شاعری

ملا نہیں تو کیا ہوا ، وہ شکل تو دکھا گیا

 

عجیب شخص تھا جو ایک روشنی دکھا گیا

قدم قدم پہ راہ میں چراغ سا جلا گیا

 

بریدہ سر وہ بے کفن مسافتوں میں دفن ہے

زمانے بھر کے دشت سے جو رہ گزر بنا گیا

 

مناتی کس لیے اسے جو بے سبب ہی چھوڑ کر

وفا کے سارے درس ہی بھلا گیا چلا گیا

 

درونِ درد سے وہ اشک آنکھ تک جو آ گیا

لہو کی بوند بوند میں شرار سا ملا گیا

 

عطا کا ایک لمحہ بھی ملا مجھے تو یوں لگا

ہمیشگی کی زندگی دلا گیا جِلا گیا

 

منافقوں کے شہر میں بیان درد کس سے ہو

کہ جو ملا دغا کیا ، نیا سبق سکھا گیا

 

حجاب رُت کی شام تھی ، بس اک جھلک کے نام تھی

ملا نہیں تو کیا ہوا ، وہ شکل تو دکھا گیا

Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close