شاعری

شکستہ دل کی امید تھا جو نہیں رہا وہ

غزل

شکستہ دل کی امید تھا جو نہیں رہا وہ
مسرتوں کی نوید تھا جو نہیں رہا وہ

جو آرزوؤں کے گھر تھے سارے ہوئے مقفل
اور ان گھروں کی کلید تھا جو نہیں رہا وہ

دکاں رضاؤں کی آج تک بھی سجی ہوئی ہے
تمہارا ذوقِ خرید تھا جو نہیں رہا وہ

اداس چہرہ دریدہ دامن اور عید کا دن
وہ میرا سامانِ عید تھا جو نہیں رہا وہ

دعائیں حیدر ہوئیں جو رد تو یہ راز جانا
قبولیت کی رسید تھا جو نہیں رہا وہ

Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close