Main Sliderشاعری

اکیس صبحوں کا سفر

پہلی صبح میں نے اپنا دل
تمہارے ہاتھوں کے کنول میں دیا
وہ پہلے سے بہتر دھڑکنے لگا
اور میرا چہرہ جگر سے زیادہ سرخ ہو گیا

دوسری صبح سے پہلے
میں تمہارے پیروں کے پو شیدہ راز
جان چکا تھا!
اور تیسری صبح کو
تمہارے ناخن بڑھنے لگے تھے

چوتھی صبح تمہاری نیم مسکراہٹ کا لہجہ
مجھے جگا رہا تھا
پانچویں صبح کے ذرا پرے
میرے سینڈوچ میں
تمہارے بھیگے بالوں سے گرے قطرے
ناچ رہے تھے

چھٹی صبح ہمارے دانتوںمیں
تھل کی ریت کی یاد پس رہی تھی
ساتویں صبح تک
سردیاں آ چکی تھیں
اور آٹھویں صبح کے بعد
میں منزل کی سمت
گھٹنوں کے بل بھاگ رہا تھا

نویں صبح اوس کے قطرے
تمہارے گالوں پر جم گئے تھے
میرا نام سرِعام پکارا جانے لگا
وہ دسویں صبح کا آغاز تھا

اگلی صبح تم نے اپنی خوشبو کا دوپٹہ
میری آنکھوں پر باندھ دیا

باروھویں صبح کے ساتھ
میں نے اپنے بال کتروا لئے

تیرھویں صبح ہم اپنی فلم کا سکرپٹ بھول کر
زندگی کو عکس بند کرنے میں جُت گئے

چودھویں صبح تمہاری چیخ کی گرج
میرے کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی

تمہاری آنکھوں میں پندھرویں صبح
میرے احساس کے بادل منڈلا رہے تھے

سولھویں صبح کا سورج
تمہاری شرماہٹ سے لال ولال تھا
اور اٹھارویں صبح ہم جھیل کنارے
جنگل میں بے دار ہوئے تھے

انیسویں صبح ہونے تک
تم اپنے ہاتھوں سے
پالنے کو ایک بچہ
چاند سے اتار لائی تھیں

بیسویں صبح ہم راکھ سے
اک شام نکال لائے اور صبح تک
اُسے کریدتے، ٹٹولتے، پرکھتے رہے
اور اکیسویں صبح وہ رات میں بدل گئی
جس کے بعد_______اگلی صبح کے انتظار میں
ہمیں صدیوں کی شب بیداری کا روزہ رکھنا پڑا

Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close