بلاگ

یمن کی جنگ، کون کون کتنا خون بہا رہا ہے؟

تحریر: علی سرفراز

2014 سے جاری یمنی فوج اورحوثیوں کی جنگ نے عام شہری کی زندگی تباہ کردی ہے۔2004 میں حوثیوں نے ملک میں خود مختار انتظامی یونٹ بنانے کے لیے صوبے”صعدہ” میں محدود بغاوت کی۔ 2011 میں حوثی قبائل کی کال پر صدر وقت علی عبداللہ صالح کے خلاف ملک گیر مظاہرے شروع ہوئے۔

2012 میں حوثی قبائل نے یک رکنی صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کیا، جس کے نتیجے میں”عبدربہ منصور ہادی” یمن کے صدر بنے۔ 2014 میں حکومت اور حوثیوں کے درمیان حتمی معاہدہ تشکیل پایا جس سے حوثیوں نے انکار کر دیا۔ کیونکہ معاہدہ کے تحت صدر ہادی کو مزید ایک سال کی توسیع دی جا رہی تھی۔

ستمبر 2014میں حوثیوں نے صنعا پر قبضہ کر لیا۔ جنوری 2015 میں حوثی باغیوں نے ہادی حکومت سے مستعفی ہونے اور ملک کو چھ وفاقی اکائیوں میں تقسیم کرنے کا معاہدہ کر لیا۔
21فروری کو سابق صدر "ہادی” عدن پہنچے اور حوثیوں کو باغی قرار دیا اوراعلان کر دیا کہ وہ اب بھی ملک کے صدر ہیں۔ عالمی طاقتیں مدد کریں تاکہ ملک سے بغاوت ختم کی جا سکے۔ تب سے اب تک یمنی فوج کو سعودی عرب، امریکا اور اتحادی افواج کی مدد حاصل ہے۔

سعودی قیادت میں موجود اتحادی افواج میں کویت اور بحرین کے 15،15جیٹ طیارے، مصرکے14، یو اے ای کے 30، سوڈان کے 3، موراکو اور اردن کے 6، 6 جبکہ سعودی عرب کے اپنے 100 جیٹ طیارے شامل ہیں۔

اتحاد میں قطر بھی شامل تھا لیکن 2017 کے بعد وہ نکل گیا۔ حوثیوں کو ایران اور حزب اللہ کی مدد حاصل ہے۔ سابق صدرعبد اللہ صالح اور ان کی حامی ریپبلکن گارڈز بھی حوثیوں کے ساتھ ہیں۔ جن کے پاس 2 لاکھ کے قریب فوج  ہے۔ القاعدہ کی مقامی دہشت گرد تنظیم انصار الشریعۃ اور داعش بھی ملک میں پنجے گاڑ چکی ہے۔ ان کے پاس 10 ہزار کے قریب جنگجو ہیں۔

اس وقت یمن میں دو دارالحکومت ہیں۔ حوثیوں نے” صنعا” اور منصور ہادی نے ” عدن ” کو دارالحکومت بنا رکھا ہے۔ حوثی باغی صنعا، سمیت شمالی صوبہ صعدہ، صوبہ تعز، النہضہ، حیفان، الحدایاہ اور القضا سمیت کئی علاقوں پر قابض ہیں۔ حکومتی افواج کو جنوبی علاقوں میں عدن، شقراء، وادیہ اور ماہرا جبکہ شمالی علاقوں میں البیہان، الب، مارب اور البقا پر مکمل کنٹرول ہے۔ القاعدہ  جنوب میں  اہوار، آذان، ہبان اور بوروم کے کئی حصوں میں قدم جمائے ہوئے ہے۔ جبکہ داعش "لودا” اور "ردا” میں حکومتی اور حوثی باغیوں پر برسرپیکار ہے۔

رپورٹس کے مطابق اب تک جنگ میں 50 ہزار ہلاکتیں اور ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی ہوئےہیں۔ اتحادی افواج کے مطابق اب تک 11 ہزار حوثی باغی مارے جا چکے ہیں۔ ہادی افواج کے بھی 20 ہزار فوجی لقمہ اجل بنے۔ 3ہزار سعودی، یو اے ای کے 200، سوڈان کے 412، ،بحرین کے 8، قطر کے 4 اور مراکش کا ایک فوجی جان  سے جا چکا ہے۔ جنگ میں 15 امریکی کنٹریکٹر بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اب تک 20 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایک کروڑ لوگ پانی، خوراک اور توانائی کی ضروریات سے محروم  ہیں جن میں 85 لاکھ بچے شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے یمن کو دنیاکا بد ترین انسانی بحران قرار دیا ہے۔ اس جنگ میں سعودی اتحادی افواج پر انسانی حقوق کی پامالی کی سنگین الزامات بھی لگ چکے ہیں۔ اگست 2018 میں سعودی افواج نے اسکول بس پر فضائی حملہ کیا تھا جس میں50 بچے جاں بحق ہوگئے اور77 افراد زخمی ہوئے تھے۔ جنگ ابھی جاری ہے۔

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close