شاعری

بساط جاں پہ ہاری جارہی ہوں 

بساط جاں پہ ہاری جارہی ہوں
میں سولی سے اتاری جارہی ہوں

مجھے معبد میں بھیجا جائے گا اب
میں داسی ہوں سنواری جارہی ہوں

مجھے صحرا صدائیں دے رہا ہے
بگولوں سے پکاری جارہی ہوں

میرے دکھ کو زرا سا دل سے سوچو
میں اپنے گھر میں ماری جارہی ہوں

گواہی کے لیے آدھی ہوں لیکن
برائے مرگ ساری جارہی ہوں

وہاں چاروں طرف شور سگاں ہے
جہاں سے میں گزاری جارہی ہوں

میں بیٹی بہن بیوی مہرافروز
سو ان رشتوں پہ واری جارہی ہوں

Show More

مزید پڑھیں

2 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close