Main Sliderفیچر

پاکستان کی بندرگاہیں

ملکی تجارت کے حجم میں اضا فہ اس کی مجموعی ترقی کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔ ملک کی اندرونی تجارت نہ صرف اس کی اپنی ضروریات کو پورا کرتی ہے بلکہ خطے کی مجموعی پیداوار ی ضروریات کے توازن کو برقرار رکھتی ہے۔

بین الاقوامی تجارت کے دو اہم مقاصد ہوتے ہیں۔ملکی استعمال سے زائد اشیا کی کھپت یعنی برآمدات اور ان اشیا کی فراہمی جو ملک میں پیدا نہیں ہوتیں یعنی درآمدات کی دستیابی کو یقینی بنانا۔ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ملکی ترقی کا ضامن ہے۔ پاکستان ایک ذرعی ملک ہے۔اسکی اہم برآمدات میں چاول،کپاس، آم، چمڑے کی مصنوعات ،ٹائل، سیمنٹ اور کھیلوں کا سامان وغیرہ شامل ہے۔

ملکی سالانہ برآمدات کا حجم 24 بلین امریکی ڈالر ہے۔ اسی طرح درآمدات میں مشینری، ادویات، کیمیکل، ٹوبیکو، پلاسٹک اورگیس شامل ہیں۔ ملکی سالانہ درآمدات کا حجم تقریباً 36  بلین اامریکی ڈالر ہے۔ اس طرح پاکستان میں درآمدات و برآمدات کا خسارہ 13 بلین امریکی ڈالر ہے۔ جس کی وجہ سے غیرملکی قرضوں پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے جو ملکی ترقی کے لیے زہرقاتل ہے۔ اسی خسارے کی وجہ سے ہم غیرلکی قرضے لینے پر مجبور ہیں۔

ملکی اقتصادی ودفاعی ترقی کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ٹرانسپورٹیشن سیکٹر ایک نمایاں عنصر ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی معاشی منڈی میں تجارتی ساکھ کو برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ وقت پر مال کی سپلائی ملکی امیج کو بہتر کرنے میں معاون ہوتی ہے۔

ہیوی مشینری اور فوجی سازوسامان کی نقل و حمل سمندر کے ذریعے سستی اور آسان ہے۔ بندرگاہ سمندر سے زمین کی طرف سفر کا دروازہ ہے۔ بندرگاہ پانی میں موجود وہ علاقہ ہے جہاں بحری جہاز کو کھڑا کر کے سامان لادا اور اتارا جاتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کی گہماگہمی بندرگاہوں کی مرہون منت ہے۔ سازوسامان اور مسافروں میں سالانہ اضافہ بندرگاہوں کی ملکی ترقی میں افادیت کو اجاگر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: افغان جنگ کے 17 سال۔۔۔

بندرگاہیں نہ صرف مقامی معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہوتی ہیں بلکہ یہ زمینی ٹرانسپورٹ اور سمندر کے درمیان رابطہ کا موثر ذریعہ ہیں۔بندرگاہیںمقامی و غیرمقامی مزدوروں کیلیے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ نیز سازوسامان کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ کی صورت میں ملنے والے ٹیکس کی صورت میں ملکی معیشت کی بحالی اور استحکام میں بے پناکردار ادا کرتی ہیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات میں تیل اور گیس کا بنیادی کردار ہے۔ دنیا میں توانائی کی طلب میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی پر ہونے والی کانفرنس کے مطابق 2020 تک دنیا میں قدرتی گیس کی سالانہ کھپت میں 2.77 فیصد اور تیل کی سالانہ کھپت میں 3.5 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔

ان اعدادوشمار کی روشنی میں آنے والے تقریباً 34 سالوں تک تیل اور گیس کی کھپت دوگنا ہو جائے گی۔ جو دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اسی لیے تمام ممالک مستقبل کے معاشی مسائل کے حل کے لیے اپنی حکمت عملی پر ازسرنو غور کر رہی ہیں۔ ۔موجودہ دور میں توانائی کا بروقت حصول پایئدار معاشی ترقی کا زینہ ہے۔

پاکستان، انڈیا اور چین توانائی کے ذرائع کے حصول کیلیے کوشاں ہیں۔پاکستان کی ستانوے 97  فیصد امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ شپنگ سے وابستہ ہے۔ موجودہ دور میںایندھن ملک کی ٹرانسپورٹ اور صنعت کو چلانے کیلیئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا میں تیل اور گیس ایندھن کے حصول کا بڑاذریعہ ہیں۔تیل نہ صرف ٹرانسپورٹ کیلیے  اشد ضروررت ہے۔ بلکہ اس کے ذریعے بجلی کی پیدا وار کم سے کم وقت میں ممکن ہے۔

تیل سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ کسی بھی جگہ پر نصب کیے جا سکتے ہیں۔ بجلی سے کارخانے چلا کر ااور ملک کو اندھیروں سے نکال کر ترقی کی نئی منزلوں کی طرف گامزن کیا جا سکتا ہے۔ صنعتی ترقی کا انقلاب توانائی کے بحران پر قابو پا کر برپا کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: توانائی بحران کے اسباب کیا ہیں؟

یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ زمانہ قدیم سے ملکی معیشت اور دفاع کو مضبوط بنانے میں بندرگاہیں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ انڈسٹری کو بیرون ملک سے را مٹیریل منگوانے اور اپنا بنایا ہوا مال بیرون ملک بھجوانے کیلیے سستے اور محفوظ ذرائع درکار ہوتے ہیں۔

سمندر کے ذریعے سامان کی نقل و حرکت دوسرے ذرائع مثلاً سڑک ، ریلوے اور ہوائی جہاز سے دس گنا کم لاگت سے ممکن ہے۔اسی لیے دنیا میں زیادہ تر انڈسٹریز سمندر کے کنارے ہوتی ہیں مشرق وسطی کے ممالک ایران، سعودی عرب، عراق، شام وغیرہ تیل کی دولت سے مالامال ہیں۔ان ممالک سے پوری دنیا میں تیل کی سپلائی سمندر کے  راستے ہوتی ہے۔

گوادر بندرگاہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا ضلع گوادر 600 کلومیٹر کے طویل ساحل پر مشتمل ہے۔ 1958تک گوادر خلیجی ریاست عمان کا حصہ تھا۔ 8 دسمبر 1958 کو عمان سے حکومت پاکستان نے 55 کروڑ روپے میں خریدا تھا۔1964 میں گوادر کو بندرگاہ کے لیے موزوں قرار دیا گیا۔ 2002 میں چین کے تعاون سے بندرگاہ کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ 2 مارچ 2013 کو ایک تاریخی معاہدہ کے تحت حکومت پاکستان نے گوادر پورٹ کا آپریشن انچارج چین کی سرکاری کمپنی چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ لمیٹڈ کے سپرد کر دیا گیا تھا۔

گوادر دنیا کی تیسری گہری ترین اور گرم پانی کی بندرگاہ ہے۔دنیا میں گرم پانی کی بندرگاہیں بہت کم تعداد میں ہیں۔ گرم پانی کی بندرگاہ پورا سال تجارتی سرگرمیوں کا مرکز رہتی ہے۔ جبکہ ٹھنڈے پانی کی بندرگاہ صرف موسم گرما میں ہی استعمال کے قابل ہوتی ہے۔ اس لیے گرم پانی کی بندرگاہ ملکی ترقی و تجارت میں خاص اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی معاشی طاقت ہے۔ چین کے پاس گرم پانی کی کوئی بندرگاہ نہیں۔

گوادر پورٹ کی تعمیر اور ترقی سے مغربی چین بھی ترقی کرے گا۔ گوادر سے چین کے شہر کاشغر کا فاصلہ 1500کلومیٹر اور چین کی مشرقی کوسٹ 3500 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ چین کے 60 فیصد توانائی کے ذرائع خلیج فارس کے راستے عموماً   گوادر سے چین کے شہر کاشغر کا فاصلہ 1500کلومیٹر اور چین کی بندرگاہوں سے 3500 کلومیٹر ہے اسٹریٹ آف ملاکہ سری لنکا کے ذریعے پہنچتے ہیں۔جس کے لیے چینی بحری جہازوں کو 10000 کلومیٹرراستہ طے کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں: بزرگوں کا احترام اور خدمت ہمارا فرض ہے!

گوادر پورٹ کی وجہ سے یہ فاصلہ 2500 کلومیٹر رہ جاتا ہے۔امریکہ اگرسٹریٹ آف ملاکہ کو بند بھی کر دے تو چین کیلیئے بحیرہ عرب کا راستہ ہمیشہ کھلا رہے گا۔چین کی شنگھائی پورٹ اس کے انڈسٹریل ایریا سے 4300 کلومیٹر دور ہے۔جبکہ گوادر پورٹ سے 2500  کلومیٹر دور ہے۔گوادر سے تیل درآمد کرنے پر چین کو سالانہ 20 ارب ڈالر کی بچت ہو گی اور پاکستان کو سالانہ 5 ارب ڈالر کی آمدن ہو گی۔

گوادر کی بندرگاہ سے 2 لاکھ خاندانوں کو روزگار اور روشن مستقبل ملے گا۔وسطی ایشیا کی ریاستوں کو گوادر پورٹ پر سہولیات فراہم کر کے قومی آمدنی میں 40 ارب ڈالر کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ گوادر دنیا کے سب سے بڑے تجارتی راستے آبنائے ہرمز پر واقع ہے۔ جو خلیجی ریاستوں کے تیل کی برآمدات کا واحد بحری راستہ ہے۔ دنیا کے تیل کی برآمدات کا کی20 فیصدترسیل اسی راستے کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس سے دو اسلامی ممالک ایران اور افغانستان کی سرحدیں بھی ملتی ہیں۔

گوادر پورٹ کے بننے سے پاکستان ایک معاشی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔اگر ہم مغربی چین اور وسط ایشیائی ممالک کو دیکھیں تو یہ قیف کی مانند ہیں اور قیف کے چوڑے حصے پر گوادرپورٹ واقع ہے۔ گوادر کی بندرگاہ بحیرہ عرب کے سرے پر اور خلیج فارس کے دھانے پر واقع ہے۔ گوادر پورٹ کراچی کے مغرب میں 460 کلومیٹر پر،پاکستان کی سرحد سے مشرق میں ایران سے 75 کلومیٹر اور شمال مغرب میں بحیرہ عرب کے پار عمان سے 380 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

بھارت سے ہمارا فاصلہ 460 کلومیٹر بڑھ گیا ہے۔جس سے انڈین نیوی کی سرگرمیوںپر نظر رکھنا آسان ہے۔ہم بھارت کی آنکھوںسے دور اور بھارت ہماری آنکھوں کے سامنے آ گیا ہے۔ ۔کیوں کہ گوادر سے سی لائنزآف کمیونیکیشن کو مانیٹر کرنے میں مدد ملے گی۔ سینٹرل ایشیا کی ریاستیں 1-6ملین مربع میل کے رقبے پر مشتمل ہیں۔ کیسپین کے سمندری خطے میں 200 بلین بیرل تیل کے ذرائع اور 3000 بلین کیوبک میٹرز گیس کے ریزروز ہیں۔ افغانستان میں امن و امان قائم ہوتے ہی چین، جنوبی ایشیا اورپاکستان سمیت 20 ممالک کے درمیان تجارت گوادر کے ذریعہ ہی ہو گی۔

گوادرکی بندرگاہ خلیج فارس،بحیرہ عرب، بحیرہ ہند اور خلیج بنگال سمیت کئی بندرگاہوں سے زیادہ گہری ہے۔ اس میں بڑے بڑے کارگو بحری جہاز بآسانی لنگرانداز ہو سکیں گے۔ جن میں اڑھائی لاکھ ٹن وزنی بحری جہاز تک شامل ہیں ۔بندرگاہ کی گہرائی 14.5میٹر ہے۔ اس کا ایک فیز مکمل ہو چکا ہے۔ جس میں 3 برتھ اور ایک ریمپ شامل ہے۔ ریمپ پر بحری جہاز لنگرانداز ہو سکیں گے۔5 عدد فکس کرینیں، ایک موبئل کرین اور ایک آر ٹی جی کرین آپریشنل حالت میں لگ چکی ہیں۔

مزید پڑھیں: 8 اکتوبر 2005ء کی زخمی زخمی یادیں

ایک برتھ کی لمبائی 600 میٹر ہے جس پر بیک وقت کئی جہاز کھڑے ہونے کی گنجائش ہے۔دوسرے فیز میں دس برتھوں کی تعمیر ہوگی۔ بندرگاہ چلانے کے لیے تمام بنیادی سامان اور آلات لگ چکے ہیں۔ وسط ایشیا کے ممالک سے رابطے کے لیے بین الاقوامی معیا ر کی سڑکوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔

ایم-8کی تعمیر شروع ہے۔ جو تقریباً 892 کلومیٹر کی موٹروے ہے۔ جو گوادر کو تربت، آواران، خزدار اور رٹوڈیرو سے ملائے گی۔ اسی طرح ایم-7،ایم-6 اور انڈس ہائی وے کے ذریعہ گوادر کو چین سے ملایا جائے گا۔ اسی طرح گوادر کو ایران اور افغانستان سے ملانے کے لیے بھی سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔

 جغرافیہ اور تاریخ نے ہمیشہ سماجی اوداد وشمار اور تہذیب کی نشوونما اور ترقی پر اپنے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے گوادر پاکستان کی ترقی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ گوادر پاکستان کے دشمنوں کی آنکھ میں کانٹے کی مانند کھٹکتا ہے۔انڈیا اپنی مخصوص ذہنیت اور سابقہ تاریخ کے پس منظر میں گوادر کو متنازہ بنانے کیلیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔

کالاباغ ڈیم کے نہ بننے میں ملک دشمن سیاسی قوتوںکے کردار کے پیچھے ہندو بنیے کی گھٹیا سوچ کارفرما ہے۔ بلوچ علیحدگی پسندوں کو اانڈیا کی سپورٹ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ لیکن پاک آرمی کے کامیاب آپریشن اور عوام دوست پالیسیوں کی بدولت بلوچ علیحدگی پسند نہ صرف دہشتگردی کی جنگ ہار چکے ہیں بلکہ عوامی ہمدردی سے بھی ہاتھ دھو چکے ہیں۔

پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کی طرف پہلا قدم ہے۔ جس کا مقصد جنوب مغربی پاکستان سے چین کے شمال مغربی خودمختارسنکیانگ تک گوادر بندرگاہ، ریلوے اور موٹروے کے ذریعہ تیل اور گیس کی کم وقت میں ترسیل کرنا ہے۔ اقتصادی راہداری پاک چین تعلقات میں مرکزی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کی لاگت 46 بلین ڈالر ہے۔ جن میں 33.4 ارب ڈالر کے منصوبے توانائی سے متعلق ہیں۔ جو مجموعی طور 8270  میگاواٹ کی کی بجلی پیدا کریں گے۔

کراچی بندرگاہ

کراچی بندرگاہ پاکستان کی سب سے بڑی اور مصروف ترین بندرگاہ ہے۔ یہاں سالانہ 2.5 کروڑ ٹن کے سامان کی تجارت کی جاتی ہے۔ جو پاکستان کی کل تجارت کا 60فیصد ہے۔ بندرگاہ قدیم کراچی شہر کے قریب کیماڑی اور صدر کے علاقوں کے درمیان واقع ہے۔ اپنے جغرافیائی محل وقوع کے باعث یہ بندرگاہ اہم آبی گزرگاہوں آبنائے ہرمز کے بالکل قریب واقع ہے۔

کراچی پورٹ 11.5 کلومیٹر نیویگیشن چینل اور12.2 میٹر گہرے پانی پر مشتمل ہے۔ جو 75000 ٹن ڈیڈ ویٹ کے لیے محفوظ جہاز رانی کی سہولت مہیا کرتا ہے۔ بندرگاہ کا علاقہ دو گودیوں پر مشتمل ہے۔ مشرقی گودی سات برتھوں اور مغربی گودی تیرہ برتھوں پر مشتمل ہے۔ دونوں گودیاں کنٹینر ٹرمینل پر مشتل ہیں۔ کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل کا آغاز1996میں ہوا۔ جومغربی گودی کی برتھ گھات نمبر 28-30 پر واقع ہے۔

یہ سالانہ تین لاکھ ٹی ا۔ای۔یو۔ایس تک کارگو کو ہینڈل کر سکتا ہے اور پانی کی گہرائی 11 میٹر تک ہے۔ گھاٹ کی لمبائی چھے سو میٹر ہے۔ جو دو کنٹینر برتھوں میں منقسم ہے۔ ٹرمینل  تین پینامیکس کرینوں سے لیس ہے جبکہ لوڈنگ اور ان لوڈنگ کی جدید ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک پوسٹ پینامیکس کرین بھی نصب ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل کا آغاز 2002 میں ہوا جو مشرقی گودی کی گھات کی برتھ نمبر 6-9 پر واقع ہے۔ یہ سالانہ 3لاکھ پچاس ہزار ٹی۔ای۔یو۔ایس تک کارگو ہینڈل کرسکتے ہیں۔ ٹرمینل پر دو پینامیکس کرینیں نصب ہیں ۔

کراچی بندرگاہ کے اردگرد کا علاقہ مختلف قسم کے منگروز کے جنگلات پر مشتمل ہے۔ ان جنگلات کو انسانی سرگرمیوں سے خطرہ لاحق ہے۔ کراچی پورٹ کے مشرق میں چنا کی ندی واقع ہے۔ جس کے چاروں طرف گروو کے جزیرے ہیں۔ جنوب مغرب میں مختلف جزیروں اور خلیج سے گھرا ہوا ایک بڑا جنگل ہے۔

مزید پڑھیں: ڈاک کا عالمی دن اور ہمارا ڈاک کا نظام

اس خلیج میں لیاری کا نالہ گرتا ہے۔لیاری کا نالہ مضافاتی علاقوں کے فضلے پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس فضلے میں کوڑا کرکٹ، غلاظت اور دوسرے بدبودار لوازمات ہوتے ہیں۔ جو نہ صرف سمندری مخلوق جیسے مچھلی، کچھوا وغیرہ کی موت کا باعث بنتے ہیں۔ بلکہ یہ گندہ پانی جنگلات کی تباہی کا مؤجب بھی ہوتا ہے۔

اس سے سمندر اور اردگرد کا علاقہ تعفن اور بدبو کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ اس سے پورے علاقے میں چلنے والی ہوائیں اس بدبو کو چاروں طرف پھیلا دیتی ہیں۔جس سے لوگوں میں متلی اور قے کی بیماری پھیل جاتی ہے۔ سمندری پانی کا تحفظ اور صفائی سمندری مخلوق اور سمندر کے اردگرد بسنے والی عوام کی صحت کے لیے اشد ضرورت ہے۔

پورٹ محمد بن قاسم

پورٹ قاسم پاکستان کی دوسری بڑی تجارتی بندرگاہ ہے۔ یہ کراچی سے مشرق کی طرف 35کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ پورٹ قاسم پر آٹھ آپریشنل ٹرمینل ہیں۔ جن میں ایک کثیرالمقاصد ٹرمینل ہے۔ اس کی سامان رکھنے کی ڈیڈویٹ صلاحیت 35 ہزار ٹن ہے۔ یہ چار برتھوں پر مشتمل ہے۔ ایک برتھ کی لمبائی 200 میٹر ہے ۔اس کے علاوہ گندم اور کھاد کا ٹرمینل ہے۔ جس کی سامان رکھنے کی صلاحیت دو ملین ٹن سالانہ ہے۔

یہا ں سے سالانہ 17ملین ٹن کی تجارت ہوتی ہے۔جو ملکی مجموعی تجارت کا 35 % ہے۔پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ ملک کی مصروف ترین بندرگاہیں ہیں۔جن پر 90 فیصد سے زیادہ بین الاقوامی تجار ت کا دارومدار ہے۔پورٹ قاسم کل 12ہزار ایکڑ (49 مربع کلومیٹر)رقبہ پر محیط ہے ۔جہاں بہت سے اندسٹریل زون کام کر رہے ہیں۔

پاکستان سٹیل مل اور کے۔ای۔ایس۔سی پاورپلانٹ سمیت تقریباً 80 % کے قریب آٹوموبائل انڈسٹری پورٹقاسم پر واقع ہے۔پورٹ قاسم بندرگاہ دو قریبی انڈسٹریل زون کو واٹر فرنٹ کی رسائی فراہم کرتی ہے۔جغرافیائی لحاظ سے پورٹ قاسم اہم سمندری راستوں کے قریب واقع ہے۔پورٹ قاسم ٹرانسپورٹ کے انفراسٹرکچر سے جڑا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: "نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام” خواب سے حقیقت تک

یہ نیشنل ہائی وے سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہونے کی وجہ سے اندرونی علاقوں تک براہ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔اس کے علاوہ یہ چھے ریلوے لائنوں کے ذریعے نیشنل ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ہے۔اس کے علاوہ جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ سے 22 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ملکی ایندھن کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیل کی نسبت گیس کا استعمال سستا اور ماحول دوست ہے۔ پورٹ قاسم پر پاکستان کا پہلا قدرتی مائع گیس امپورٹ ٹرمینل اینگرو کمپنی کے تعاون سے تعمیر ہو چکا ہے۔

اس ٹرمینل پر 135 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہوئی تھی۔ملک میں توانائی کی قلت کو دور کرنے کے لیے 1 لاکھ 30 ہزار کیبک میٹر کی پہلی کھیپ قطر سے اینگرو ایل این جی ٹرمینل پر پہنچائی گئی تھی۔ایل این جی کی پہلی کھیپ لانے والا پہلا بحری جہازفلوٹنگ سٹوریج ری گیسی فیکیشن یونٹ ویسل کے برابر میںڈبل بینکنگ ارینجمنٹ اینگرو ٹرمینل پورٹ قاسم پر لنگرانداز ہوا۔

اس سے قبل ایف ایس آر او کا ٹاسک ایل این جی کی ٹرانسپورٹیشن بھی تھا۔ لنگرانداز ہونے والے ویسل سے325  ایم ایم سی ایف ڈی کے ری گیسی فیکیشن ریٹ سے ایل این جی  گیس آٹھ دن میں ڈسچارج ہوئی تھی۔ اینگرو نے ایل این جی ٹرمینل کے انفراسٹرکچر کو مقررہ وقت سے پہلے مکمل کر لیا تھا۔

گندم اور کھاد کا ٹرمینل بھی مکمل ہو چکا ہے۔ جس کی سامان رکھنے کی صلاحیت 4 ملین ٹن سالانہ ہے۔ پاکستان میں پہلی دفعہ انٹیگریٹڈ کارگو کنٹینر کنٹرول کی سہولت تقریباً 8 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے بھی پورٹ قاسم پر مہیا کی گئی ہے۔ یہ پاکستان کسٹم، امریکن کسٹم اور بارڈر پروٹیکشن کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان سے امریکہ کی منڈیوں میں جانے والا سازوسامان اور امریکہ سے پاکستان آنے والا تجارتی مال اسی سسٹم کے ذریعے چیک کی جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: اہرامِ مصر کی تعمیر اور تاریخ سے متعلق اصل حقائق

اس کا مقصد بین الاقوامی سمندری تجارت کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان اور امریکی کسٹم آفیسرز کی ایک مشترکہ ٹیم وڈیو لنک کے ذریعے سامان کی سکریننگ کرتی ہے۔ امریکہ پہنچنے پر اس سامان کی سکریننگ نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے بندرگاہ انتظامیہ اور بحری جہازوں کا وقت بچ جاتا ہے۔

پورٹ قاسم پر نیوکلیر سکینرز نصب کر دیئے گئے ہیں۔جو دھماکہ خیز اور نیوکلیر مواد کی نشاندہی کریں گے۔نیوکلیر سکینر کی تنصیب دفاعی لحاظ سے ایک قابل ستائش عمل ہے۔کیونکہ موجودہ حالات میں ملکی سیکیورٹی پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت پورٹ قاسم کو آلودگی سے پاک علاقہ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ اس ضمن میں آلودگی سے پاک کوئلہ، سیمنٹ اور کلنکر ٹرمینل بننے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس ٹرمینل کی سامان رکھنے کی صلاحیت 8ملین ٹن سالانہ ہوگی۔ اس منصوبے پر 175 ملین ڈالر کی لاگت آے گی۔

پاوئڈر کوئلہ جب بندرگاہ پر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف فضا کو ابر آلود کرتا ہے بلکہ پھیپھڑوں اور سانس کی امراض کا باعث بنتا ہے۔ جو قریبی آبادی کے علاوہ پورٹ پر کام کرنے والے افراد کی صحت بھی متاثر کرتا ہے۔آلودگی سے پاک ٹرمینل کا قیام بیماریوں سے بچاؤ اور ماحول کو صاف رکھنے میں معاون ثابت ہو گا۔

جیوانی کی بندرگاہ

جیوانی صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر کا ایک قصبہ ہے۔جیوانی کی تجارتی بندر گاہ  اسی قصبے کے نام سے منسوب ہے۔یہ خلیج عمان کے ساتھ ایران کی سرحد سے34  کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔گوادر کی بندرگاہ سے 80  کلومیٹر کی دوری پر ہونے کی وجہ سے جیوانی عنقریب اہم تجارتی مرکز بن جائے گا۔

جیوانی کا ساحل مینگروو کے جنگلات سے اٹا پڑا ہے۔ساحل کے گرد جنگلات نایاب نسل کے زیتون کے  درختوں  اور سبز سمندری کچھووں کا مسکن ہیں۔حکومت کی طرف سے ماہی گیری کی مراعات اور ماورائے ساحل  ڈرلنگ کی اجازت سمندری حیات کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔پاکستان سالانہ  128ملین ڈالر کی مچھلی برآمد کرتا ہے۔ جس کا  10فیصد  بلوچستان  برآمد کرتا ہے۔ جیوانی کے ساحل سے پکڑی جانے والی مچھلی اپنے ذائقے اور معیا ر کی وجہ سے پوری دنیا میں پسند کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: سیلفی بناتے ہوئے مرنے کے مشہور واقعات

جیوانی کے ساحل کے قریب مچھلی منجمد کرنے کے بیشمار پلانٹ ہیں۔جہاں مچھلی منجمد کرنے کے بعدپوری دنیا میںسپلائی کی جاتی ہے۔جیوانی سٹریٹیجک اہمیت کی حامل بندر گاہ ہے۔خلیج فارس کی طرف جانے والے راستے جیوانی سے ہو کر گزرتے ہیں۔جیوانی پاکستان اور ایران کی سمندری سر حد پر   واقع ہے۔

اسی اہمیت کے پیش نظرجیوانی کی بندر گاہ پر ایک چھوٹانیول بیس بھی قائم کیا گیا ہے۔نیز جیوانی کے ساحل کے قریب  1700 میٹر کے رن وے پر مشتمل ایک چھوٹا ائر پورٹ ہے۔جو دفاہی اور تجارتی ضروریات کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔جیوانی کی تجارتی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے جیوانی سے گوادر تک مکران کوسٹل ہائی وے تعمیر کی گئی ہے۔

کیٹی بندر پورٹ

کیٹی بندرصوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع ایک قدیم بندر گاہ ہے۔انیسویں صدی میں کیٹی بندر علاقے کی سب سے خوشحال اور ترقی یافتہ بندر گاہ تھی۔کیٹی بندر کے  باشندے بڑے فخر سے دعوی کرتے ہیں کہ انیسویں صدی میں کیٹی بندر نے کراچی میونسپل کمیٹی کو قرض دیاتھا۔کیٹی بندر 1935ء  سے آپریشنل نہیں ہے۔سمندری لہروں  نے بندرگاہ کے کھنڈرات کو بھی تباہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

مقامی باشندوں کا دعوی ہے کہ کیٹی بندر دراصل دیبل کی بندرگاہ ہے۔جو سندھ کے راجہ داہر کے زمانے میں تجارت اور دفاع کا مرکز تھی۔راجہ داہر کی قید میں ایک مسلمان بیٹی کی پکار پر عراق کے مسلمان حاکم حجاج بن یوسف نے  اپنے  نڈر  ، بہادر اور جری  سپہ سالا رمحمد بن قاسم کو راجہ کی سرکوبی کیلئے بھیجا تھا۔ محمد بن قاسم نے اسی بندرگاہ پر بحری جنگی جہاز لنگر اندازکیے تھے۔

گڈانی بندرگاہ

گڈانی  کی بندر گاہ کراچی  سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔گڈانی کی بندر گاہ پر امیگریشن کی سہولت موجود نہیں ہے۔امیگریشن سے متعلق تمام معاملات کراچی بندرگاہ کے امیگریشن پر مکمل کیے جاتے ہیں۔گڈانی کی بندر گاہ پر جہاز لنگر انداز کرنے پر کوئی  خاص پابندی نہیں ہے۔

جہاز بیس دن تک لنگر انداز ہو سکتاہے۔گڈانی میں دنیا کا تیسرا بڑا شپ بریکنگ یارڈ ہے۔یارڈ میں 132جہاز توڑنے کے پلاٹ ہیں۔شپ بریکنگ یارڈ سمندر کے کنارے پر دس کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل ہے۔1980ء میں گڈانی کو دنیا کا سب سے بڑا شپ بریکنگ یارڈ ہونے کا عزاز حاصل تھا۔جس کے ملازمین کی تعداد تقریباً تیس ہزار تھی۔

انڈیا میں النگ  اور بنگلا دیش میں چٹاگانگ کے مقام پر زپ یارڈ کی تکمیل سے گڈانی ریٹنگ میں تیسرے نمبر پر آ گیا تھا۔حکومت پاکستان کی سکریپ پر ٹیکس میں چھوٹ دینے سے  جہاز توڑنے کی صنعت کودوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا ہے۔گڈانی میں جہازوں کو توڑ کر سالانہ ایک ملین ٹن سٹیل حاصل کیا جاتا ہے۔جس کی بڑی مقدار مقامی منڈیوں میں فروخت کی جاتی ہے۔گڈانی میں سالانہ 125  بحری جہاز بشمول سپر ٹینکرز سکریپ کرنے کی کپیسٹی موجود ہے۔

 پسنی کی بندرگاہ

صوبہ بلوچستان  کے ضلع گوادر کی تحصیل پسنی  میں موجود پسنی کی بندر گاہ کراچی سے تین سو کلو میٹر کے فاصلے پر مکران کے ساحل پر واقع ہے۔پسنی کی بندر گاہ سے اعلی معیار کی مچھلی پکڑ کر کراچی اور تربت کی مچھلی مارکیٹوں میں بیچی جاتی ہے۔

پاکستان ائر فورس، نیوی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کا مشترکہ ائر فیلڈ موجود ہے۔ جہاں سے روزانہ تجارتی اور دفاعی مقاصد کیلئے  پسنی  سے کراچی تک کمرشل فلائٹس جاتی ہیں۔ حکومت پاکستان نے پسنی کے قریب شادی کور سٹوریج ڈیم کی منظوری دے دی ہے۔جو علاقے کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں معاون  ثابت ہو گا۔

اورمارا کی بندر گاہ

اور مارا  مکران کے ساحل پر واقع ایک چھوٹی بندرگاہ ہے۔ یہ کراچی سے 450  کلومیٹر کے فاصلے پر صوبہ بلوچستان کے شہر پسنی کے قریب واقع ہے۔ اورمارہ کی بندر گاہ  پر پاکستان نیوی کی جناح نیول بیس ہے اوردفاعی وفوجی  حوالے سے خاص اہمیت کی حامل ہے۔اورمارا پر ایک چھوٹا ائرپورٹ ہے جہاں فوکر طیارے لینڈ کر سکتے ہیں۔اورمارہ ایک قدیم ساحلی قصبہ ہے۔

سکندر اعظم نے سندھ فتح کرنے کے بعد اپنی فوج کے ہمراہ یہاں کچھ دن قیام کیا تھا۔سکندر اعظم کا  اوموز نامی بہادر اور نڈر جرنیل  اس مقام پہ راہی عدم آباد ہوا تھا۔اسی جرنیل کے نام پر اورمارہ کا نام زبان زد عام ہوا تھا۔مقامی آبادی کی گزربسر مچھلی کے شکار سے ہوتی ہے۔ مکران کوسٹل ہائی وے کی تعمیر سے اورمارا کی تجارت اور صنعت  ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہو چکی ہے۔

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close