Main Sliderفیچر

افغان جنگ کے 17 سال۔۔۔

2001 سے شروع ہونے والی افغان جنگ اپنی تمام ترخونریزیوں کے ساتھ جاری ہے۔ افغانستان میں جنگوں کے ایک وسیع پس منظر پر نظر دوڑاتے ہیں۔

افغانستان میں جنگوں کے ایک وسیع پس منظر ہے۔ دسمبر 1979میں سوویت یونین نے افغانستان پرحملہ کیا۔ 1980 میں اسامہ بن لادن نے سوویت یونین کے خلاف القاعدہ کی بنیاد رکھی۔ سوویت یونین کے خلاف امریکا، پاکستان، چین اور سعودی عرب نے مجاہدین کو سپورٹ کیا اور مئی 1989 میں مجاہدین اور القاعدہ نےسوویت یونین کو شکست دی۔

افغان جنگ

1994 میں ملا محمد عمر نے قندھار میں طالبان کی بنیاد رکھی اور ان کے لیڈر بنے۔ 27ستمبر1996 میں طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کی بنیاد رکھی۔ اسامہ بن لادن نے افغانستان میں القاعدہ کا کمانڈ سنٹر بنالیا۔

2001 میں9/11  کا واقعہ پیش آیا جس نے دنیا کا رخ ہی بدل کررکھ دیا۔ اس کے بعد امریکا نے القاعدہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ 7 اکتوبر2001 کو امریکا نے برطانیہ اور کینیڈا کی مدد سے "آپریشن اینڈیورنگ فریڈم” کے نام سے افغانستان پر باقاعدہ حملہ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: یمن کی جنگ، کون کون کتنا خون بہا رہا ہے؟

آپریشن میں نیٹو سمیت 40 ممالک کے130000 فوجی شامل ہو گئے اور طالبان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ دسمبر2001 میں تورا بورا کے پہاڑوں میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے پر حملہ کیا گیا مگر وہ بچ نکلے۔

2002 میں طالبان مخالف پشتون رہنما حامد کرزئی کو ملک کاعبوری سربراہ بنایا گیا جو بعد میں 2004 میں صدر بنے۔ مارچ 2002 میں مشرقی صوبہ پکتیکا میں "آپریشن اینا کونڈا” ہوا جس میں طالبان کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔

افغان جنگ

2006 میں نیٹو فورسزنے افغانستان کے جنوبی صوبوں قندھار، اورزگان اورہلمند میں طالبان کو شکست دے دی۔ جس کے بعد ملا عمر نے افغان اور نیٹو فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر جھڑپوں کا اعلان کر دیا۔ 2008 کے آخرتک طالبان مشرقی علاقوں پکتیکا، ہلمند، زابل اور قندھار کے مختلف حصوں پر دوبارہ قابض ہو گئے۔

امریکا نے طالبان کے بڑھتے حملوں کا علاج ڈرون حملوں کی صورت میں نکالا جس میں طالبان کابہت نقصان ہوا۔ 2010 میں سب سےزیادہ 115 ڈرونز حملے ہوئے جن میں زیادہ تر معصوم شہری نشانہ بنے۔ سال 2010 جنوبی حصوں میں طالبان کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ فضائی حملوں میں طالبان کے300 کمانڈروں سمیت سیکڑوں جنگجو مارے گئے۔

پڑھنا نہ بھولیں: ڈکٹیٹر شپ سے جمہوریت تک کے سفر کی داستان لہو رنگ

2مئی2011 کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکا اور نیٹو فورسز نے افغانستان میں اپنی فوج کم کرنا شروع کر دی۔ 26اکتوبر2014کو امریکا، برطانیہ اور نیٹو نے باقاعدہ طور پر اپنے آپریشن ختم کردیئے اور سکیورٹی کنٹرول افغان آرمی کو دے دیا۔ 2015 میں امریکا اور 39 ممالک پر مشتمل نیٹو افواج نے "آپریشن فریڈم سینٹینل” کا آغازکردیا۔

جنوری 2015 میں داعش نے افغانستان میں کنڑ اور ننگرہار میں اپنے قدم جمانا شروع کیے اور ولایاخراسان کے نام سے اپنی برانچ کا اعلان کیا۔ 29جولائی 2015 میں افغان حکومت نے طالبان لیڈر ملا عمر کی موت کی خبردی۔ ملا عمر کے بعد طالبان کے امیر ملا منصور بھی 21 مئی 2016 کو امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔

افغان جنگ

یہ تاثر دیا جا تا ہے کہ طالبان کا افغانستان کے بیشتر حصے پر قبضہ ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ طالبان کا صرف 30 فیصد علاقوں پر قبضہ ہے جن میں قندھار، جلال آباد، پکتیکا، ہیرات، فاراح، کنڑ، غزنی، قندوز، سرائےپل، مزار شریف، بدغیس، سمنگان، بدخشاں اور ہلمند کے کچھ اضلاع شامل ہیں۔ کل ملا کر59 کے قریب اضلاع طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ 56 فیصد سے زیادہ حصہ افغان حکومت کے مکمل کنٹرول میں ہے، جس میں کابل، بدخشاں، لوگر، وردک، بامیان، ہیرات، سمنگان، بلخ، اورزگان، نمروز، قندھار، جاوزجان اور باغلان کے229 اضلاع شامل ہیں۔

افغانستان میں اس وقت طالبان جنگجوؤں کی تعداد 77000 جبکہ افغان آرمی کی تعداد 207000 ہے۔ نیٹو فورسز کے41 ممالک کے 16000 سکیورٹی اہلکار ہیں جن میں 8475امریکا اور 1300 اہلکارجرمنی کے ہیں۔

ضرور پڑھیں: انسانیت کا مذہب

افغان جنگ میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کا ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق 17 سال سے جاری جنگ میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افغان شہری زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہوچکےہیں۔1 لاکھ کے قریب شہری گھربار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اب تک 3546 غیرملکی فوجی ہلاک ہو چکے  ہیں، امریکا کے 2412، برطانیہ کے456اور کینیڈا کے158 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ 22773 فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں امریکا کے 19950 فوجی شامل ہیں۔

افغان جنگ

جنگ میں45700 سے زائد افغان فوجی اپنی دھرتی پر جان قربان کر چکے ہیں۔ تیس ہزار سے زائد طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔ جنگ ابھی جاری ہے۔

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close