے۔

لوگ اپنی انسانی ونفسیاتی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر، خیالات و واقعات کی تفصیل و تدبیر میں ندرت اورتنوع کے طلبگار رہتے ہیں۔ وہ واقعات کے ایک ہی تناظر و منظر نامے کی یکسانیت سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ان نئے تصورات سے انہیں نئی فکر و توانائی کشید کرنا دلچسپ لگتا ہے۔

وہ بنا تحقیق و تدبر اور سائنسی فکر کے بھی انہیں قبول کر لیناچاہتے ہیں۔ اور پھر ان کہانیوں کو پھیلانے کے عمل میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ سازشیں لوگوں کے ذہن، خیالات اور اعتقادات کو بدلنے میں ایک بھیانک کردار بھی ادا کر سکتی ہیں۔

 یہ مفروضاتی سفر ایک تحریک بھی بن سکتا ہے اور ایک انقلاب میں بھی ڈھل سکتا ہے۔ دنیا کے سیاسی منظر نامے پر کئی ایسے مفروضات نے بھی جنم لیا جن کی گرفت میں آ کر انسان جنگ و جدل کا شکار بھی ہوا،اور کئی ریاستیں ان مفروضات کی وجہ سے ہی اپنے ہاتھوں خود اپنا ناقابل تلافی نقصان بھی کر بیٹھیں۔

ضرور پڑھیں: ‘حجاب’ عزت،تحفظ، خوبصورتی اور اسلامی ثقافت کی علامت

سقوط ڈھاکہ میں بھارتی سازشی کہانیاں ایک مضبوط پروپیگنڈہ کی صورت ملک کو دولخت کرنے میں کارگرثابت ہوئیں۔ اسی طرح عراقی صدر صدام حسین کے خلاف پھیلائی گئیں سازشی کہانیاں ان کے بد ترین انجام کا جواز بنیں۔ دنیا میں ایسے کئی واقعات وقوع پزیر ہوئے جن کا جواز ایسی سازشی کہانیوں سے بہم پہنچایا گیا۔

ایسے مفروضات کو بنا تصدیق کے آسمانی صحیفہ سمجھ کر اپنا لینے کا چلن عموماً تجزیاتی و استدلالی فکر کی کمی کا شکار قومیں اپناتی ہیں جن میں مشرق وسطیٰ اور ایشیا کی ریاستیں سرفہرست ہیں۔ جہالت اور لاعلمی کا شکار ان قوموں کو مغرب بھی سازشی نظریات کی بھٹی بنائے رکھتا ہے جن سے وہ اپنے مخصوص سیاسی و سماجی مفادات کا حصول ممکن بناتے ہیں۔

ان کے اپنے اندر بھی ریاستی ادارے مخصوص مفادات کے لیے انہیں ایسی تھیوریز کا اچھا خاصا ایندھن مہیا کرتے رہتے ہیں۔ خصوصاً وہ حکمران جو زبردستی عوام پر مسلط رہنا چاہتے ہیں وہ اپنے مفاد کی خاطر دنیا کے بچھائے گئے سازشی پلان کا حصہ بنتے ہیں۔

موجودہ ورلڈ آڈر کے نفاذ کے لیے یہ تھیوریاں بڑی طاقتوں کا ہتھیار ہیں۔ وہ نا صرف اپنے ملک کی رائے عامہ کو قابو میں کرنے کے لیے ان سازشی نظریات سے کام لیتی ہیں بلکہ چھوٹے ملکوں کو بھی ان میں الجھائے رکھتی ہیں۔ ان کے پاس انہیں پھیلانے اور بھرپور طور پر منوانے کے لیے ایک طاقتور اور کارآمد مشینری میسر رہتی ہے جس کا نیٹ ورک انتہائی کامیابی اوررازداری سے اپنا کام کرتا ہے۔

ماضی میںانہی کے بل بوتے پر سلطنت عثمانیہ سے عرب علاقوں کو الگ کیا گیا، مڈل ایسٹ کی حکومتوں کے تختے الٹے گئے اور کمال مہارت سے آج کے زمانے میں مغرب کی عوام کے ذہنوں میں اسلامو فوبیا کا بیج بویا جارہا ہے۔

اہم تحریر: ڈکٹیٹر شپ سے جمہوریت تک کے سفر کی داستان لہو رنگ

بڑی طاقتوں سے وابستہ ایسی کئی تھیوریاں بھی گردش میں رہیں جن کے متعلق ٹھوس شواہد خود ان ملکوں کی اندھی طاقت کی پول کھولتے ثابت ہوئے۔ مثلًا دوسری عالمی جنگ میں امریکہ کا جاپان پر ایٹمی حملہ جو بظاہر پرل ہاربر کے حملے کا ردعمل قرار دیا گیا اس کے بارے یہ تھیوری گردش میں آئی کہ اس حملے کی راہ خود امریکہ نے جاپان پر ایٹمی حملے کو جواز دلوانے کے لیے استوار کی۔

لبنان سے ابھرنے والی یہ تھیوری کہ عراق میں تشکیل پائی جانے والی دولت اسلامیہ امریکی تخلیق تھی کے بارے خود سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنی کتاب” ہارڈ چوائسز” میں اس مفروضے کی تصدیق کی۔ شام کی صورتحال کی اندرونی کہانی بھی کئی سازشی نظریات کا مرکب ہے۔

مغرب میں سازشی تھیوریوں کا تجزیہ ان کے تعلیمی اداروں میں سائنسی و استدلالی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ وہاں مخصوص تھنک ٹینک بھی ایسے واقعات کا تنقیدی تجزیہ کرتے ہیں اور عام عوام بھی معاملات و حالات پر اپنا استدلالی تدبر استعمال کرتے ہیں اس لیے انہیں مطمئن کرنے کے لیے اصل حقائق پر پردہ ڈالنا حکومتوں کے لیے ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے جس کے لیے پوری ریاستی مشینری کو متحرک کیا جاتا ہے

لیکن ہمارے یہاں عوام ان تھیوریوں کو پرکھنے کے بجائے ان پر اندھا دھند اعتقاد قائم کر تے ہیں اور بعض اوقات ردعمل کے اظہار میں خود اپنے آپ کو نقصان پہنچا لیتے ہیں۔ ایسی تھیوریوں پر سیر حاصل بحث کا مرکز ہمارے تھڑے، کینٹینیں، چائے کے کھوکھے اور حجام کی دکانوں کے علاوہ دیہاتی چوپال،شہری دفتری مراکز،بازار،منڈیاں حتیٰ کہ گھر بھی ہوتے ہیں۔ اب تو سوشل میڈیا بھی انہیں پروموٹ کرنے کا ایک منظم ادارہ بن چکا ہے۔

ہم ایسی تھیوریوں سے جن میں بیرونی دنیا کے طاقتور ریاستی و سیاسی ایکٹرز کا ہمارے لیے منفی کردار کارفرما ہوتا محسوس ہوتا ہے،ہم شدید عدم تحفظ اور بے بسی کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ہمارا رویہ ان کے لئے نفرت انگیز اور جارحانہ اور تخریبی ہو نے لگتا ہے۔

یہ تحریر بھی ملاحظہ کریں: صنفی امتیاز، یہ تو ہمارا ’معاشرتی حق‘ ہے

ایسی اکثر کہانیوں کو پھیلانے کا مقصد ہی بیرونی عناصر کو ہمارے لیے قابل نفرت بنانا ہوتا ہے۔ نا صرف ایسے مفروضوں کا شکار بیرونی دنیا کو بلکہ خود ہمارے اپنے اندر موجود لوگوں یا اداروں کو بھی بنایا جاتا ہے۔ہم اندرونی طور پر معاشرتی و سیاسی سطح پر ایسے کئی مفروضات کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں جو خود ہمارے لئے نقصان دہ ہیں۔ ہر جگہ ہر سطح پر ایسی نقصان دہ کہانیاں جرم اور نفرت کو جنم دے رہی ہیں ایسی ہی سنی سنائی کہانی کا انجام ماضی میں بپھرے ہوئے ہجوم کے ہاتھوں کبھی مغیث اور منیب تو کبھی مشال کے اندھے قتل کی صورت سامنے آیا۔

سازشی کہانیاں بنانا اور پھیلاناہمارا معاشرتی، سماجی و سیاسی کلچر بن چکا ہے۔ یہاں عالمی سطح پر ملک کے ہر مسئلے اور واقعے کے پیچھے امریکہ یا اسرائیل کی سازش تلاش کی جاتی ہے۔ اسامہ بن لادن کا پاکستان میں قتل امریکہ کی سازش، ملالہ امریکی ایجنٹ، پاکستان میں طالبان کے ہر حملے کے پیچھے امریکی سازش، یہاں تک کہ پاکستان میں 2005 میں آنے والا تاریخی زلزلہ بھی امریکی سازش۔

ہمارے لیے سماجی و سیاسی مظاہر کی بنیاد ہی سازش ہے۔ ہمارے لیے یہ سبھی سازشی کہانیاں سچ ہیں کیونکہ انہیں سچ ثابت کرنے کے لیے ہمارا میڈیا دن رات بہت محنت کرتا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کے لیے پاکستان میں سازشیں بننا اور پھیلانا بہت آسان ہیں۔ اسے ایک ایسی سکیورٹی ریاست بنا دیا گیا ہے جہاں ایجنسیاں چوبیس گھنٹے، عوام کی سوچ اور عقائد کو چھلنی سے گزارنے کے لیے ہاتھوں میں چھلنیاں لیے بیٹھی ہیں۔

ان مفروضوں پر اندھے اعتقاد کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم تحقیق اور استدلال سے خالی ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ہماری بے بسی اور کم علمی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ ہمیں جذباتی اور انتہا پسند بھی بناتی ہے۔ جب تک ہمارا کلچر ایک سلجھے ہوئے دانشورانہ و ذمہ دارانہ کلچر میں نہیں ڈھلتا ہمیں منفی و مثبت تھیوریوں میں فرق کرنا نہیں آئے گا۔ اور جب تک ہمارا دانشور طبقہ بھی معروضی و استدلالی فکر کا حامل بن کر اپنا کردار ادا نہیں کرتا ہم اندرونی و بیرونی طور پر ان جھوٹی کہانیوں کے پھیلائے انتشار کا شکار رہیں گے۔

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close