بلاگ

انسانیت کا مذہب

ترقی یافتہ، مہذب اور فلاحی ممالک کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں ہر انسان کو برابری کے حقوق حاصل ہیں۔انصاف سب کے لیے یکساں ہے۔

بڑے چھوٹے اور امیر غریب میں کوئی فرق روا نہيں رکھا جاتا۔ بچوں،عورتوں اور بزرگوں کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔ انسانيت کو رنگ، نسل، مذہب اور برادری پر فوقیت دی جاتی ہے۔

ہمارا پیارا دین اسلام بھی ہمیں ایسا ہی درس دیتا ہے۔ انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے۔عورتوں، بچوں، مردوں اور بزرگوں کے بارے ميں واضح اور مفصل احکامات موجود ہیں۔ کسی عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر فوقیت دیئے بغير انسانیت کو فوقیت دی گئی ہے۔ انصاف کے ترازو میں سب کو برابر تولنے کے واضح احکامات موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہمارے معاشرتی نظام کا سب سے بڑا خلا!

وطن عزیز کی طرف دیکھیں تو یہاں انسان اور انسانیت کے بے وقعت ہونے کا احساس شدید سے شدید تر ہو جاتا ہے۔ رنگ ، نسل، برادری، مذہب اور مالی حیثیت کو انسانیت پر فوقیت دی جاتی ہے۔ اخبارات کے صفحات انسان اور انسانیت کی تذلیل کے واقعات سے بھرے ہوتے ہیں۔ انصاف بھی سب کے لیے برابر نہیں۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اغیار کی برائیوں سے تو فوراً متاثر ہو جاتے ہیں مگر ان کی خوبیوں اور اچھائیوں پر آنکھیں موند لیتے ہیں۔ ہم نہ تو ترقی یافتہ ممالک اور نہ ہی دین اسلام کے معاشرتی نظام   کو اپنا سکے۔

 

قارئین، انسان اور انسانیت کو مقدم رکھے بغیر ایک جدید، مہذب اور فلاحی ریاست کا تصور بھی محال ہے اور اس کے بارے میں سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close