Main Sliderافسانے

یہ کون لوگ ہیں!

دِل دہلا دینے والی خبر تھی،لاہور میں ایک اور خودکش دھماکہ، تیس ہلاک، دوسو سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔اس نے بے چینی سے چینل بدلا،ہر نیوز چینل پر یہی خبر مختلف شہ سرخیوں کے ساتھ چل رہی تھی۔

تفصیلات بیان کی جا رہی تھیں، واقعے کو مختلف انداز سے ہر چینل پیش کرنے کی کوشش کر رہا تھا،تجربات پیش کیے جا رہے تھے،حکومت اور اپوزیشن کے رہنمائوں کے حسب سابق”  پر زور مذمتی بیان”داغے جا رہے تھے،ہر طرف خون بکھرا تھا، آہیںتھیں، دْکھ ،غصہ اور نفرت تھی،منافقانہ رویے تھے۔کچھ دیر خاموشی سے دیکھتے رہنے کے بعد اِیک عجیب سی بے چینی اور اْکتاہٹ نے لے لی ،دماغی نسوں پر کچھ ایسے بوجھ محسوس ہوا کہ  یوں لگا مزید کچھ دیر یہی کچھ چلتا رہا تو کوئی نس دبائو نہ برداشت کرتے ہوئے پھٹ جائے گی۔اس نے نہایت غصے کے ساتھ ٹی وی کا بٹن بند کیا،ریموٹ کنٹرول پٹخا اور کمرے سے باہر نِکل گیا۔

شام تک وہ دوستوں کے ساتھ اِدھر اْدھرگھومتا رہا ،وقتی ہلے گلے نے اُس کے مزاج پرکافی بہتر اثرات مرتب کیے، رات کا وقت تھاجب وہ گھر میں داخل ہوا، کافی بہتر موڈ کے ساتھ وہ کھانے کی میز پر آیا تھا کہ اس کی بڑی بہن بھی آئی ہوئی تھیں اور گھر میں کافی گہما گہمی اور رونق دِکھتی تھی، کھانے پر بھی کافی اِہتمام نظر آرہا تھا،کہیں کِسی قیامت کے ”اثرات” دو ر دور تک نظر نہیں آرہے تھے۔ کہا جا سکتا ہے،یہ دہشت گردی ،یہ لہو کی ارزانی ،یہ قتل و غارت بھی جیسے اَب زندگی کے ”معمولات”کا حصہ بن چکی تھی اور معمول کی باتوں پر افسردگی یا غم، خوشی یا دکھ کا اِظہار بھی معمول کے مطابق ہی کیا جاتا ہے۔ قوم نے جیسے اِس معمول کو بھی زندگی کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیا تھا کہ جو زندہ تھے اْنھیں تو آخر زندہ رہنا تھا اور جب زندہ رہنا تھا تو پھر زندگی کے سب دھندے،پھندے ساتھ تھے۔یہ بے حسی تھی یا کہ نعمت،زندگی رکی نہیں تھی، رواں دواں تھی،کیا کہا جا سکتا ہے!

وہ بھی انہی میں سے تھا،اِن جیسا ہی تھا، ہاں بس کبھی کبھار قنوطیت کا دورہ پڑ جاتا اور زندگی کے رویوں اور بد صورتیوں پر رک کر غور کرنے لگتا مگر پھر جھٹک کر آگے بڑھ جاتا۔اَب بھی وہ یوں ہی سب کچھ جھٹک کر میز پرآیا تھا،کھانا پلیٹ میں ڈالتے ہوئے یونہی ٹی وی پر نِگاہ پڑی تو جیسے دِل اچاٹ سا ہو گیا حالانکہ کوئی اِشتہار چل رہا تھا مگر آنکھوں کے سامنے صبح کے مناظر گھوم گئے، وہ لہو،قتل و غارت یوں لگا۔۔۔ کہ نوالہ حلق میں پھنس سا گیا ہے ۔ پھر ٹی وی پر خبر یں دی جانے لگیں۔ صبح ہونے والے واقعے کی تفصیلات کو دْہرایا گیا۔اِس کے بعد خودکش حملہ آور کے بارے میں بتایا گیا ،مرنے والوںکی فہرست اور تصاویر دی جا رہی تھیں۔وہ یونہی بے تو جہی اور بے دلی سے دیکھ رہا تھا کہ اچانک سامنے نظر آنے والی تصویر نے اْسے گھما کر رکھ دیا۔

یوں محسوس ہوا کہ زمین و آسمان یکجا ہو کر گردش کر رہے ہیں ،س کے وجود میں دھماکے ہونے لگے ،ارد گرد جیسے زلزلہ سا آگیا جس کی لپیٹ میں جیسے سب کچھ آگیا تھا ۔وہ دیوانہ وار ٹی وی سکرین کی طرف لپکا اور اْسے قریب سے تھام کر غور سے دیکھنے لگا جیسے اسے کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو مگر نہیں۔۔۔  سامنے وہی ہستی تھی۔۔۔ وہ خاتون وہ مشفق عورت جسے اْس نے اپنی ماں کے بعد سب سے زیادہ چاہا تھا ، جس کی عزت کی تھی ، جو اسے صورتِ مریم لگا کرتی تھی،؛وہ اس حادثے کی نظر ہو گئی تھی اور پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ کسی میں حوصلہ نہیں پڑ رہا تھا کہ اسے چُپ کروائے۔اس کی دیوانگی اور جنون سے سب واقف تھے مگر حوصلہ تو دینا ہی تھا ۔بمشکل تمام اسے اْس کے کمرے میں پہنچایا گیا سب نے حسبِ سابق تسلی و تشفی دینے کی کوشش کی مگر وہ خاموشی سے سَب سنتا رہا آخر اْس کی بہن نے ماں کو اِشارہ کیا کہ فی الحال اْسے آرام کرنے دیا جائے۔

اور اب جاوید تھا اورخیالات کا اiک جم غضیر،یادوں کی یلغار تھی۔ عجب بے چینی تھی جن میں کبھی کوئی یاد سَر اٹھاتی تو لب مسکرانے لگتے اور کبھی کوئی یاد سسکتی تو آنکھیں اشکوں سے ڈوب جاتیں۔ اس گھر سے اس کا تعلق جڑنے کا واقعہ بھی اپنی نوعیت میں بڑا ہی عجیب تھا۔ اس کے لب ان لمحات کو سوچتے ہوئے حزیں مسکراہٹ لیے پھیل گئے اور وہ ان لمحات کی رو میں ڈوب گیا۔

وہ سکول کے بعد ماسٹر صاحب کے گھر ٹیوشن پڑھنے جس راستے سے جاتا تھا وہاں بھینسیں بندھی ہوتی تھیں، ایک دِن جب وہ تین چار چھٹیاں کرنے کے بعد وہاں سے گزرنے لگا تو ایک نیا چھوٹا سا کَٹا وہاں بندھاتھا بمشکل ایک دودِن کا !وہ کٹا اسے اِتناپیارا لگا، اس کی چمکیلی سیاہرنگت،چہرے اور آنکھوں کی معصومیت کہ وہ اْسے ٹھٹھک کر دیکھنے لگا۔ شاید بچپن نے بچپن کو کھینچا تھا اپنی طرف یا پھر بچپن ہی اِتنی معصومیت کا دور ک ہے کہ زندگی کا ہر رنگ اچھا، پیارا اور نیارا لگتا ہے۔ زندگی کا وہ دور، آنکھ کی وہ سادگی کہ کٹے میں بھی حسن ڈھونڈلیتی ہے یا پھربچے کِسی جانور کے بھی ہوں وہ خوبصورت ہوتے ہیں، کیا بچپن اِتنی خوبصورت چیز ہے؟!!!

وہ آگے بڑھا اور پیار سے اْس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا، معصوم جانور نے بھی گویا پیار کی زبان سمجھ کر ممنونیت اور جوابی کاروائی کے طور پر اس کے ہاتھ کو چاٹا اور سَر اِدھر ادھرہلایا، رکھوالا اسے دیکھ کر ہنسا اور بولا ”ول سوہنا اے پتر، ہے نا” وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ پھر اس کا روز کا یہ معمول بن گیا وہ جب وہاں سے گزرتا تو اس کٹے کے سر پر ہاتھ ضرور پھیرتا، وہ جانور بھی جیسے اس کا منتظر ہوتا جو نہی وہ قریب آتا وہ فوراً آگے بڑھتا اور اپنی مانوسیت اور واقفیت کا اِظہار کرتا۔ جاوید کچھ دیر وہاں ٹھہر کر آگے بڑھ جاتا۔ ایک دِن جب وہ گلی کے اس موڑ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک اسی کاہم عمر بچہ اس کَٹے کو پیار کر رہا تھا۔ وہ کچھ دیر دیکھتا رہا وہ بچہ اسے بڑا اچھا اور معصوم سا لگا وہاں، اس محلے میں یوں بھی اس کے دوست، ساتھی نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس کے محویت سے دیکھنے پر وہ فوراً آگے بڑھا اوربولا ”میں جاوید ہوں اور یہ میرا بھی دوست ہے ”وہ بولا” اور میرا نام عاصم ہے”۔۔۔

یہی لمحہ تھا جہاں سے اِس لازوال دوستی کا آغاز ہوا اور وہ عاصم کے گھر میں ایک فرد کی طرح داخل ہو گیا، جہاں اسے عاصم کی ماں مِلی جب پہلی باراس کی ملاقات ہوئی تووہ دوپٹے کے ہالے میںلپٹی غالباً نماز سے فارغ ہوئی تھیں۔ اس نے آہستہ سے سلام کیا انہوں نے جواب دیا عاصم نے بتایا کہ یہ میرا نیا دوست ہے جاوید، انہوں نے بڑھ کر اسے پیار کیا وہ اسے اِتنی خوبصورت اور مقدس لگیں کہ جیسے واقعی جنت سے نیچے زمین پر آگئی ہوں،اس جیسے بچے کو اِس طرح پیار کرناجیسے پَری نے جادو کی چھڑی سے چھو کر ہمیشہ کے لیے اپنا اسیر کر لیا۔۔۔ اس گھر میں جانے کی وجہ ہمیشہ اسے عاصم کی امی ہی لگا کرتی تھیں۔وہ پہلی ملاقات ہمیشہ کے لیے اس کے زہن پر نقش ہوگئی اور آج ٹی وی میں حادثے کی نظر ہونے والی خاتون، اس کو اپنا اسیر کر لینے والی پری، فناکے پردوں میں گم ہوگئی تھی۔فنا تو مقدر ہے اِنسان کا مگر آپ کاکوئی پیارا آپ سے یوں چھین لیا جائے تو!!!

اس کی سوچیں آوارہ بھٹکتی پھرتی تھی دِل کو کسی پل قرار نہیں آرہا تھا۔اس کا کمرہ اور باقی ماندہ گھر اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے ،ایک وہی تھا جو جاگ رہا تھا،سلگ رہا تھا،یادوں کے بوجھ سے چٹخ رہا تھا،ایک آگ سی تھی ان دیکھی جس نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ،کیا ہو رہا ہے اس ملک میں ؟!اس کاذہن کِسی طرح یکسو نہیں ہو رہا تھا،سوچیں،خیالات اْمڈے چلے آ رہے تھے اور یادیں !! اس گھر سے وابستہ یادیں اور سکھ!!!

اس پہلے دِن کی ملاقات کو یاد کرکے جانے کیوں غیر متوقع طور پر اسے وہ کٹا بڑا یاد آیا کہ عاصم سے ملنے کی خوشی اور جوش میں وہ اسے پیار کرنا بھول گیا تھا اور اگلے دِن بھی وہ عاصم کے ساتھ وہاں سے گزر ا تو اس نے اسے نظر انداز کر دیا، اپنی باتوں میں اس نے توجہ ہی نہ دی کہ وہ اس جانور کے پاس سے یونہی گزر آیا ہے۔ دو دِن نظر انداز کیے جانے کے بعد جب تیسرے دِن اس نے اسے پیار کرنا چاہا تو کٹے نے اسے دیکھ کرمنہ پھیر لیا نہ وہ آگے آیا نہ اسے دیکھ کر دم ہلائی،نہ اس کے ہاتھ کو سونگھ کر چاٹنے کی کوشش کی۔۔۔

اسے محسوس ہوا جیسے وہ معصوم جانور اپنے نظراندازکیے جانے پر اپنا احتجاج جِتا رہا ہے۔وہ ازالے کے طور پر کافی دیر اس کے پاس کھڑا معذرتی جملے ادا کرتا رہا اور اسے پیار کرتارہا اور پھر اسے یوں لگا کہ کَٹے نے اسے معاف کر دیا،اس جانور کی معصوم سی محبت نے اس کے دِل کو بڑا متاثر کیا تھا اور پھر وہ رستے میں آتے جاتے اسے پیار کرنا نہیں بھولتا تھا۔ایک دو دفعہ تو ایسا ہوا کہ وہ اس کٹے سے پیار کر رہا تھا کہ عاصم کی امی جنھیں سب کی دیکھا دیکھی وہ بی جان کہتا تھا،گزریں، اِس پیار کے مظاہرے کو دیکھ کر بڑی پیاری چنچل سی مسکراہٹ ان کے لبوں پر پھیل گئی۔۔۔وہ مسکراہٹ یاد کر کے دِل پھیل کر سکڑا۔

وہ دو تین دِن سے موسمی بخار کی زد میں تھا اس لیے نہ ہی ٹیوشن جا سکا نہ عاصم کے گھر ۔عاصم اسے گھر دیکھنے آیا تھا، اسے دیکھ کر اس کادِل بی جان کو دیکھنے کو مچل اٹھا ۔وہ چپکے سے اس کے ساتھ گھر سے نِکل آیا۔یوں بھی اس کے گھر میں بچوں کے اِتنے ناز نہیں اٹھا ئے جاتے تھے۔وہ دونوں گھر سے نِکلے جب گلی کے موڑ پر بھینسوں کے باڑے کے پاس پہنچے تو اس نے دیکھا کہ اْس کا پیار ادوست ،وہ کَٹا اسے دیکھ کربے قراری سے آگے بڑھا ،اسے بڑی بے چینی سے اپنی تھوتنی سے سونگھنے لگا،اپنا سراس کے ساتھ رگڑنے لگا،وہ کچھ اِس طرح سے اپنی بے چینی اور تکلیف کا اظہار کر رہا تھا کہ جاوید کو لگا کہ بس زبان سے ابھی کہہ دے گا کہ”اے دوست کہاں تھے تم،میں اداس تھا تمھارے بغیر”۔یا شاید اس بے زباں کو اپنے محسوسات کو عیاں کرنے کے لیے زباں در کار رہی نہ تھی وہ جو بتا نا چاہتا تھا، وہ جاوید سمجھ گیا تھا۔جاوید کے دِل پر اس کی پہلے کی خفگی اور پھر اس انسیت کے مظاہرے نے بڑا گہرا اثر ڈالا تھا۔۔۔

اَب جو وہ اِن یا دوں کے البم کو کھولے بیٹھاتھا،کنگھال رہا تھا اور جو سمجھ رہا تھا کہ وہ یادیں گرد آلود دھندلی ہو چکی ہیں مگر ہوا یہ کہ گرد ہٹا تے ہی وہ قیمتی پتھر کی طرح چمکنے لگی تھیں،مہک رہی تھیںان سے وابستہ ہر احساس ہر کیفیت کو دوبارہ اس نے اپنے دِل پر دستک دیتے محسوس کیا،ان لمحوں کو گویا دوبارہ جیااور یوں لگا کہ وہ تو بے خبری اور بے شعوری کا زمانہ تھا اور اَب اس نے خود پر نئے دروا ہوتے محسوس کیے۔

گو کہ بظاہر کوئی ربط نہ تھا مگر آج اسے اپنے دونوں بچھڑے دوست، ہمدرد و مونس بی جان اور وہ بے زبان جانور بے طرح یاد آئے۔۔۔پھر اس کی ذہنی رو جیسے بھٹک کر موجودہ حالات پر آٹھہری۔۔۔ سوچنے لگا کہ آخر یہ کون لوگ ہیں؟اپنے ہیں؟کیا کوئی اپنا اِتنا سنگدل ہو سکتا ہے؟سنگدلی اور بے حسی میں مثال تو جانوروں کی دی جاتی ہے تو کیا یہ جانور بن چکے ہیں؟اگر یہ جانور بن چکے ہیں تو یہ کِس نوع کے جانور ہیں؟وہ معصوم بے زباں کَٹا بھی توجانور ہی تھا؟اس نے اپنی خفگی بھی جتائی، اس کے غلط رویے پر احتجاج کا اِظہار بھی کیا!!! اور اس کی غیر موجودگی اور تکلیف کو محسوس کرکے اپنی محبت اور بے چینی بھی جتائی۔۔۔تو کیا یہ اِن مویشیوں سے بھی گئے گزرے ہوگئے ہیں؟اِن کے منہ کو خون لگ گیاہے، کیا یہ مردار خور ہیں؟

”یہ بد روحیں بن گئی ہیں کیا ؟!! یہ اپنے تھے بھی تو اَب اپنے نہیں رہے مگر کیا کوئی اپنا اِس حدتک بھی بیگانہ ہو سکتا ہے؟کیا اِن کو ہماری آہیں،سسکیاں نہیں سنائی دیتیں؟اِن کو ہماری غیر موجودگی،ہماری لاشیں نہیں تڑپاتیں؟کیا بی جان جیسے فرشتوں کو کوئی اپنا مار سکتا ہے؟کیا کبھی اِن کو وہ زمانہ یاد نہیں آتا کہ جب یہ ہمارے تھے،یا پھر یہ کوئی بیگانے ہیں؟یا یہ اپنے اور بیگانوں کے بیچ بھید بھرے نقاب لگا کر سنیدھ لگا رہے ہیں ؟یہ کون ہیں؟” وہ زور زور سے چیخنا”  یہ کون ہیں؟یہ اپنے تھے تو جانوروں سے بھی بد تر کیوں ہوگئے ہیں،خون کی لکیریں کھینچ دی ہیں اِنہوں نے اور اگر غیر ہیں تو پھر اپنے کہاں چلے گئے؟؟؟وہ اِ ن کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں وہ تو حق کے لیے اْٹھے تھے، اِتنا لہو دیکھ کر وہ کیوں خاموش ہیں؟میں تو غیر تھا میں غیر ہوں مگر یہ تو اپنوں کے لہو سے ہاتھ بھگو رہے ہیں مگر نہیں، اِنہوں نے مجھے بھی کہاں چھوڑا اِنہوں نے میری ماں مریم ،میری پری مجھ سے چھین لی،اِنہوں نے کِسی کو نہیں چھوڑا،مجھے مارتے تو میں سمجھتا کہ میں اِن میں سے نہیں مگر یہ تو اپنوں کو مار رہے ہیں،کیا اِنہیں اپنا نہیں سمجھتے؟ کیا خود کو، اپنے آپ کو اِتنا بر تر سمجھتے ہیں کہ معصوم اِنسانوں کو حشرات الارض کی طرح مَسل رہے ہیں؟اگر کوئی اِن جیسا نہیں،اس کو جینے کا حق نہیں؟وہ یا تواِن جیسا ہو جائے یا پھر مر جائے یا مار دیا جائے؟اوہ خدایا یہ کون لوگ ہیں؟ اپنے ہیں؟ بیگانے ہیں؟کیا کر رہے ہیں ؟” جاوید ہذیانی انداز میں چیخنے لگا” نہیں نہیں یہ اپنے نہیں ہو سکتے یہ تو خون چوسنے والی جونکیں ہیں،اِنہیں صرف خون چاہیے،اِن کا کوئی دین کوئی مذہب نہیں،نفرت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا،یہ نہیں جانتے اِن کی داڑھیاں اور لبادے سب خون آلودہ ہو چکی ہیں ،یہ جنتوں کی تلاش میں نِکلے تھے اور غیروں کے آلہ کار بن گئے اور وہ غیر۔۔۔ وہ عفریت۔۔ ۔”پھر سارا گھر اکٹھا ہو گیا،بالآخراسے سکون آور دو گولیاں دے کر لِٹا دیا گیا،آہستہ آہستہ سب اس کے کمرے سے چلے گئے۔

اَب پھر وہ تھا اور اس کی سوچیں اور نیندکہیں دور آنکھوں سے روٹھی بیٹھی تھی ، اس نے بی جان سے مل جانے کے بعد جیسے زندگی کے نئے سبق سیکھے تھے،ذہن کو دوسرے زاویے ملے تھے، جہاں سے زندگی کو اس نے ہر رخ سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی تھی، بی جان سے مل کر اس کی بہت سی محرومیوں کا ازالہ ہو گیا تھاجیسے پارس کِسی خاک کو بھی چھُولے تو سونا کردے ،کچھ ایسا ہی ہوا تھا اس کے ساتھ،کہاں وہ؟!کیا تھا وہ؟!۔۔۔ اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا،لوئر مڈل کلاس کی عیسائی فیملی کا فردجو اپنے سیاہ رنگ و روپ اور مخصوص نقوش سے د ْور سے پہچانے جاتے ہیں،عزت دار مگر غریب گھرانہ۔

اس کا باپ کلرک تھا اور ماں ایک سکول ٹیچر کی بیٹی،پانچ بہن بھائی تھے وہ،دو بھائی اور ایک بہن اس سے بڑے تھے اور ایک بہن اس سے چھوٹی۔مدقوق سی اْس کی ماں ۔۔۔ گھر کے ہر کونے سیغربت اور گندگی ڈیرے ڈالے نظر آتی۔اس پر مستزاد یہ کہ ان کا گھر جس علاقے میں تھا یہاں ان کی اپنی کمیونٹی نہ ہونے کے برابر تھی ہاں بڑی سڑک اور لمبی گلی عبور کرکے عیسایوں کا محلہ تھا،اِس محلے میں کوئی ان کو زیادہ منہ نہ لگاتا تھا بلکہ والدین اپنے بچوں کو،ان بہن بھائیوں سے کھیلنے سے منع کرتے تھے ان کے گھر کِسی غمی خوشی پر پڑوس کی خواتین ان کے گھر کھانے پینے سے پرہیز کرتیں،ان کے ہاں سے جانے والی چیز چپکے سے تلف کردی جاتی بلکہ اگر کبھی وہ کِسی بچے کے ساتھ اس کے گھر چلا جاتا تو اسے ایک مخصوص گلاس میں ہی پانی دیا جاتا اور کِسی اور  کے ہاں بھلا کہاں، ایک پاس ککو ہی تھا جس کے گھر وہ کبھی کبھار چلا جاتا تو اس کی بد مزاج دادی فوراً کہتی”ارے میرے دیوان پر نہ بِٹھائیو، نمازپڑھنی ہے پلید ہو جائے گا”وہ گھبرا کر باہر نِکل آتا اور بار بار دیکھتا کہ اسے ایسا کیا لگا ہے؟!بلکہ کئی بار تو اس نے سنا بھی کہ لوگ ان کے لیے”چُوڑے ”کا لفظ اِستعمال کرتے تھے حالانکہ وہ ایک غریب مگر عِزت دار عیسائی خاندان سے تعلق رکھتا تھا شاید غربت ہی اس کا سب سے بڑا جرم تھا،ایسے میں اسے لگتا کہ وہ کِسی پرائے دیس میں رہتا ہے اور جب کبھی سڑک اور لمبی گلی پار کرکے اپنے نانا اور چچا کے گھر جاتا تو اسے لگتا کہ وہ واقعی کِسی اپنی دنیا میں آگیا ہے مگر ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ،گھر کے حالات اِجازت ہی نہ دیتے تھے۔

اِن حالات میں اس کااحساس کمتری اور محرومیوں کا شکار ہو جانا کوئی اچھنبے کی بات تو نہ تھی،اپنی اِن محرومیوں میں گھر ہوا تھا  جب اس کی دوستی عاصم سے ہوئی اور وہ بی جان سے مِلا۔اسے لگا کہ بی جان کو اِس بات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کہ وہ عیسائی ہے، نہ ہی اس گھر میں اس کاکوئی گلاس پلیٹ مخصوص کیا گیابلکہ عاصم اور وہ بعض اوقات ایک ہی پلیٹ میں بھی کھالیتے تو وہ کنکھیوں سے دیکھتا کہ کہیں بی جان کے ماتھے پر کوئی یتوری تو نہیں، کہیں وہ عاصم کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اِشارہ تو نہیں کر رہیں کہ وہ ایسا نہ کرے مگر ایساکبھی نہیں ہوا۔۔۔

وہ جو اس کے دِل میں مسلمانوں کے خِلاف نفرت جنم لے رہی تھی، احساسِ محرومی بڑھ رہا اور نفرت سے ضرب کھا رہا تھاجب وہ لوگ اسے خود سے ہر لحاظ سے بہتر و برتر نظر آتے حتیٰ کہ اکثریت شکل و صورت میں بھی، تو کبھی اسے اپنی سیاہ رنگت پر غصہ آتا اور کبھی اپنی غریبی پر اور کبھی وہ ان سے شدید نفرت محسوس کرتا لیکن اِن سب سلگتے جذبات پر تب چھینٹے پڑ گئے جب وہ بی جان سے مِلا،انھوں نے منہ سے تو کچھ نہ کہا بس اپنے عمل اور رویے سے اسے بتایا کہ وہ بالکل ان جیسا ہے جبکہ جاوید کی وہ منافق پڑوسنیں جو منہ پر تو دینِ اِسلام میں رنگ نسل کی ممانعت جیسی باتیں کرتی نہ تھکتیں اور اندر سے دِل ان کے بڑے پلید تھے، ہر دِل میں ذات برادری ،رنگ نسل سے گند ھا بت دھرا تھا اور کہلاتے وہ۔۔۔ج اوید نے بڑی تلخی سے سوچا”جیسے ہم منافق ویسے منافق لیڈر ڈھونڈ لیتے ہیں جو تمام عمر صِرف باتیں کرتے ہیں ،بیان داغتے ہیں،ان کے بیان سنو تو لگے، اِن سے زیادہ تو ہماراہمدرد کوئی ہو نہیں سکتا لیکن اِن کا قبلہ و کعبہ صِرف اِن کے مفادات ہیں،اِن کے رویے صِرف محروم پیدا کرتے ہیں اور محروم کبھی کبھار دہشت گرد بن جاتے ہیں، بنا دیے جاتے ہیں اور بنا لیے جاتے ہیں۔”

یہ سوچتے سوچتے جاوید کے دِل میں ایک خیال زہریلے ناگ کی طرح لہرایا ،میں بھی تو محروم و مجبور تھا نفرت کا شیطان مجھ پر بھی غلبہ پا لیا کرتا تھا مگر اِتنی نفرت کہ آپ کِسی کو ایسے ماردیں جیسے قصائی بکرے کا قیمہ بنا دیتا ہے،نہیں نہیں۔۔۔ اس نے سینے پر کراس بنایا” میرے یسوع باپ نے تو کہا کوئی ایک تھپڑ ماردے تو دوسرا گال آگے کردو۔نفرت نے میری بی جان کو ماردیا،اس بی جان کو جِس نے اِس کالے سیاہ بد صورت بچے کو محرومیوں کے دھویں میں مزید سیاہ ہونے سے بچایا۔” اور بی جان کی میٹھی نرم یادوں میں وہ ایک بار پھر سسکنے لگا، اِنہی ٹھنڈی میٹھی یادوں میں سسکتے سسکتے آخر نیند آ ہی گئی!

صبح اٹھتے ہی اس نے فون پر عاصم سے ربطہ کیا اور وہ دونوں بے آواز سسکتے رہے۔جاوید نے اسے پہلی فرصت میں اپنے پہنچنے کی اِطلاع دی،عاصم نے بتایا کہ لاش کی حالت کے باعث تدفین رات ہی کردی گئی تھی تو وہ پھو ٹ  پھوٹ کر رو پڑا۔

جب جاوید اور عاصم دسویں جماعت میں آئے تو عاصم اپنے خاندان کے ساتھ لاہور شفٹ ہو گیا۔ رابطہ بس فون پر یا کبھی آنے جانے تک محدود ہو کر رہ گیا۔جاوید کے دونوں بڑے بھائی دسویں کر کے لیبر کے طور پر کینیڈا چلے گئے، وہاں سے جب بھاری رقوم آنے لگیں تو گھر کے حالات بدل گئے، معاشرے میں پوزیشن بدلی تو لوگوں کے رویوں کی بدصورتی میں بھی کمی آگئی، انہوں نے اچھے علاقے میں گھر خرید لیا جہاں کچھ کرسچین خاندان بھی آباد تھے،بی جان کا دیا اعتماد اور تربیت اور حالات کی تبدیلی نے جاوید کے مزاج میں بہت بہتری پیدا کی اور اَب وہ پہلے جیسا کرخت اور تلخ نہ رہا،وہ جو پہلے رویہ تھا محبت کی چاہ رکھتے ہوئے نفرت کی اِنتہا کر دینا۔۔۔  بی جان نے اسے ایک نارمل اِنسان کے طور پر جینے کا سلیقہ سکھایا،حیرت انگیز طور پر مسلمان کا تصور ہی اس کے ذہن میں بدل دیا ۔اپنے بچپن کے تصور کو سامنے رکھتا تو وہاں کامسلم ایک منافق ،عیار جھوٹا اور متکبر نظر آتا اور اَب جب کبھی سوچنے بیٹھتا تو مسلم لفظ ذہن میں آتے ہی بی جان کے پیکر میں ڈھل جاتا۔

وہ بی جان جو لمبی تسبیحوںکی نمائش نہیں کرتیں تھیں نمازوں نفلوں کو بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کرتی تھیں گِن گِن کر اپنی کِتاب قرآن نہیں پڑھتیں تھیں مگر پھر بھی۔۔۔ ! مسلم اور اِسلام کو جِتنا سمجھا، ان سے سمجھا باتوںباتوں میں بڑے طریقے سلیقے سے کہ بچے کو بوجھ بھی نہ لگے اور اپنے رسول کی باتیںا ور واقعات سمجھا کر عمل کی ترغیب دینا،اس کی بائیں ہاتھ سے کھانے کی عادت انہوں نے ہی چھڑوائی تھی اور بڑے پیارے طریقے سے اِس کی حکمت بھی بتادی۔جاوید کو صاف ستھرا رہنے کی تلقین کرتے ہوئے بتایا کہ دیکھنا روز نہانے سے تم پیارے اور گورے لگو گے۔نہا کر گردن پر پائوڈڑ لگانے پر آئینے نے کہا،وہ اتنا ہی کالا ہے، تو جاوید نے بڑی دل گر فتگی سے بی جان سے پوچھا تھاکہ وہ انھیں برا کیوں نہیں لگتا، وہ عیسائی ہے تو آپ مجھ سے نفرت کیوں نہیں کرتیں؟ تو انھوں نے جواب میں پوچھا بائبل پڑھتے ہو؟اس نے نفی میں سر ہلایا تو بی جان نے اپنی کِتاب میں سے ماں مریم،یسوع مسیح کا قصہ سنایا اور اپنے نبیۖکے کِتنے واقعات بتا کر سمجھایا کہ وہ کیسے نفرت کرسکتیں ہیں اس سے!اور آج وہ بی جان اِتنے علموں والی ،عقلوں مرتبوں والی، وہ جو تقابلی ادیان کی پر وفیسر تھیں، وہ بی جان اپنے کِسی” مسلمان بھائی” کے ہاتھوں۔۔۔مگر کون بتائے گا کہ وہ مارنے والا واقعی مسلمان ہی تھا مگر گمراہ کر دیا گیا تھا، اپنی نفرت،محرومیوں کے شیطان کے ہاتھوں؟!!! یا پھر وہ کوئی غیر تھا ؟کِسی غیر نے نقب لگائی ہے؟پھر سلگتا چیختا سوال اْس کے ذہن میں جا گا ”آخر یہ کون لوگ ہیں؟!”

اگلے دِن جاوید لاہور عاصم کے گھر پہنچ گیا۔وہ گھر بی جان کے بغیر کِتنا سونا اور ویران لگ رہا تھا مگر ہر شے میں ان کی خوشبو بسی تھی،ان کے سر سراتے ملبوس کی،ان کی مسکراہٹ کی،گھر کی سوگو اری چیخ چیخ کر کہتی تھی کہ جانے والا جا چکا۔بی جان کے کالج سے اور دیگر عزیز و اقارب تعزیت کے لیے آتے رہے اور پھر رات کو وہ اور عاصم تھے اور گزرے روز و شب کی باتیں تھیں،چھوٹے چھوٹے واقعات ننھی منی یادیں جیسے تسبیح کے دانوں کی طرح گرتی امڈتی چلی آتی تھیں جنھیں دہرا کر وہ دونوں کبھی روئے اور کبھی مسکرائے۔جاوید سو گواری سے بولا ”عاصم مجھے لگتا ہے کہ تمھاری میری دوستی کے درمیان جو زنجیر تھیِ باہم ملاتی تھی آج وہ ٹوٹ گئی ہے، کہیں تم مجھ کو دھتکار تو نہ دو گے”  تو عاصم نے بے اِختیار اسے اپنے سینے سے بھینچ لیا”کیا کہتے ہو پگلے۔۔۔ ایسی باتیں کرکے میری ماں کی محنت اکارت نہ کرو ،وہ اعتماد اور اعتبار کا پودا جو ا نھوں نے لگایا تھا، اسے مت اکھاڑو،جو تسلیم کی خوتمھیں ڈالی تھی، جو رَب کی وحدت و حقانیت پر بھروسہ کر کے عمل کرنا سکھایا تھا تو میرے بھائی تو میرا ہے، میرا اپنا۔۔۔  اور بی جان جیسا عاقل، فاضل نہ سہی مگر ان کاپر تو ہوں، ان کی خوشبو مجھ میں ڈھونڈلیا کرنا ” اور دونوں یار گلے لگے پھر سے اشکبار ہوگئے۔

باتیں ہوتی رہیں، رات ڈھلتی رہی دوبار چائے بنا کر دونوں نے پی۔ باتیں کرتے کرتے عاصم نے جاویدسے پوچھا”یار تجھے وہ کَٹاّ یاد ہے؟!  پرسوں جب تیرا فون آیا توجانے کیوں وہ مجھے بڑا یاد آیا، بڑا پیارا جانور تھا”جاویدروتے روتے ہنس پڑا،بی جان کی یادوں کے ساتھ وہ مجھے بڑا یاد آیا اور تجھے وہ پِلےّ یا د ہیں جو تیرے گھر کے باہر اپنی ماں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے اور غوں غاں کی آوازیں نکالتے ،ہم آتے جاتے بس ذرا ٹھٹھک کر انھیں دیکھا ہی کرتے تھے یاشاید ایک دو دفعہ پچکارا ہو۔۔۔ ہوا یہ کہ جو نہی ہم آئے یادروازہ کھلا،وہ بھاگ کر ہماری طرف آجایا کرتے،پیروں میں لوٹنے کی کوشش کرتے اور بی جان نے ہنس کر کہا تھا ”تم لوگوں کے دوستوں میں اضافہ ہو گیا ہے، خیریت تو ہے جانور تم لوگوں کو اِتنا پسند کیوں کرتے ہیں،کچھ اپنا ئیت کا معاملہ لگتا ہے” اور ہم دونوں بیک وقت شرمندہ بھی ہوئے اور خوب ہنسے بھی۔۔۔ اور یہ چپ ان دونوں میں کہیں اندر شور کرتی تھی کہ گر جانور بھی محبت کی زبان سمجھتا ہے تو آخر یہ کون لوگ ہیں؟!!!

Tags
Show More

مزید پڑھیں

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close