فیچر

ڈکٹیٹر شپ سے جمہوریت تک کے سفر کی داستان لہو رنگ

آج جمہوریت کے ثمرات پوری دنیا پر ظاہر ہو رہے ہیں۔جمہوریت کی مضبوط عمارت کی بنیاد میں کروڑوں معصوم انسانوں کا لہو شامل ہے۔کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کا نذرانہ دے کر دنیا کے ماتھے پر جمہوریت کا تاج سجا۔آج جمہوریت ایک خوش رنگ اور مہکتے پھولوں کا گلدستہ ہے۔جس کی خوشبو چاردانگ عالم میں پھیلی ہے ۔ گذشتہ16صدیوں سے کروڑوں انسانوں نے ان پھولوں کی اپنے خون سے آبیاری کی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ابن آدم نے بے پناہ محنت، جذبے اورلگن سے پتھروں اور غاروں کے دورسے ہوائی جہاز،لیپ ٹاپ اور آئی فون تک کا سفرطے کیا۔انسان نے کینسر، ہیپاٹائٹس،ملیریا اور تپ دق جیسی مہلک اور جان لیوا بیماریوں کا علاج تو دریافت کر لیالیکن اپنے اندر موجود ہوس اقتدار اور کمزوروں کو زیر نگین کرنے کی شیطانی صفت اور بیماری پر قابو نہیں پا سکا۔

اقتدار، اختیاراور طاقت کا چابک جب بھی انسان کے ہاتھ میں آیا تو اس کی سفاکی،بے حسی اور تشدد پسندی نے اسے معصوم، بے گناہ اور لاچار عوام کا خون پانی کی طرح بہانے پر اکسایا۔مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے سپنوں کو سچ کرنے کے لیے کبھی بھائی نے بھائی کا گلا کاٹا ،کبھی بے گنا ہ عوام کے گھروں اور عزتوں کو جوتوں تلے روندا گیا،کبھی فصلوں اور باغات کو آگ لگا کر غریب سے اس کے منہ کا نوالہ تک چھین لیا گیااور کبھی دنیا فتح کرنے کا نعرہ لگا کر دنیا کے امن و امان کو برباد کیا گیا۔

ہوس اقتدارایک نشہ ہے جو انسانی عقل کو سلب کر لیتا ہے۔پھر چاہے پورا روم جل رہا ہو۔بادشاہ امن کی بانسری بجاتا رہتا ہے۔دنیا میں ہوس اقتدار کے نشے میں مست کئی ڈکٹیٹرز آئے جنہوں نے خون کی ندیاں بہائیں،انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے اوران کھوپڑیوں میںخون تک پیا۔اقتدار کی دیوی کے درشن کرنے کی خواہش میں انہوں نے خون آشام بھیڑیوں کا روپ دھارلیا۔ان سفاک بھیڑیوں کو انسانی خون کی ایسی لت لگی کہ کروڑوں بے گناہ انسانوں کا خون بہا کر بھی ان کوچین نہ ملا۔

دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قدرت بے گناہوں کا خون بہانے والے سفاک اور بے حس درندوں سے عبرتناک انتقام لیتی ہے۔ان کے پاس بہترین سواری، سونے کے محلات،اچھی خوراک اور مال و دولت کے بیش بہا خزانے تو ہوتے ہیں لیکن ان کی زندگی سے سکون چھین لیا جاتا ہے۔ان کی زندگی ایک بھکاری سے بھی بدتر ہوجاتی ہے کیوں کہ ایک بھکاری کو تو کہیں نہ کہیں سے خیرات مل جاتی ہے لیکن یہ درندہ صفت ڈکٹیٹرزتہی دست رہتے ہیں۔خدا ان کی زندگیوں کو دوسروں کے لیے نشان عبرت بنا دیتا ہے اورذلت آمیز موت ان کا مقدر ہوتی ہے۔دنیا کے خون آشام، جلادصفت اور ظالم ترین حکمرانوں میںاٹیلا،چنگیز خان،تیمور لنگ،آئیون چہارم اورملکہ میری اول سر فہرست ہیں۔

اٹیلا


اٹیلا وسطی یورپ کے ملک ”ہن” کامطلق العنان حکمران تھا۔جس کا مرکز موجودہ”ہنگری ”تھا۔وہ 434ء سے لے 453ء تک ، 21سال ہن کے تخت پر براجمان رہا۔ہن سلطنت کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا کہ یہ جرمنی سے کوہ یورال اور دریائے ڈینیوب سے بالٹک سمندر تک پھیلی ہوئی تھی۔اس دور کی سپر پاور روم کی حکومت اٹیلا کے خوف اور قہر سے تھر تھر کانپتی تھی۔

اٹیلا کو” خدائی تازیانہ” کہا جاتا تھا۔اٹیلا نے روم کی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔اس نے دو بار بلقان پر فوج کشی کی۔اٹیلا یورپ پر قہر الٰہی بن کر ٹوٹا۔یورپ میں اٹیلا کو لوٹ مار اور تشدد کا نشان سمجھا جاتا ہے۔اٹیلا نے ہن سلطنت کو موجودہ جرمنی،روس، یوکرین اور بلقان کے علاقوں تک پھیلا دیا تھا۔اٹیلا نے اپنے دور اقتدار میں لاکھوں انسانوں کو قتل کیا۔

چنگیز خان

 

چنگیز خان کی زندگی دکھوں، محرومیوں اور درد کا مرکب تھی۔اس کے با پ کو بچپن میں ہی زہر دے کر قتل کر دیا گیا۔چنگیز خان نے بچپن غلام کی حیثیت سے گزارا اور نو عمری میں اپنے قبیلے کی طرف واپس آیا۔چنگیز خان نے وحشی، اجڈ اور تہذیب سے نابلد قبائل کو متحد کیا اور دنیا کو فتح کرنے کا عزم لے کر قریبی ملکوں پر حملہ آور ہوا۔منگولیا کی ریاست طمغاج کے صدر دروازے کے پاس سفید برف کا ایک پہاڑ تھا۔یہ ان لوگوںکی ہڈیوں کا ڈھیر تھا جنہیں جنگ کے دوران قتل کیا گیاتھا۔مقتولین کے جسموں کی چربی پگھلنے سے زمین چکنی اور سفید ہو گئی تھی۔

ریاست طمغاج کی فتح کے وقت ساٹھ ہزار لڑکیوں نے وحشی، اجڈ اور درندہ صفت منگولوں سے بچنے کے لیے شہر کی فصیل کے برج سے نیچے گرکر خودکشی کر لی تھی اورکافی عرصہ تک ان کی ہڈیاں ایک ڈھیر کی شکل میں پڑی رہیںتھیں۔چنگیز خان کو جنگ کی سائیکالوجی کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔وہ پہلے دشمن کی طاقت،فوج اور عوام کی حکمرانوں سے محبت کو پرکھتا تھا۔

جوقوم اپنے بادشاہ کو پسند کرتی تھی اس پر کبھی حملہ آور نہیں ہوتا تھا۔جس ملک کی عوام بادشاہ کی پالیسیوں سے نالاں ہوتی تھی اور اپنی حالت کو بدلنے کیلئے جتن نہیں کرتی تھی۔چنگیز خان اس ملک کو تاخت و تاراج کر دیتا تھا۔سلطنت خوارزم کے بادشاہ محمد شاہ خوارزم کی پالیسیوں کی بدولت عوام اس سے نالاں تھے۔

مسلمانوں کی حالت بکھری ہوئی لکڑیوں کی مانند تھی۔جنہیں ایک ایک کر کے توڑا تو جا سکتا تھا۔لیکن ان سے کوئی بھی مثبت کام نہیں لیا جا سکتا تھا۔چنگیز خان نے محمد شاہ خوارزم کی طرف خیر سگالی کا سفارتی وفد بھیجا۔جسے سرحد پر قتل کر دیا گیا۔سفارتی عملہ کے قتل کو چنگیز خان نے جنگ کا اعلان سمجھا۔چنگیز خان نے محمدشاہ خوارزم کی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔اس کے بعد بغداد پر حملہ آور ہوا اور 3لاکھ سے زائد مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا۔

تیمور لنگ

 

چنگیز خان کی اولاد ہونے کا دعویدار تیمور لنگ ظلم و ستم اور تشدد پسندی میں چنگیز خان سے کسی طور پر بھی کم نہیں تھا۔اس کا دور حکومت 37سال پر محیط تھا۔تیمور کا دور حکومت ظلم وجبر کی داستان کا تھا ۔تیمور کا تعلق سمر قند سے تھا۔تیمور نے کاشغر، خوارزم،ہرات،نیشاپور،قندھار، سیستان اور آذر بائیجان سمیت40ممالک پر غاصبانہ قبضہ کیا۔

وہ روس ،ایران،شام اور ہندوستان پر بھی حملہ آور ہوا۔تیمور نے نہ صرف دنیا کے بڑے حصے پر حکمرانی کی بلکہ وحشت و بربریت اور ظلم و جبر کا بازار بھی گرم کیے رکھا۔وسط ایشیا سے نکل کر وہ ایران، ترکی،عراق اور شام پرقبضہ کرنے کے بعد ہندوستان پر حملہ آور ہوا۔

وہ راستے میں انسانی کھوپڑیوں کے مینار بناتا اوردشمنوں کو ناکوں چنے چبواتا ایک طوفان کی مانند بڑھتا چلا آ رہا تھا۔محتاط اندازے کے مطابق تیمور کی فوجی مہمات1 کروڑ اور 70لاکھ انسانوں کی موت کا سبب بنیں۔

آئیون چہارم

آئیون چہارم1547ء سے 1584ء تک روس کا حکمران رہا۔اس کے دور حکومت میںقازان اور استرا خان کی مسلمان حکومتوں پر قبضہ ہوا۔جہاں ظلم و ستم کا بازار گرم رکھا گیا۔آئیون چہارم نے نہ صرف مقبوضہ ملکوں کے عوام کو تہہ تیغ کیا بلکہ اس کا بیٹا اور بہو بھی ا س کے ظلم وجبر کی چکی میں پس کر راہی عدم آباد ہوئے۔جس کے بعد اس کے عنان حکومت اس کے معذوربیٹے فیوڈوکے ہاتھ لگا جو اس کی حکومت کے زوال کا سبب بنا۔

ملکہ میری اول

انگلینڈ کے شاہ ہنری ہشتم کی واحد اولاد ملکہ میری اول1553ء میں انگلینڈ کی ملکہ بنی۔وہ عیسائیوں کے فرقے رومن کیتھولک سے تعلق رکھتی تھی۔اس نے عیسائیوں کے فرقے پروٹسٹنٹ کے لوگوں کو اپنا فرقہ اپنانے پر مجبور کیااور فوری طور پر سرکاری مذہب عیسائیت کر دیا۔

ملکہ میری کی سوتیلی بہن الزبتھ پروٹسٹنٹ فرقے سے تعلق رکھتی تھیں۔ملکہ میری نے الزبتھ کو 1955ء میںٹاور آف لندن میں قید کر دیا۔
انگلینڈ کے لوگوں نے اس متعصب فیصلے کو ذاتی زندگی میں مداخلت سمجھا اور ملکہ میری اول کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔اس کے عہد میںپروسٹنٹ باشندوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔جس سے لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن گئے۔

Tags
Show More

مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close
Close