شاعری

تمہارے پھول

تم راستہ بھول کے بھٹکتی بھٹکتی یہاں آئی تھی

اور بنا پیچھے دیکھے چلتی چلی جا رہی ہو

تم نے راستے میں دو پھول توڑے تھے

ایک مُرجھا چکا ہے،

دوسرا تمہاری بند مٹھی میں ہے

جسے تم کھول کر دیکھنا نہیں چاہتی

تمہیں مرجھائے پھول کی خوشبو چھننے کا خوف ہے

تم اپنا ایک دوست کنویں میں پھینک آئی ہو

تمہارے گلے سے بندھا ڈھول ، پانی تک نہیں پہنچ سکتا

تمہیں تمہاری انا جھکنے نہیں دیتی

کنویں سے اپنے نام کی پکار سُن کر،

تمہارے کانوں نے تمہارے نام کی پہچان کھو دی ہے

تمہیں راستے میں کانٹے چبھے تھے

تم تکلیف سے ڈگمگائی تھی

اپنے ہاتھوں کو زخموں سے بچانے کی خاطر

تم نے کانٹوں کے ساتھ چلنے کی ٹھانی

تمہیں راستے کا ہر مسافر بچپن کا دوست لگتا ہے

نزدیک آنے پر معلوم ہوتا ہے، وہ اجنبی ہے

تم ہر نئے رشتے میں کچھ پرانا ڈھونڈ رہی ہو

تم کبھی اِس راستے میں سب بھول جاتی ہو

کبھی یہ راستہ تمہیں اجنبی لگتا ہے، اور تم

واپس پلٹ جانا چاہتی ہو

جہاں سے تم آئی تھی

تمہاری جیب میں ایک آیئنہ تھا

جو گم گیا ہے

تم خود کو دیکھنے کو ترس رہی ہو

تم سوچتی ہو تمہارا چہرہ بدل گیا ہے

اِس بدلے ہوئے چہرے کو کوئی نہیں جانتا

تمہیں یاد آتا ہے، وہ آیئنہ تم نے خود توڑا تھا

"نہیں! نہیں!_______وہ تو اک خواب تھا۔”

تم ایک پھولوں کی وادی تک پہنچ جاتی ہو

جہاں پھول ہر طرف کھِل چکے ہیں

مگر تم، اپنی مٹھی نہیں کھولنا چاہتی

سامنے وہ راستے ہیں _______جن کے لئے تم بھٹکی تھی

تم وہاں کے لئے دوڑنے لگتی ہو

اچانک تمہیں تمہارے پیرﺅں کا خیال آتا ہے

اُن میں کوئی کانٹا نہیں،

تم پھر بھی دوڑنا چھوڑ دیتی ہو

تم منزل کی طرف جا رہی ہو

تمہارے کانوں کی سماعت میں،

واپس وہ نام گونجنے لگتا ہے

وہ تمہیں پکار رہا ہے

تمہیں لگتا ہے نہیں، وہ خود کو پکار رہا ہے

تم سوچ میں پڑ جاتی ہو

"کنویں میں کہیں میں خود تو نہیں۔۔۔۔؟”

مرجھایا ہوا پھول واپس کھلنے لگتا ہے

تم مٹھی کھولتی ہو

مٹھی میں بند پھول مُرجھا چکا ہے

تمہاری آنکھیں رونے لگتی ہیں

تمہارے لب مسکرا رہے ہیں

تمہاری آنکھیں چمک جاتی ہیں

مرُجھایا ہوا پھول کھِل چکا ہے

Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close