کہانی کارنر

ایک اپنے، ایک پردیس

ہم جب بھی آپس میں ملاقات کرتے تو اس کی زبان پر ایک ہی بات ہوتی وہ کہا کرتا تھا "یار اب واپس جا کر گھر سمبھالنا ہے ۔۔۔۔ بہت جمع کر لیا پردیس میں رہ کر ۔۔۔۔ گھر والوں سے دور ۔۔۔ ماں باپ سے دور ۔۔۔۔ بچوں سے دور ۔۔۔۔ صرف اس لالچ میں کسی طرح یہاں یہ کر مزید کچھ وقت محنت مزدوری کر لوں۔۔۔۔

بچے بھی جوان ہو رہے ہیں ان کی شادیاں بھی کرنی ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن گھر والوں سے جب بھی اپنے آنے کی خواہش کا ذکر کرتا ہوں تو ایک ہی جواب ملتا ہے ۔۔ ابھی بچوں کے اخراجات بڑھیں گے لہٰذا آپ ابھی چھوڑ کر آنے کی بات نا کریں ۔۔۔۔” کہتے ہوئے اس کے لہجے میں افسردگی چھا جاتی ۔۔۔

ایک دن اچانک وہ خوشی سے پھولا شاید میرا ہی انتظار کر رہا تھا ۔۔۔

ملتے ہی پہلی خبر سنائی ۔۔۔

"رات گھر بات ہوئی تھی ۔۔۔ گھر والے کہ رہے تھے ایک سال اور لگا لیں پھر آجانا چھوڑ کر ۔۔۔”

اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔۔۔

ہاں ۔۔۔۔ جانتا ہوں وہاں مشقت تھوڑی زیادہ کرنی پڑے گی لیکن میں اپنوں کے درمیان تو رہوں گا ۔۔۔

جانے کے دن جوں جوں قریب آرہے تھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے اسے ذہنی سکون میسر آ گیا ہو ۔۔۔۔ کسی بھٹکے ہوئے مسافر کو منزل مل گئی ہو ۔

روانگی سے ایک دن پہلے اطلاع ملی کہ کمپ میں کھانے کے دوران کسی آدمی کو اٹیک ہوا ہے اور اسے فوری ہسپتال لے گئے ہیں ۔۔۔۔

طبیعت بے چین ہو گئی سن کر ۔۔۔

ابھی اسی سوچ میں تھا کہ کون ہو سکتا ہے کہ ایک کال آئی ” ۔۔۔۔ یار ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ فلاں دوست کو اٹیک ہوا ہے ۔۔۔ ایمبولنس میں لے گئے مگر راستے میں ہی فوت ہو گیا ۔۔۔ ”

یہ خبر بجلی بن کر مجھ پر ٹوٹ پڑی ۔۔۔۔۔

دیوانہ وار ہسپتال کا رخ کیا ۔۔۔۔ تب تم لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوائی جا چکی تھی ۔۔۔۔

وہ جسے صرف ایک سال گزارنے کا کہا گیا تھا ۔۔۔۔ اب تمام عمر پردیس کا ہو کر رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی یادیں انہیں فضاوں میں شامل ہو کر رہ گئیں ۔۔۔۔

ہاں اپنوں میں گیا ضرور مگر  ۔۔۔۔ چار کندھوں کے سہارے ۔۔۔۔۔

میرا ایمان ہے کہ موت صرف اللہ ہی کے اختیار میں ہے ۔۔۔ سبب جو بھی ہو ۔۔۔۔ لیکن کیا بُرا تھا جو اسے مزید پردیس میں رہنے کا پابند نا بنایا جاتا؟

کیا گارنٹی تھی کہ اس طرح کرنے سے اخراجات پورے ہوجائیں گے؟

اگر گھر والے پہلے پہل اس کی خواہش کو مان کر اللہ پر توکل کرتے ہوئے کہہ دیتے ۔۔۔  آجاؤ فوراً۔۔۔ ہم گزارہ کر لیں گے ۔۔۔ تو شاید آخری چند سانسیں اپنوں میں دم توڑ دیتیں ۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔۔ مگر میں جانتا ہوں ۔۔۔۔۔ موت جب جہاں آنی ہے آ کر رہتی ہے ۔۔۔ اگر مگر ۔۔ شاید جیسے الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔

دل میں ایک خلش سی محسوس ہوتی ہے آج بھی ۔۔۔

محمد عبداللہ تارڑ کی ایک اور اچھوتی تحریر پڑھیں: قربانیوں کے عوض۔۔۔

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Check Also

Close
Close
Close